بی آر چوپڑہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

بالی وڈ فلم انڈسٹری کے نامور فلمساز اور ہدایت کار .ہندوستانی فلمی صنعت میں وہ ایک ستون مانے جاتے تھے۔ ہمہ جہت شخصیت کےمالک بلدیو جنہیں انڈسٹری بی آر کے نام سے جانتی ہے، عام روش سے ہٹ کر فلمیں بنانے کے لیے مشہور تھے۔

ابتدائی زندگی[ترمیم]

بلدیو راج چوپڑہ 1914 میں شہر لدھیانہ میں پیدا ہوئے تھے۔انہوں نے لاہور یونیورسٹی سے انگریزی لٹریچر میں ایم اے کیا لیکن تقسیم ملک کے بعد وہ دہلی منتقل ہوئے اور بعد میں ممبئی آ گئے۔بی آر چوپڑا نے بحثیت فلم سا ز 1946 میں کلکتہ میں فلم چاندنی چوک بنائی۔ اس فلم میں مسٹر ہانڈا نے بھی سرمایہ کاری کی تھی اور ان کا نام بھی فلمسا ز کے طور پر آیا تھا۔۔چاندنی چوک قیام پاکستان کے بعد ۔۔دیوانے دو کے نام سے سینما گھروں کی زینت بنی تھی۔۔( دیوانے دو ) نعیم ہاشمی کی پہلی فلم تھی اور اس فلم کے ہیرو نعیم ہاشمی اور ہیروئن۔۔اریکا تھیں۔۔اریکا نے بعد میں رخشی کے نام سے پاکستان کی بے شمار فلموں میں اداکاری کی ۔وہ ایک اچھی رقاصہ تھیں۔۔۔نعیم ہاشی کی اس پہلی فلم کے ہدایت کار ٹھاکر ہمت سنگھ۔۔موسیقار جی اے چشتی اور شاعر اور رائٹر سیف الدین سیف تھے

فلمی زندگی[ترمیم]

انہوں نے فلمی دنیا میں اپنا سفر فلمی صحافی کے طور پر شروع کیا لیکن بعد میں 1955 میں اپنی فلم کمپنی بی آر فلمز کے نام سے شروع کی۔ انہوں نے 1978 میں بنی فلم ’گھر‘ میں اداکاری کی۔ان کی ہدایت اور پروڈکشن میں کئی کامیاب فلمیں بنی ہیں جن میں قابل ذکر فلمیں ’نکاح‘، ’انصاف کا ترازو‘، ’پتی پتنی اور وہ‘، ’ہمراز‘، ’گمراہ‘، ’سادھنا‘ اور ’قانون‘ ہیں۔اس میں سے ہر ایک فلم سماج کے سلگتے مسئلہ پر مبنی تھی۔

معاشرتی موضوعات پر فلمیں[ترمیم]

ان کی فلم ’نیا دور‘ اپنے وقت کی کامیاب ترین فلم ثابت ہوئی لیکن اس کا موضوع اس وقت کی فلموں کی روش سے بالکل مختلف تھا۔ نئے مشینی دور میں مزدور اور مالک کا رشتہ۔ فلم ’نکاح‘ میں انہوں نے مسلم سماج میں طلاق جیسے حساس موضوع کو خوبصورتی کے ساتھ اجاگر کرنے کی کوشش کی تھی۔ وہیں ’گمراہ‘ میں شوہر کے ساتھ بے وفائی ’انصاف کے ترازو‘ میں کمسن لڑکی کی عصمت دری ’سادھنا‘ میں ایک طوائف کی داستان پیش کی تھی اور یہ ساری فلمیں اپنے وقت کی کامیاب ترین فلمیں ثابت ہوئیں۔

آخری فلم[ترمیم]

کافی عمر ہوجانے کے باوجود ان کے حوصلے پست نہیں ہوئے تھے انہوں نے اپنی عمر کے تجربے کو اپنے قلم کے ذریعہ دنیا کے سامنے رکھنے کی ایک کوشش فلم ’باغبان‘ میں کی۔فلم کی کہانی تین پیڑھیوں کے گرد گھومتی ہے۔امیتابھ بچن اور ہیما مالنی کی اداکاری والی اس فلم نے دنیا کے سامنے اس سچائی کو رکھا جسے دیکھ کر ہر کسی نے سمجھا کہ کہیں یہ کہانی اس کی کسی اپنے کی تو نہیں ہے۔

متنوع شخصیت[ترمیم]

بی آر کو متنوع شخصیت کا مالک کہا جا سکتا ہے۔انہوں نے فلم کے تقریباً ہر شعبہ میں طبع آزمائی کی۔ انہوں نے اگر فلمیں بنانا شروع کیں تو کچھ فلموں کی ہدایت بھی دی۔ فلموں کی کہانیاں بھی لکھیں اور فلم میں اداکاری بھی کی۔

اعزازات[ترمیم]

بی آر کو ان کی خدمات کے صلے میں کئی ایوارڈ بھی ملے۔1998 میں فلم انڈسٹری کا سب سے بڑا ایوارڈ دادا صاحب پھالکے ایوارڈ انہیں دیا گیا۔ فلم فیئر نے ان کی خدمات کے عوض انہیں فلم فیئر لائف ٹائم اچیومینٹ ایوارڈ سے نوازا۔1960 میں بنی ان کی فلم ’قانون‘ میں فلم فیئر نے انہیں بہترین ہدایات کار کا ایوارڈ دیا۔

خاندان[ترمیم]

بی آر کے بیٹے روی چوپڑہ آج ایک کامیاب فلمساز ہیں ان کے بیٹے بھی اب فلمسازی کے میدان میں قدم رکھ چکے ہیں۔ بی آر کے بھائی یش چوپڑہ انڈسٹری کے مانے ہوئے فلمساز ہیں جنہوں نے کئی کامیاب فلمیں انڈسٹری کو دیں اور اب ان کے بیٹے آدتیہ چوپڑہ بھی اس میدان میں ہیں۔


انتقال[ترمیم]

94 سال کی عمر میں 5 نومبر 2008 کو ان کا انتقال ہوا۔