تاریخ اسلام

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
Basmala.svg

Allah-green.svg
مقالہ بہ سلسلۂ مضامین
اسلام

تاریخ اسلام

عقائد و اعمال

خدا کی وحدانیت
قبولیت اسلام
نماز · روزہ · حج · زکوٰۃ

اہم شخصیات

محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم
ابوبکر صدیق · عمر فاروق · عثمان غنی · علی حیدر
احباب حضور اکرم
حضور اکرم کا خاندان
حضور اکرم کی ازواج
دیگر پیغمبران

کتب و قوانین

قرآن · حدیث · شریعت
قوانین · کلام
سیرت

مسلم مکتبہ ہائے فکر

سنی · شیعہ · صوفی

معاشرتی و سیاسی پہلو

اسلامیات · فلسفہ
فنون · سائنس
فن تعمیر · مقامات
اسلامی تقویم · تعطیلات
خواتین اور اسلام · رہنما
سیاسیات · جہاد · آزاد خواہی

مزید دیکھیئے

اسلامی اصطلاحات
اسلام پر مضامین کی فہرست


610ء میں قرآن کی پہلی صدا کی بازگشت ایک صدی سے کم عرصے میں بحر اوقیانوس سے وسط ایشیا تک سنائی دینے لگی تھی اور پیغمبرِ اسلام کی وفات (632ء) کے عین سو سال بعد ہی اسلام 732ء میں فرانس کے شہر تور (tours) کی حدود تک پہنچ چکا تھا۔

خلافت راشدہ[ترمیم]

632ء میں ابو بکرRAZI.PNG کے انتخاب پر خلافت راشدہ کا آغاز ہوا، انہوں نے حروب الردہ کے بعد سلطنت ساسانیان اور سلطنت بازنطینی کی جانب پیشقدمیاں کیں۔ 634ء میں ابوبکرRAZI.PNG کے انتقال کے بعد عمر بن الخطابRAZI.PNG خلیفۂ دوم ہوۓ ، کچھ لوگ اس انتخاب پر علیRAZI.PNG کے حق میں تھے۔ عمرRAZI.PNG نے ساسانیوں سے عراق (بین النہرینایران کے علاقے اور رومیوں سے مصر، فلسطین، سوریا اور آرمینیا کے علاقے لیکر اسلامی خلافت میں داخل کیۓ اور عملی طور پر دونوں بڑی سلطنتوں کا خاتمہ ہوا۔ 638ء میں مسلمان بیت المقدس میں داخل ہو چکے تھے۔ 644ء میں ابولولو فیروز کے خنجر سے عمرRAZI.PNG کی شہادت کے بعد عثمانRAZI.PNG خلیفۂ سوم منتخب ہوۓ اور 652ء تک اسلامی خلافت، مغرب کی حدوں (جزیرۃ الاندلس) میں پہنچ گئی۔ اگر تفصیل سے تاریخ کا مطالعہ کیا جاۓ تو یہ وہ عرصہ تھا کہ گو ابھی شیعہ و سنی تفرقے بازی کھل کر تو سامنے نہیں آئی تھی لیکن تیسرے خلیفہ عثمانRAZI.PNG کے انتخاب (644ء تا 656ء) پر بہرحال ایک جماعت اپنی وضع قطع اختیار کر چکی تھی جس کا خیال تھا کہ علیRAZI.PNG کو ناانصافی کا نشانہ بنایا جارہا ہے، اس جماعت سے ہی اس تفرقے نے جنم لیا جسے شيعة علی اور مختصراً شیعہ کہا جاتا ہے۔ عثمانRAZI.PNG کی شہادت کے بعد اب خلافت راشدہ کا اختتام قریب قریب تھا کہ جب علیRAZI.PNG خلیفہ کے منصب پر آۓ (656ء تا 661ء)۔ لوگ فتنۂ مقتلِ عثمانRAZI.PNG پر نالاں تھے اور علیRAZI.PNG پر شدید دباؤ ان کے قاتلوں کی گرفتاری کے لیۓ ڈال رہے تھے جس میں ناکامی کا ایک خمیازہ امت کو 656ء کے اواخر میں جنگ جمل کی صورت میں دیکھا نصیب ہوا؛ پھر عائشہRAZI.PNG کے حامیوں کی شکست کے بعد دمشق کے حاکم، امیر معاویہ نے علیRAZI.PNG کی بیت سے انکار اور عثمانRAZI.PNG کے قصاص کا مطالبہ کر دیا، فیصلے کے لیۓ میدان جنگ چنا گیا اور 657ء میں جنگ صفین کا واقعہ ہوا جس میں علیRAZI.PNG کو فتح نہیں ہوئی۔ معاویہ کی حاکمیت (660ء) مصر ، حجاز اور یمن کے علاقوں پر قائم رہی۔ 661ء میں عبد الرحمن بن ملجم کی تلوار سے حملے میں علیRAZI.PNG شہید ہوۓ۔ یہاں سے ، علیRAZI.PNG کے حامیوں اور ابتدائی سنی تاریخدانوں کے مطابق ، خلافت راشدہ کے بعد خلیفۂ پنجم حسنRAZI.PNG کا عہد شروع ہوا۔

661ء تا 1258ء[ترمیم]

حسنRAZI.PNG کی دستبرداری پر معاویہRAZI.PNG نے 661ء میں خلافت بنو امیہ کی بنیاد ڈالی اور ایک بار پھر قبل از اسلام کے امرائی و اعیانی عربوں کا سا اندازِ حکمرانی لوٹ آیا[1]۔ پھر ان کی وفات کے بعد ان کے صاحبزادے، یزید (679ء) نے محمدDUROOD3.PNG کے نواسے حسینRAZI.PNG کو 680ء میں جنگ کربلا میں شہید کر دیا اور سنی ، شیعہ تفرقوں کی واضح بنیاد ڈالی۔ 699ء میں فقہی امام ابو حنیفہ کی پیدائش ہوئی۔ بنو امیہ کو 710ء میں محمد بن قاسم کی فتح سندھ اور 711ء میں طارق بن زیاد کی فتح اندلس (یہی امام مالک کی پیدائش کا سال بھی ہے) کے بعد 750ء میں عباسی خلافت کے قیام نے گو ختم تو کر دیا لیکن بنو امیہ کا ایک شہزادہ عبدالرحمٰن الداخل فرار ہو کر 756ء میں اندلس جا پہنچا اور وہاں خلافت قرطبہ کی بنیاد رکھی، یوں بنو امیہ کی خلافت 1031ء تک قائم رہی۔ ادھر عباسی خلافت میں کاغذ کی صنعت ، بغداد کے بیت الحکمۃ (762ء) جیسے شاہکار نظر آۓ تو ادھر اندلس میں بچی ہوئی خلافت امیہ میں جامع مسجد قرطبہ جیسی عمارات تعمیر ہوئیں۔ 767ء میں فقہی امام شافعی اور 780ء امام حنبل کی پیدائش ہوئی۔ 1258ء میں شیعیوں کی حمایت سے[2] ہلاکو کے بغداد پر حملے سے آخری خلیفہ ، موسیقی و شاعری کے دلدادہ ، معتصم باللہ کو قالین میں لپیٹ کر گھوڑوں سے روندا گیا اور خلیفۃ المسلمین و امیرالمومنین کی صاحبزادی کو منگولیا ، چنگیز خان کے پوتے مونکو خان کے حرم بھیج دیا گیا، مصلحت اندیشی سے کام لیتے ہوۓ ہلاکو نے اہم شیعہ عبادت گاہوں کو اپنے سپاہیوں سے بچانے کی خاطر پہرے دار مقرر کر دیۓ تھے ؛ یوں خلافت عباسیہ کا خاتمہ ہوا۔ عباسیہ عہد ہی میں اسلامی تاریخ کو کوئی 700ء سے شروع ہونے والے[3] اسلامی عہدِ زریں کا دیکھنا نصیب ہوا اور مسلم سائنسدانوں کی متعدد عظیم کتب اسی زمانے میں تخلیق ہوئیں اور اسی زمانے میں ان کی سیاہی کو دجلہ کا پانی کالا کرنے کے لیۓ استعمال کیا گیا[2]۔

خلافت تا خلافتیں[ترمیم]

کہنے کو 1924ء تک گھسٹنے والی خلافت ، لغوی معنوں میں 632ء تا 1258ء تک ہی قائم سمجھی جاسکتی ہے[4] جبکہ فی الحقیقت اس کا عملی طور پر خاتمہ 945ء میں بنی بویہ کے ہاتھوں ہو چکا تھا[5]۔ ادھر ایران میں سامانیان (819ء تا 999ء) والے اور ایران کے متعدد حصوں سمیت ماوراء النہر و موجودہ ہندوستان کے علاقوں پر پھیلی غزنوی سلطنت (963ء تا 1187ء) والے ، عباسی خلافت کو دکھاوے کے طور برائے نام ہی نمائندگی دیتے تھے۔ فاطمیون (909ء تا 1171ء) ، تیونس میں عباسی خلافت کو غاصب قرار دے کر اپنی الگ خلافت (920ء) کا دعویٰ کر چکے تھے[6] اور اسپین میں عبد الرحمن سوم ، 928ء میں اپنے لیۓ خلیفہ کا لقب استعمال کر رہا تھا[5]۔ یہ وہ سماں تھا کہ ایک ہی وقت میں دنیا میں کم از کم تین بڑی خلافتیں موجود تھیں ، اور ہر جانب سے خلیفہ بازی اپنے زوروں پر تھی ، یہ بیک وقت موجود خلافتیں ؛ خلافت عباسیہ ، خلافت فاطمیہ اور خلافت قرطبہ (اندلسی امیہ) کی تھیں۔ 1169ء میں نور الدین زنگی نے شیر کوہ کے زریعے مصر اپنے تسلط میں لے کر فاطمیہ خلافت کا خاتمہ کیا۔ صلاح الدین ایوبی (1138ء تا 1193ء) نے 1174ء میں ایوبی سلطنت کی بنیاد ڈالی[7] اور 1187ء میں عیسائیوں کی قائم کردہ مملکت بیت المقدس سے بیت المقدس کو آزاد کروا لیا۔ 1342ء میں ایوبی سلطنت کے خاتمے اور مملوک (1250ء تا 1517ء) حکومت کے قیام سے قبل اس سلطنت میں ایک خاتون سلطانہ ، شجر الدر (1249ء تا 1250ء) نے بھی ساتویں صلیبی جنگوں کے دوران قیادت کی[8]۔

طوائف الملوک تا استعماریت[ترمیم]

1258ء میں چنگیز کے پوتے سے بچ نکلنے والے عباسیوں نے مصر میں مملوکوں کی سلطنت (1250ء تا 1517ء) میں خلفیہ کا لقب اختیار کر کے عباسی (فرار ہوجانے والی) خلافت کو مملوکوں کی عثمانیوں کے سلیم اول کے ہاتھوں شکست ہونے تک (1517ء) نام دکھاوے کی طرح قائم رکھا اور پھر سلیم اول نے آخری مصری عباسی خلیفہ، محمد المتوکل ثانی (1509ء تا 1517ء) کے بعد خلیفہ کا لقب اس سے اپنے لیۓ حاصل کر لیا۔ ھاشم ثانی کے بعد خلافت قرطبہ (756ء تا 1031ء) ختم ہوئی اور الاندلس چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں بٹ گیا۔ دولت مرابطین کے یوسف بن تاشفین نے 1094ء میں اسے پھر متحد کیا لیکن اس کے بعد دولت موحدون آئی اور معرکہ العقاب (1212ء) میں ان کی شکست پر دوبارہ اندلس کا شیرازہ بکھر گیا اور 1492ء میں ابو عبد اللہ اندلس کو عیسائیوں کے حوالے کر کہ مراکش آگیا۔ ادھر مشرق کی جانب مملوکوں سے سلطنت غزنویہ (986ء تا 1186ء) اور سلطنت غوریہ (1148ء تا 1215ء) نے خلافت کو طوائف بنانے میں اپنا کردار ادا کیا، اس کے بعد خلجی خاندان اور تغلق خاندان آۓ اور 1526ء میں سلطنت دہلی ، سلطنت مغلیہ بن گئی۔

استعماریت تا حال[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ the first dynasty of islam by G.R. Hawting روۓ خط اقتباس
  2. ^ 2.0 2.1 invaders by ian frazier: the new yourker روۓ خط مضمون
  3. ^ Matthew E. Falagas, Effie A. Zarkadoulia, George Samonis (2006). "Arab science in the golden age (750–1258 C.E.) and today", The FASEB Journal 20, p. 1581-1586.
  4. ^ caliphate at student britannica صفحہ روۓ خط
  5. ^ 5.0 5.1 caliphate at encyclopedia britannica صفحہ روۓ خط
  6. ^ caliphate at history.com روۓ خط مضمون
  7. ^ medieval crusades روۓ خط مضمون
  8. ^ Female Heroes from the Time of the Crusades روۓ خط مضمون