تبادلۂ خیال:اسلام

وکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش

اس مضمون کو دیکھ کر جتنا افسوس ہوا ہے وہ بیان سے باہر ہے، ہمارے صارفین اپنے مسالک کی ترویج کے لئے تو 10 سے 15 صفحات کے مضامین ڈھیر لگادیتے ہیں لیکن اسلام کے صفحے کی جو حالت دیکھی ہے وہ انتہائی افسوسناک اور شرمناک ہے۔ جس جس طرح کے ربط نیچے دیئے گئے ہیں وہ بھی باعث شرم ہیں۔ بھائیوں سے گذارش ہے کہ فوری طور پر اس میں ترمیم کرکے وکی پیڈیا کے معیار کے مطابق بنائیں اس کام میں میں بھی آپ کے ساتھ ہوں اور فوری طور پر ترمیم کا کام شروع کررہا ہوں۔ اللہ ہمیں جزائے خیر دے اور فتنوں سے بچائے۔ --Fkehar 06:06, 23 نومبر 2006 (UTC)

  • کسی صفحہ کو حذف بلاکسی وجہ کے حذف نہ کیجیۓ!! ایسے صارفین پر پاپندی لگائی جاسکتی ہے۔ انتظامیہ ویکیپیدیا۔
  • شاید مناسب ہو کہ اس طرح کے موضوعات میں ترمیم کرنے کے لیے وکیپیڈیا میں داخلے (کھاتہ) کی شرط لگا دی جائے (یعنی گمنام کی اجازت نہ ہو)۔

--Urdutext 01:14, 17 جنوری 2007 (UTC)

  • بالکل درست فرمایا ، میں یہی کرنا چاہتا تھا مگر بلااجازت کرنا مناسب نہیں سمجھا اب آپ نے بھی یہی مشورہ دیا ہے تو براہ کرم اسے صرف داخل شدہ صارفین کے لیۓ قابل ترمیم کرکے محفوظ کردیجیۓ۔ میں اسلام پر مکمل مضمون لکھ رہا ہوں، انشااللہ مکمل ہوتے پر اس صفحہ پر درج کردوں گا۔ افراز

[ترمیم] ترقی یافتہ و تہذیب یافتہ اقوام کی جانب سے دہشت پسند قوم کیلیۓ پیغام

Il mio desiderio segreto è di veder morire dissanguato ogni singolo mussulmano con la gola tagliata a mezzaluna. Sarebbe perfetto concimare i campi con il loro sangue, la loro carne e le loro ossa


  • مندرجہ بالا اطالوی جملے کو google translate پر ترجمہ کرنے کے بعد ذیل کی عبارت سامنے آئی:
My secret desire is to see to die HEMORRHAGIA every single Muslem with the throat cut to PARTS (PIECES). It would be perfect to MANURE the fields with their blood, their meat and their bones.
  • اردو ترجمہ ----- میری دلی آرزو ہے کہ ایک ایک مسلمان جریانِ خون سے اس طرح مرے کہ اسکے گلے کو کاٹ کر ٹکڑے کردیۓ گۓ ہوں۔ یہ نہایت مناسب بات ہوگی کہ اگر زمین کو انکے خون، گوشت اور ہڈیوں سے بنی ہوئی کھاد سے زرخیز کر دیا جاۓ۔

اگر مسلمان یہ کہتا ہے تو انتہا پسند ہے اور اگر غیر مسلم کہتے تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟ فہد احمد کیہر تبادلۂ خیال | میرا حصہ

  • جدت پسند :- ) کہ؛ ہے جرم ضعيفي کي سزا مرگ مفاجات! سمرقندی

صاحب مضمون کے خیال میں حضرت حسن کو مجبور کر دیا گیا تھا ؟ استغفار ! مجبوری کا نام دینے سے پہلے یہ حدیث تو نظر سے گزری ہوگی کہ " میرا یہ بیٹا جنّتی نوجوانوں کا سردار ہے اللہ رب العزت اس کے ہاتھوں مسلمانوں کی دو جماعتوں میں صلح کروائیں گے۔ تو میرے بھائی صاحب مضمون یہ مجبوری نہیں تھی بلکہ حدیث کے عین مطابق ہونے والا واقعہ تھا جس کی خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے پہلے ہی دے دی تھی۔ وہ کوئی عام شخص نہ تھے جن کو کوئی دباؤ ، دھونس یا لالچ سے مجبور کیا جاسکنا ممکن ہو وہ اس حسین کے بڑے بھائی تھے جس نے شہادت قبول کرلی تھی مگر اصولوں پر سمجھوتہ کرنے سے انکار کردیا تھا۔

امیر معاویہ کے ساتھ ہلاکو کی سرخی ؟ کیا ہلاکو آپ کے خیال میں کو‎ئی اسلامی خلیفہ تھا ۔ کیا کبھی پاکستان کی تاریخ کے جائزہ میں اس طرح لکھا جاسکتا ہے " قائداعظم تا من موہن سنگھ؟

  1. مذکورہ بالا حدیث کا حوالہ دے دیجیۓ میں تبدیلی کر دونگا۔
  2. ہلاکو اسلامی خلیفہ تھا یا نہیں اس بات کو رہنے دیجیۓ، ہلاکو کا وجود اسلامی تاریخ میں ایک اھم ترین کردار رکھتا ہے اور چونکہ یہ اسلامی تاریخ کا ایک خطرناک موڑ ہے اس لیۓ اس کی اھمیت کو اجاگر کرنے اور نظر انداز ہونے سے بچانے کی خاطر اس قسم کی سرخی درکار ہے۔

اور کوئی اعتراض ہو تو آگاہ کیجیۓ، خادم حاضر ہے۔ --سمرقندی 13:41, 26 مئی 2009 (UTC)

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے امام حسن رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرمایا: میرا یہ بیٹا سردار ہے اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ مسلمانوں کی دو بڑی جماعتوں کے درمیان صلح کرائیگا۔ حوالہ: بخاری شریف کتاب المناقب، حدیث نمبر 3463 .

  • جی بہت نوازش۔ اس کا online ربط تلاش کر کہ انشااللہ کل کسی وقت مضمون میں اصلاح کر دوں گا۔ مضمون کو محفوظ صرف عارضی طور پر کیا ہے کیونکہ کئی افراد ترمیمات کرتے رہیں تو وقت بہت ضائع ہوتا ہے جب یہ مکمل ہو جاۓ گا تو اس کو غیر مقفل کر دیا جاۓ گا۔ اس دوران آپ کو جس بات پر بھی اعتراض ہو اسی جگہ آگاہ فرما دیجیۓ گا۔ آپ کی مدد و راہنمائی سے اس کو ایک جامع ترین اور مستند ترین مضمون بنانے میں بہت آسانی ہوگی۔ --سمرقندی 14:19, 26 مئی 2009 (UTC)

مناسب سمجھیں تو اس مضمون کو "خلافت تا خلیفہ گیری" جیسی سرخیوں سے محفوظ رکھا جائےکیونکہ یہ آگے چل کر اختلافات کو جنم دیں گی۔ یہ مضمون اسلام کے بنیادی تصورات تک ہی محدود رہے ورنہ یہاں ہی فرقہ ورانہ بحث چھڑ جانے کا احتمال ہے ۔ خلافت یا طرز خلافت پر اعتراضات کے لۓ خلافت کے نام سے صفحہ موجود ہے وہاں اس قسم کی بحث زیادہ مناسب رہے گی۔

ہلاکو کا وجود نہیں بلکہ اس کے وزیر نظام اللمک طوسی اور خلافت عباسیہ کے غدّار وزیر ابن علقمی کے ناپاک وجود اسلامی تاریخ خلافت عباسیہ کی تباہی میں ایک اھم ترین کردار رکھتے ہیں۔

  • جو اندیشے آپ نے بیان کیۓ ہیں وہ اس مضمون سے نا تو پیدا ہونگے اور نا دور ہونگے۔ ہلاکو کے بارے میں آپ کو جو لکھنا ہے ہلاکو کے صفحے پر درج فرما دیجیۓ۔ کوئی بات اگر واقعی ٹھوس دلیل کہ ساتھ غلط ہو تو صرف اسی کو بیان کیجیۓ۔ بے وجہ کی بحث سے وقت برباد ہوا کرتا ہے۔ --سمرقندی 07:46, 27 مئی 2009 (UTC)

ہلاکو کے بارے میں مجھ کو کچھ نہیں لکھنا مجھ کو صرف اس کا خلافت میں امیر معاویہ کے ساتھ ہونے پر ہونے اعتراض ہے دلیل وہی کہ کیا کبھی پاکستان کی تاریخ کے جائزہ میں اس طرح لکھا جاسکتا ہے " قائداعظم تا من موہن سنگھ؟ یا یہ کہ جس طرح ہلاکو نے خلافت عباسیہ کو تباہ کیا تھا اسی طرح اندراگاندھی نے پاکستان پر حملہ کرکے اس کو دولخت کردیا تھا اب یہ لکھا جائے گا کہ " قائداعظم تا اندرا گاندھی؟ یہ مضمون اسلام سے متعلق ہے یا خلافت کے جائزے سے متعلق ہے؟ ۔ جو اندیشے میں نے بیان کیۓ ہیں وہ اس مضمون سے مستقبل قریب میں ضرور پیدا ہوں گے۔ آپ کے ریت میں سر چھپالینے سے کچھ نہیں ہوگا۔ آپ نے درست فرمایا کہ "بے وجہ کی بحث سے وقت برباد ہوا کرتا ہے" میں اس پر اتنا اضافہ کروں گا کہ مضمون کو محفوظ کرکے اس میں "خلافت تا خلیفہ گیری" جیسی متنازعہ تبدیلیوں سے وکی کے قارئین کا نہ صرف وقت بلکہ اسلام کے بارے میں رائے بھی خراب ہوسکتی ہے۔

[ترمیم] تجاوب بر پیغامِ گمنام

درج ذیل جملے میں قرآن کے حوالے سے گوتم بدھ وغیرہ کو نبی قرار دیا گیا ہے۔ قرآن مجید میں یہ بات کہیں موجود نہیں ہے۔ صرف اجمالی ذکر ہے کہ ہر امت میں ڈرانے والا بھیجا گیا کسی کا نام لے کر نہیں کہہ سکتے مثال کے طور پر سدھارتھ گوتم بدھ مت اور دیگر مذاہب کی ابتداء کرنے والے[30]، قرآن کی رو سے یہ تمام اشخاص خدا کی طرف سے وہی پیغام اپنی اپنی امت میں لاۓ تھے کہ جو آخری بار قرآن لایا، مگر ان میں تحریف پیدا ہوگئی۔

  • پہلی گذارش تو حضرت یہ کہ ایسے سنجیدہ اور نازک مواقع پر اپنی عالمانہ رائے کا اظہار فرماتے ہوئے اپنا اسمِ گرامی ضرور درج فرمایا کیجیۓ۔ دوسری بات یہ کہ آپ نے بھی وہی کام کیا جو اکثر مسلمان کرتے ہیں کہ قرآن کی آیات اور احادیث کو ان کے سیاق و سباق سے الگ کر کے من پسند معنی تراش لیۓ جائیں۔ آپ نے جو جملہ نقل فرمایا ہے اس سے قبل کی عبارت کو آپ نظر انداز کر گئے ہیں ، لکھا ہے کہ؛
قرآن میں درج 25 انبیاء و مرسال[29] کے علاوہ ان میں وہ تمام بھی شامل ہیں جن کا ذکر قرآن میں نہیں آتا۔

میرا خیال ہے کہ بات واضح ہوگئی ہوگی لیکن اس کے باوجود میں آپ کے اعتراض کو مدنظر رکھتے ہوئے اس بارے میں مزید معلومات درج کرنے کی کوشش کروں گا۔ --سمرقندی 01:44, 14 ستمبر 2009 (UTC)

ذاتی اوزار

متغیرات
ایکشنز
رہنمائی
ساتھی منصوبے
آلات