تربیلا بند

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
تربیلا بند
تربیلا بند
تربیلا بند کی خلاء سے لی گئی تصویر
سرکاری نام تربیلا ڈیم
دریا دریائے سندھ
مقام تربیلا ، پاکستان
لمبائی 2743.2 میٹر
اونچائی دریا کی سطح سے 143.26 میٹر
آغازِ تعمیر 1968
تاریخِ افتتاح 1974
تعمیری لاگت 1.497 ارب امریکی ڈالر [1]
جھیل کی معلومات
جھیل تربیلا جھیل
گنجائش 13.69 مکعب کلومیٹر
Catchment area 168,000 مربع کلومیٹر
Surface area 250 مربع کلومیٹر
بجلی کی پیداواری معلومات
عنفات 10 x 175 MW, 4 x 432 MW
پیداواری گنجائش 3478 میگاواٹ
زیادہ سے زیادہ گیجائش 4200 میگاواٹ

دریائے سندھ پر بمقام تربیلا، ایک کثیر المقاصد بند ، جو منگلا بند ’’پاکستان‘‘ سے دوگنا ، اسوان ڈیم مصر سے تین گنا اور دنیا میں مٹی کی بھرائی کا سب سے بڑا بند ہے۔ آزادی کے بعد مشرقی دریاؤں سے پانی کی بندش کی بھارتی دھمکی سے پاکستان میں زراعت کو ، جو پہلے ہی پانی کی قلت کا شکار تھی ، زبردست خطرہ لاحق ہوگیا۔ اس خطرے سے نمٹنے کے لیے حکومت پاکستان نے ملک میں بند بنانے کا منصوبہ مرتب کیا۔ ان میں سے ایک دریائے سندھ پر بند تعمیر کرنے کا منصوبہ تھا۔ جس کے لیے اٹک ، کالاباغ اور تربیلا کے علاقوں کا جائزہ لیا گیا۔ آخر 1952ء میں تربیلا کے مقام کو بند کی تعمیر کے لیے موزوں قرار دیا گیا اور بین الاقوامی اداروں اور دوست ممالک سے فنی و مالی تعاون کی اپیل کی گئی۔

1967ء میں عالمی بینک نے اس بند کی تعمیر کی منظوری دے دی۔ 1968ء میں تربیلا ترقیاتی فنڈ قائم کیا گیا۔ جس کے لیے عطیات کے علاوہ فرانس ، اٹلی ، برطانیہ ، کینڈا ، اور عالمی بینک نے قرضے بھی منظور کیے۔ اسی سال تین اطالوی اور تین فرانسیسی کمپنیوں پر مشتمل ایک کنسورشیم تربیلا جائنٹ و نیچر کو بند کی تعمیر کا ٹھیکا دیا گیا ۔ 1969ء میں کنسورشیم میں جرمنی اور سوئٹزرلینڈ کی سات کمپنیوں کا گروپ بھی شامل ہوگیا۔ نومبر 1971ء میں یہ بند پایۂ تکمیل کو پہنچا اور 1977ء میں اس نے کام شروع کر دیا۔

بند کی لمبائی 9 ہزار فٹ ، زیادہ سے زیادہ اونچائی 485 فٹ (147.83 میٹر) اور گنجائش 18,60,00,000 ایکڑ فٹ (229.43 مکعب کلومیٹر) ہے۔ دریائے سندھ اور اس کے معاون دریائوں کا اوسط مجموعی بہائو تقریباً 208 مکعب کلومیٹر ہے۔ اس میں لاکھوں ایکڑ اراضی سیراب ہو سکتی ہے۔ دریا کے بائیں کنارے پر 45 فٹ قطر کی چار سرنگیں ہیں۔ پہلی اور دوسری سرنگ بجلی پیدا کرنے والے یونٹوں سے منسلک ہے۔تیسری سرنگ کا مقصد بھی بجلی کی پیداوار ہے۔ چوتھی سرنگ آبباشی کے مقصد کے لیے ہے۔ اس منصوبے پر 10,92,00,00,000 روپیہ صرف ہوا ، بند سے آبپاشی اور بجلی کے علاوہ مچھلی کی صنعت اور سیاحت وغیرہ کو بھی فروغ حاصل ہوا ہے۔ بعد میں اسی ڈیم سے ایک نہر نکال کر غازی بروتھا کے مقام کر مزید ٹربائنیں لگا کر بجلی پیدا کی جاتی ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]