تحریک خلافت

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
Featured article candidate.svg
یہ مضمون منتخب مقالہ بنائے جانے کے لیے امیدوار ہے۔ اس لیے اس مضمون کو خاص توجہ کی ضرورت ہے۔

خلفائے راشدین رضی اللہ تعالٰی عنھم کے بعد بنو امیہ اور بنو عباس سے ہوتی ہوئی ترکی کے عثمانی خاندان کو منتقل ہوئی۔ پہلی جنگ عظیم کے وقت اسلامی سلطنت کا مرکز ترکی تھا اور اس کے سربراہ خلیفہ عبدالحمید تھے۔

پہلی جنگ عظیم میں ترکی نے برطانیہ کے خلاف جرمنی کا ساتھ دیا۔ ترکی کی جنگ میں شمولیت سے ہندوستان کے مسلمان پریشان ہوئے کہ اگر انگریز کامیاب ہو گیا تو ترکی کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا جائے گا۔ ہندوستان کے مسلمانوں نے انگریزوں کا ساتھ دینے کے لیے وزیراعظم برطانیہ لائیڈ جارج سے وعدہ لیا کہ جنگ کے دوران میں مسلمانوں کے مقامات مقدسہ کی بے حرمتی نہیں ہو گی اور جنگ کے بعد مسلمانوں کی خلافت محفوظ رہے گی۔

جنگِ عظیم اول میں جرمنی کو شکست اور برطانیہ کو فتح ہوئی۔ جنگ کے خاتمے کے بعد برطانیہ اور اس کے اتحادیوں نے وعدہ خلافی کرتے ہوئے اپنی فوجیں بصرہ اور جدہ میں داخل کردیں۔ ہندوستان کے مسلمانوں نے انگریزوں کو وعدے یاد دلانے کے لیے اور خلافت کے تحفظ کے لیے ایک تحریک شروع کی جسے "تحریک خلافت" کا نام دیا گیا۔


خلافت کمیٹی کا قیام[ترمیم]

5 جولائی 1919ء کو خلافت کے مسئلے پر رائے عامہ کو منظم کرنے اور متفقہ لائحہ عمل تیار کرنے کے لئے بمبئی میں آل انڈیا خلافت کمیٹی قائم کر دی گئی جس کے صدر سیٹھ چھوٹانی اور سیکرٹری حاجی صدیق کھتری منتخب ہوئے۔

مقاصد[ترمیم]

تحریک خلافت کے بڑے بڑے مقاصد یہ تھے:

  1. ترکی کی خلافت برقرار رکھی جائے۔
  2. مقامات مقدسہ ترکی کی تحویل میں رہیں۔
  3. ترکی سلطنت کو تقسیم نہ کیا جائے۔

خلافت کمیٹی کا پہلا اجلاس نومبر 1919ء میں دہلی میں ہوا جس میں فیصلہ کیا گیا کہ مسلمان انگریز کے جشن فتح میں شریک نہیں ہوں گے اور اگر ان کے مطالبات منظور نہ ہوئے تو وہ حکومت سے عدم تعاون کریں گے۔ اس اجلاس میں ہندوؤں سے تعاون کی اپیل کی گئی۔

ہندو مسلم اتحاد[ترمیم]

کانگریس نے پہلے ہی رولٹ ایکٹ کے خلاف ملک گیر مہم شروع کر رکھی تھی۔ دسمبر 1919ء میں کانگریس مسلم لیگ اور خلافت کمیٹی کے اجلاس امرتسر میں منعقد ہوئے جہاں گاندھی جی نے ہندو مسلم اتحاد پر زور دیا۔

خلافت وفد انگلستان میں[ترمیم]

1920ء میں مولانا محمد علی جوہر کی قیادت میں ایک وفد انگلستان، اٹلی اور فرانس کے دورے پر روانہ ہوا تاکہ وزیراعظم برطانیہ اور اتحادیوں کو ان کے وعدے یاد دلائے۔ وفد نے برطانیہ پہنچ کر وزیراعظم لائیڈ جارج سے ملاقات کی لیکن اس کا جواب “آسٹریلیا اور جرمنی سے خوف ناک انصاف ہو چکا اور ترکی اس سے کیوں کر بچ سکتا ہے۔“ سن کر مایوسی ہوئی۔ اس کے بعد وفد نے اٹلی اور فرانس کا بھی دورہ کیا مگر اس کی کہیں بھی شنوائی نہ ہوئی۔

معاہدہ سیورے[ترمیم]

مکمل مضمون کے لئے دیکھئے معاہدہ سیورے

خلافت وفد ابھی انگلستان میں ہی تھا کہ ترکی پر معاہدہ سیورے مسلط کردیا گیا۔ جس کے نتیجے میں تمام بیرونی مقبوضات ترکی سے چھین لئے گئے، ترکی پر فضائی فوج رکھنے پر پابندی لگا دی گئی اور درہ دانیال پر اتحادیوں کی بالادستی قائم رکھی گئی۔

تحریک ترک موالات[ترمیم]

وفد خلافت کی ناکام واپسی اور معاہدہ سیورے کی ذلت آمیز شرائط کے خلاف خلافت کمیٹی نے 1920ء میں تحریک ترک موالات کا فیصلہ کیا گاندھی جی کو اس تحریک کا رہنما مقرر کیا گیا۔ اس کے اہم پہلو یہ تھے۔

  • حکومت کے خطابات واپس کر دئیے جائیں۔
  • کونسلوں کی رکنیت سے استعفٰی دے دیا جائے۔
  • سرکاری ملازمتوں سے علیحدگی اختیار کر لی جائے۔
  • تعلیمی ادارے سرکاری امداد لینا بند کر دیں۔
  • مقدمات سرکاری عدالتوں کے بجائے ثالثی عدالتوں میں پیش کیے جائیں۔
  • انگریزی مال کا بائیکاٹ کیا جائے۔

تحریک ہجرت[ترمیم]

تحریک کے دوران میں کچھ علماء نے بر عظیم کو دارالحرب قرار دے کر یہاں سے ہجرت کرنے کا فتویٰ دیا۔ جس پر ہزاروں مسلمانوں نے اپنے گھربار چھوڑ کر افغانستان کی راہ لی۔ یہ ہجرت حکومت افغانستان کے عدم تعاون سے ناکام ہوگئی اور مسلمانوں کو کافی جانی و مالی نقصان کا سامان کرنا پڑا۔

جامعہ ملیہ کا قیام[ترمیم]

مولانا محمد علی جوہر نے علی گڑھ کی انتظامیہ سے سرکاری امداد نہ لینے کی اپیل کی۔ کالج انتظامیہ نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔ جس کے نتیجے میں مولانا محمد علی جوہر نے بہت سے طلبہ کو اپنے ساتھ ملا کر جامعہ ملیہ علی گڑھ کی بنیاد رکھی۔ یہ ادارہ 1925ء میں دہلی منتقل کر دیا گیا۔

موپلہ بغاوت[ترمیم]

ساحل مالابار موپلہ مسلمانوں نے تحریک خلافت میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا جس کے نتیجے میں انہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ چنانچہ انہوں نے تنگ آ کر 1925ء میں بغاوت کر دی۔ حکومت نے اس بغاوت کو سختی سے کچل دیا اور ہزاروں موپلوں کو موت کے منہ میں دھکیل دیا۔

چورا چوری کا واقعہ[ترمیم]

5 فروری 1922ء کو تحریک خلافت کی حمایت میں لوگوں نے مشتعل ہو کر اترپردیش کے ایک گاؤں چورا چوری میں ایک تھانے کو آگ لگا دی جس میں 22 سپاہی جل مرے۔ اس واقعے کو آڑ بنا کر کر گاندھی نے اعلان کر دیا کہ چونکہ یہ تحریک عدم تشدد پر کار بند نہیں رہی اس لیے اسے ختم کیا جاتا ہے۔

ناکامی کے اسباب[ترمیم]

ناپائیدار اتحاد[ترمیم]

ہندوؤں اور مسلمانوں کا اتحاد سطحی، جذباتی اور وقتی تھا۔ دونوں قوموں کو حکومت کے خلاف نفرت نے عارضی طور پر اکھٹا کر دیا تھا لیکن شدھی اور سنگھٹن کی تحریکوں نےجلد ہی اس اتحاد کو پارہ پارہ کر دیا اور تحریک خلافت کمزور ہونا شروع ہو گئی۔

مقاصد میں تضاد[ترمیم]

مسلمانوں کی تحریک خلافت سیاسی فائدے کے بجائے مذہبی جوش و خروش پر مبنی تھی۔ ہندوؤں اس سے سیاسی فائدہ تلاش کر رہے تھے جو تحریک خلافت کی کامیابی سے ملنا مشکل تھا۔ چناں چہ جب تحریک خلافت کامیابی سے ہم کنار ہونے والی تھی تو گاندھی نے تحریک ختم کرنے کا اعلان کر کے مسلمانوں کی پیٹھ میں چھرا گھونپ دیا۔

گاندھی جی کی قلابازی[ترمیم]

گاندھی نے اس تحریک کو اس وقت ختم کرنے کا اعلان کیا جب مسلمانوں کے تمام رہنما جیل میں تھے اور تحریک کی قیادت سنبھالنے والا کوئی موجود نہیں تھا۔ اس سے تحریک بھی ختم ہو کر رہ گئی اور مسلمانوں کا اپنے قائدین سے بھی اعتماد اٹھ گیا۔

گاندھی جی ہندوؤں کے مہاتما بن گئے اور مولانا محمد علی جوہر گوشہ گم نامی میں چلے گئے۔

ترکی میں صدارت کا اعلان[ترمیم]

مارچ 1924ء میں مصطفی کمال پاشا اتاترک نے ترکی کے علاقے آزاد کراکے جمہوریہ کے قیام اور اپنی صدارت کا اعلان کر دیا اور ترکی میں خلافت کا خاتمہ ہوگیا۔

یہودی وطن کے قیام کی سازش[ترمیم]

پہلی جنگ عظیم کے دوران میں برطانوی حکومت نے اعلان بالفور کی رو سے فلسطین کو یہودیوں کا قومی وطن بنانے کی سازش کی۔ اس لیے ترکی خلافت کی سابقہ حدود کو بحال کرنا نہیں چاہتی تھی۔

سعودی عرب کا قیام[ترمیم]

شریف مکہ نے سازش کر کے سعودی عرب کو ترکی سلطنت سے الگ کر لیا تھا۔ جس پر شاہ عبدالعزیز نے سعودی عرب کے نام سے الگ مملکت کے قیام کا اعلان کر دیا جس سے تحریک خلافت ماند پڑ گئی۔


تحریک خلافت کے نتائج[ترمیم]

تحریک خلافت جیسی عوامی تحریک کی مثال برصغیر کی تاریخ میں نہیں ملتی۔ اس میں شک نہیں کہ یہ تحریک اپنے مقاصد کے حصول میں ناکام رہی لیکن اس نے ہندوستان کی سیاست اور مسلمانوں کی تاریخ پر گہرے نقوش مرتب کئے۔

(1) مسلمانوں کی مایوسی

(2) ہندو مسلم اتحاد کا خاتمہ

(3) سیاسی شعور کی بیداری

(4) پر جوش قیادت کا ابھرنا

(5) علماء اور طلبہ کا سیاست میں داخلہ

(6) گاندھی جی کی قیادت

(7) داخلی مسائل کی طرف توجہ

(8) کانگریس اور جمعیت علمائے ہند میں تعاون


سانچہ:اسلامی اوکیہ جوت