تجدید پسندان مرگ انبوہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

تجدید پسندان مرگ انبوہ محققین کا ایک گروہ ہے جو اس بات پر شک کا اظہار کرتے ہیں کہ مرگ انبوہ میں ساٹھ لاکھ سے زیادہ یہودی قتل ہوئے تھے۔ کچھ لوگ مرگ انبوہ کو سرے سے کہانی سمجھتے ہیں مگر زیادہ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ مرگ انبوہ پر نئے سرے سے تحقیق ہونا چاہئیے کہ اس میں مرنے والوں کی اصل تعداد کیا تھی۔ ان کے خیال میں یہ ساٹھ لاکھ سے بہت کم تھی اور اتنی بڑی تعداد کا ذکر پہلی دفعہ مرگ انبوہ کے کئی سال بعد سامنے آئی جس کا مقصد اسرائیل کے وجود کو بہانہ مہیا کرنا تھا۔ یہ خود کو ترمیم پسند (revisionists) کہلاتے ہیں مگر یہودی اور مرگ انبوہ پر مکمل یقین رکھنے والے ان کو منکرینِ مرگ انبوہ (Holocaust deniers) کہتے ہیں۔[1]

تاریخ[ترمیم]

سب سے پہلے نازی جرمنی کے لوگوں نے ہی اس بات کی مخالفت کی کہ انہوں نے یہودیوں کو خصوصی طور پر نشانہ بنایا تھآ۔ اس کے بعد ہیری المر بارنز (Harry Elmer Barnes) نے جو ایک امریکی مصنف تھے، مرگ انبوہ کو جنگ کے پروپیگینڈا مہم کا حصہ قرار دیا جس کا مقصد امریکہ کی جنگ میں شمولیت کا جواز پیدا کرنا تھا۔ اس کے بعد اس سلسلے کی پہلی نمایاں کتاب ڈیوڈ ہگان نے آلمانی (جرمن) زبان میں لکھی جس کا نام 'ٹھونسی گئی جنگ' (Der Erzwungene Krieg) تھا جو 1961ء میں چھپی۔ 1969ء میں اس نے ایک اور کتاب بنام 'ساٹھ لاکھ کا افسانہ' (The Myth of the Six Mill) انگریزی میں لکھی۔ جو لاس اینجلس سے چھپی۔ یہ کتابیں یورپ میں ضبط کر لی گئیں۔ .[2]

1964ء میں ایک مشہور فرانسیسی مؤرخ پال ریسینئے (Paul Rassinier) نے ایک کتاب لکھی جس کا نام 'یورپی یہودیوں کا ڈرامہ' (The Drama of the European Jews) تھا۔ پال ریسینئے خود ایک یہودی تھے اور کیمپ میں قید رہے تھے اور انہوں نے اپنی آنکھوں سے کافی کچھ دیکھا تھا اس لیے وہ مرگ انبوہ کے افسانے (بقول پال ریسینئے کے) کو تسلیم نہیں کرتے تھے۔[3] اسی طرح آرتھر بٹز ( Arthur Butz) نے 1976ء میں ایک کتاب بنام 'بیسویں صدی کا افسانہ' ( The Hoax of the Twentieth Century) لکھی۔ اور 1977ء میں ڈیوڈ ارونگ نے اپنی مشہور کتاب 'ہٹلر کی جنگ' (Hitler's War) لکھی جس میں مرگ انبوہ میں ساٹھ لاکھ کی تعداد سے انکار کیا گیا۔ 1979ء میں ایک فرانسیسی پروفیسر رابرٹ فوغیسوں (Robert Faurisson) نے، جن کا تعلق فرانس کی جامعہ لیوں (Université de Lyon) کے ادبیات کے شعبہ سے تھا، فرانس کے سب سے مشہور اخبار لو موند (Le Monde) کو ایک خط لکھا جس میں اس بات کا صریحاً انکار کیا گیا کہ یہودیوں کو قتل کرنے والے گیس چیمبروں کا کوئی وجود بھی تھا۔

تجدید پسندان کی فہرست[ترمیم]

ایسے لوگ جو مرگ انبوہ پر تحقیق کے خواہش مند ہیں یا اس کی کسی بات پر متفق نہیں مثلاً وہ سمجھتے ہیں کہ مرنے والوں کی تعداد ساٹھ لاکھ سے بہت کم تھی۔ ان میں سے کچھ مشہور لوگوں کی فہرست درج ذیل ہے۔

متعلقہ مضامین[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ڈونلڈ ایل نیوک۔ کولمبیائی راہنما برائے مرگ انبوہ، ناشر جامعہء کولمبیا، 2000ء صفحہ۔45:مرگ انبوہ کی عمومی تعریف کے مطابق دوسری جنگ عظیم کے دوران جرمنی کے ہاتھوں پچاس لاکھ سے زائد یہودیوں کی ہلاکت ہے، جس کا اندازہ محققین کے مطابق اکیاون لاکھ سے ستر لاکھ تک ہے اگرچہ تجدید پسندان اسی تعداد پر شک کرتے ہیں۔
  2. ^ Gottfired, Ted: Deniers Of The Holocaust: Who They Are, What They Do, Why They Do It (Twenty-First Century Books, 2001). Page 29
  3. ^ Deborah E. Lipstadt, History on Trial, Harcourt:2005 ISBN 0-06-059376-8