ترکی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

ترکی زبان کے بارے میں مضمون کے لیے دیکھیے ترکی زبان


Türkiye Cumhuriyeti
جمہوریہ ترکی
ترکی کا پرچم ترکی کا قومی نشان
پرچم قومی نشان
شعار: Yurtta Barış, Dünyada Barış
(اختیار غیر مشروط طور پر قوم کے ہاتھ میں رہتا ہے)
ترانہ: استقلال مارشی
ترکی کا محل وقوع
دارالحکومت انقرہ
عظیم ترین شہر استنبول
دفتری زبان(یں) ترکی زبان
نظامِ حکومت
صدر
وزیرِ اعظم
پارلیمانی جمہوریت
عبد اللہ گل
رجب طیب اردوان
جانشین
- سلجوقی سلطنت
عثمانی سلطنت
جنگِ آزادی
پارلیمان کا قیام
جمہوریہ
عثمانی سلطنت -
1071ء
1299 تا 1922ء
19 مئی 1919ء
23 اپریل 1920ء
29 اکتوبر 1923ء
رقبہ
 - کل
 
 - پانی (%)
 
783562  مربع کلومیٹر (37)
302535 مربع میل
1.3
آبادی
 - تخمینہ:2007ء
 - 2007 مردم شماری
 - کثافتِ آبادی
 
70,586,256 (18)
70586256
93 فی مربع کلومیٹر(108)
241 فی مربع میل
خام ملکی پیداوار
     (م۔ق۔خ۔)

 - مجموعی
 - فی کس
تخمینہ: 2007ء

667.7 ارب بین الاقوامی ڈالر (19 واں)
9400 بین الاقوامی ڈالر (75 واں)
انسانی ترقیاتی اشاریہ
   (تخمینہ: 2007ء)
0.775
(84) – متوسط
سکہ رائج الوقت نیا ترک لیرا (YTL)
منطقۂ وقت
 - عمومی
۔ موسمِ گرما (د۔ب۔و)
مشرقی یورپی وقت (EET)
(یو۔ٹی۔سی۔ 2)
مستعمل (یو۔ٹی۔سی۔ 3)
ملکی اسمِ ساحہ
    (انٹرنیٹ)
.tr
رمزِ بعید تکلم
  (کالنگ کوڈ)
+90


ترکی (انگریزی: Turkey یا Republic of Turkey) (سرکاری نام: Türkiye Cumhuriyeti یعنی ترکیہ جمہوریتی) یوریشیائی ملک ہے جو جنوب مغربی ایشیا میں جزیرہ نما اناطولیہ اور جنوبی مشرقی یورپ کے علاقہ بلقان تک پھیلا ہوا ہے۔

ترکی کی سرحدیں 8 ممالک سے ملتی ہیں جن میں شمال مغرب میں بلغاریہ، مغرب میں یونان، شمال مشرق میں گرجستان (جارجیا)، مشرق میں آرمینیا، ایران اور آذربائیجان کا علاقہ نخچوان اور جنوب مشرق میں عراق اور شام شامل ہیں۔ علاوہ ازیں شمال میں ملکی سرحدیں بحیرہ اسود، مغرب میں بحیرہ ایجیئن اور بحیرہ مرمرہ اور جنوب میں بحیرہ روم سے ملتی ہیں۔

ترکی ایک جمہوری، لادینی، آئینی جمہوریت ہے جس کا موجودہ سیاسی نظام 1923ء میں سقوط سلطنت عثمانیہ کے بعد مصطفیٰ کمال اتاترک کی زیر قیادت تشکیل دیا گیا۔ یہ اقوام متحدہ اور موتمر عالم اسلامی کا بانی رکن اور 1949ء سے یورپی مجلس اور 1952ء سے شمالی اوقیانوسی معاہدے کا رکن ہے۔ ریاست کی یورپی اتحاد میں شمولیت کے لیے مذاکرات طویل عرصے سے جاری ہیں۔

یورپ اور ایشیا کے درمیان محل وقوع کے اعتبار سے اہم مقام پر واقع ہونے کی وجہ سے ترکی مشرقی اور مغربی ثقافتوں کے تاریخی چوراہے پر واقع ہے۔

تاریخ[ترمیم]

افسوس کے کتب خانہ کے کھنڈرات، 135ء

جدید ترکی کا موجودہ علاقہ دنیا کے ان قدیم ترین علاقوں میں سے ہے جہاں مستقلاً انسانی تہذیب موجود ہے۔ چتل خیوک، چایونو، نیوالی جوری، خاجی لر، گوبکلی تپہ اور مرسین کے علاقے انسان کی اولین آبادیوں میں سے ایک ہیں۔

ترکی کے اناطولیہ ریجن کی تاریخ بہت قدیم ہے۔ یہاں پتھر کے زمانے سے انسان موجود ہے۔ بلیک سی کے ارد گرد کے علاقے میں اب سے دس ہزار سال پہلے آبادی کے آثار ملتے ہیں۔ آسانی کے لئے ہم ترکی کی تاریخ کو ان ادوار میں تقسیم کر سکتے ہیں:

· زمانہ قبل ازتاریخ: 2500 ق م سے پہلے

· کانسی کا دور: 2500 ق م سے 700 ق م

· لوہے کا دور: 700 ق م سے 330 ء

· رومن بازنطینی دور: 330 ء سے 1453ء

· سلجوقی دور: 1071ء سے 1300ء

· عثمانی دور: 1299ء سے 1923ء

· ری پبلکن دور: 1923ء سے تا حال قبل از تاریخ کا زمانہ: 2500 ق م سے پہلے

ترکی میں قبل از تاریخ کے زمانےکے آثار ملتے ہیں۔ بلیک سی کی تہہ میں انسانی آبادی کے آثار ملے ہیں جن سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ کسی زمانے میں یہ علاقے پانی سے باہر تھے۔ کسی جغرافیائی حادثے کے نتیجے میں بلیک سی کی سطح بلند ہوئی اور یہ علاقے زیر آب آ گئے۔ قدیم زمانے میں اناطولیہ کا بڑا حصہ عراق کی قدیم اکدانی سلطنت کے زیر اثر رہا ہے۔تاریخی تحقیقات سے معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا نوح علیہ الصلوۃ والسلام کے طوفان کا زمانہ بھی یہی ہے۔ عین ممکن ہے کہ انہی کے طوفان کے باعث بلیک سی کی سطح بلند ہوئی ہو۔

کانسی کا زمانہ: 2500 ق م سے لے کر 700 ق م

اس دور کو کانسی کا دو راس وجہ سے کہا جاتا ہے کہ اس زمانے میں آلات اور برتنوں کا بڑا حصہ کانسی سے بنایا جاتا تھا۔ 2500 ق م کے بعد حتیوں نے اناطولیہ میں قدم جمانے شروع کر دیے۔ یہ انڈو یورپین نسل کے کسان تھے۔ انہوں نے اناطولیہ کے علاقے میں ایک عظیم سلطنت قائم کی۔ ان کے قوانین معاصر تہذیبوں کی نسبت زیادہ انسان دوست تھے۔ ان کے پورے دور میں دیگر اقوام اناطولیہ پر حملے کرتی رہیں۔حتیوں کا مذہب مشرکانہ تھا جس میں وہ متعدد خداؤں کی پرستش کیا کرتے تھے۔ بادشاہ کو پجاریوں کا سربراہ مانا جاتا تھا۔ حتی سلطنت 1400 ق م کے لگ بھگ اپنے عروج کو پہنچی۔ آہستہ آہستہ اسے زوال آ گیا اور اس کی جگہ متعدد تہذیبوں نے لے لی۔

حتیوں کے ساتھ ساتھ اناطولیہ کے کچھ حصے پر آشوری (Assyrians) بھی قابض رہے۔ ان کا اصل وطن دجلہ اور فرات کے درمیان کی زرخیز وادی تھی جسے میسو پوٹے میا (Mesopotamia) کہا جاتا ہے۔ یہاں سے یہ دجلہ و فرات سے اوپر کی جانب سفر کرتے ہوئے اناطولیہ پر قابض ہوئے۔

اس پورے عرصے میں ترکی کے مختلف علاقوں میں چھوٹی چھوٹی ریاستیں قائم رہیں۔ مغرب کی جانب سے یہ یونانی اقوام کے زیر اثر رہا جبکہ مشرقی جانب سے یہ عراق کی قدیم سلطنتوں کے زیر اثر رہا۔ اس زمانے میں مغربی ترکی میں آئیونیا تہذیب، فرائ جیا تہذیب، اور ٹرائے کی تہذیب غالب رہی۔

لوہے کا دور: 700 ق م سے 330 ء

لوہے کے دور کا آغاز سیدنا داؤد علیہ الصلوۃ والسلام سے ہوا۔ قرآن مجید کے مطابق اللہ تعالی نے ان کے ہاتھ میں لوہے کو نرم کر دیا تھا جس کے باعث انہوں نے لوہے کی وسیع سلطنت قائم کی۔ ان کے بیٹے سیدنا سلیمان علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے میں لوہے کے علاوہ دیگر قسم کی صنعتوں کے غیر معمولی ترقی کی۔ ہواؤں کو مسخر کیا گیا۔ سمندر کے خزانوں کو تلاش کیا گیا۔ عظیم الشان عمارتیں تعمیر کی گئیں۔ ان کی سلطنت میں سائنسی ترقی کا یہ عالم تھا کہ یمن جیسے ترقی یافتہ ملک کی ملکہ بھی ان کے محل میں پہنچ کر خود کو دیہاتی دیہاتی سا محسوس کرنے لگی۔ یہ ترقی اسرائیل سے نکل کر دیگر قوموں تک بھی پہنچی۔

اس دور میں مغربی ترکی لڈیا کی سلطنت اور مشرقی ترکی ایران کی ہاخا منشی سلطنت کے زیر اثر آ گیا۔ 334 ق م میں اس علاقے کو یونان کے اسکندر نے فتح کر لیا مگر اس کے جانشین اتنی بڑی سلطنت کو سنبھال نہ سکے اور یہ ٹکڑوں میں تقسیم ہو گئی۔ اس کے بعد یہاں طویل عرصے تک یونانیوں کی سلیوسی سلطنت کی حکومت رہی جو کہ 63ء تک قائم رہی۔ درمیان میں کچھ عرصے کے لئے آرمینیوں کی حکومت بھی یہاں قائم رہی۔

اس کے کچھ عرصے بعد رومیوں کو عروج نصیب ہوا اور ان کے فاتحین نے پورا اناطولیہ فتح کر کے اسے روم کا حصہ بنا دیا۔ ابتدا میں یہ ایک جمہوری حکومت تھی لیکن بعد میں یہ بادشاہت میں تبدیل ہو گئی۔ انہوں نے ترکی کے علاوہ موجودہ شام، اردن ، فلسطین اور مصر پر قبضہ جما لیا۔ اسی دور میں سیدنا عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت ہوئی۔ آپ کے بعد آپ کے ماننے والوں کی بڑی تعداد نے ترکی کو اپنا مسکن بنایا اور یہاں دعوتی و تبلیغی سرگرمیاں جاری رکھیں۔

رومی دور: 330 ء سے 1453ء

300ء کے لگ بھگ اس پورے علاقے کی اکثریت عیسائی مذہب اختیار کر چکی تھی۔ 330ء میں رومی شہنشاہ قسطنطین نے عیسائیت قبول کر کے اسے سرکاری مذہب قرار دیا۔ یہی وہ بادشاہ ہے جس نے موجودہ استنبول کے مقام پر عظیم شہر قسطنطنیہ بسانے کا حکم دیا جو اس کا دارلحکومت قرار پایا۔ اس سے پہلے یہ ایک چھوٹا سا شہر تھا جو بازنطین کہلاتا تھا۔

ساتویں صدی کے دوران مسلمانوں نے شام اور مشرقی ترکی کو فتح کر لیا جس کے نتیجے میں رومی سلطنت صرف اناطولیہ کے مغربی علاقوں تک محدود ہو گئی۔ 1037ء میں اس علاقے میں طغرل بیگ نے سلجوقی سلطنت کی بنیاد رکھی۔ مشرقی اور وسطی اناطولیہ پر سلجوقوں اور مغربی ترکی پر رومنوں کی حکومت رہی۔ سلجوقی سلطنت کے زوال پر اس کی باقیات سے عثمانی ترکوں نے جنم لیا اور مشرقی ترکی پر اپنی حکومت قائم کر لی۔


18 ویں سے 13 ویں صدی قبل مسیح میں یہاں حطیوں نے پہلی بڑی ریاست تشکیل دی۔

عہد عتیق (Ancient Age) میں یہ علاقہ یونانیوں اور فارسیوں کے درمیان جنگوں کا مرکز بنا رہا۔ کبھی فارسی اس علاقے پر قابض ہو جاتے اور کبھی یونانی۔ پہلی صدی قبل مسیح میں یہ علاقہ رومیوں کے قبضے میں آ گیا جن کے حکمران قسطنطین اول نے 324ء میں قسطنطنیہ (موجودہ استنبول) کا شہر بسایا اور اسے سلطنت روما کا دارالحکومت قرار دیا۔ بعد ازاں سلطنت روما کی تقسیم کے بعد یہ مشرقی رومی سلطنت یعنی بزنطینی سلطنت کا دارالحکومت بنا۔

مسلمانوں نے ابتدائی فتوحات ہی میں موجودہ ترکی کے مشرقی علاقوں کو اپنے زیر نگیں کر لیا تھا لیکن اناضول (اناطولیہ) کے وسطی علاقے 9 ویں صدی میں سلجوقوں کی آمد تک مسلم ریاست نہ بن سکے۔ بلاد اسلامیہ پر چنگیز خانی یلغار کے بعد ترکوں نے وسط ایشیا سے ہجرت کر کے اناضول کو اپنا وطن بنایا۔ جنگ ملازکرد میں رومیوں پر سلجوقیوں کی عظیم فتح نے اس علاقے کے مستقبل کا فیصلہ کر دیا اور یوں ترکی کا بیشتر علاقہ ہمیشہ کے لیے بلاد اسلامیہ کا حصہ بن گیا۔ سلجوقیوں کے زوال کے بعد ترکی کے سیاسی منظر نامے پر عثمانی ابھرے جنہوں نے اسلامی تاریخ کی سب سے عظیم ریاست "سلطنت عثمانیہ" تشکیل دی۔

ادرنہ کی عظیم جامع سلیمیہ مسجد، عثمانی دور کی ایک خوبصورت یادگار

سلطنت عثمانیہ 631 سال تک قائم رہی اور 16 ویں اور 17 ویں صدی میں دنیا کی سب سے طاقتور سیاسی قوت تھی۔ عثمانیوں کی فتوحات ہی کے نتیجے میں اسلام وسط یورپ تک پہنچا اور مشرقی یورپ کا علاقہ عرصہ دراز تک مسلمانوں کے زیر نگیں رہا۔ زوال کے دور کے بعد سلطنت عثمانیہ نے پہلی جنگ عظیم میں جرمنی کا ساتھ دیا اور بالآخر شکست کھا کر خاتمے کا شکار ہو گئی۔ جنگ کے بعد طے پانے والے معاہدۂ سیورے کے مطابق فاتح اتحادی قوتوں نے سلطنت عثمانیہ کو مختلف ٹکڑوں میں بانٹ کر آپس میں تقسیم کر لیا۔

19 مئی 1919ء کو ترکوں نے اتحادی جارحیت کے خلاف تحریک آزادی کا اعلان کیا جس کی قیادت ایک عسکری کمان دار مصطفیٰ کمال پاشا کر رہے تھے۔ 18 ستمبر 1922ء کو تمام جارح افواج کو ترکی سے نکال باہر کیا اور ایک نئی ریاست تشکیل دی گئی جو جمہوریہ ترکیہ کہلائی۔ یکم نومبر 1922ء کو ترک مجلس (پارلیمان) نے خلافت کا خاتمہ کر دیا اور یوں اس طرح 631 سالہ عثمانی عہد کا خاتمہ ہو گیا۔ 1923ء کو معاہدہ لوزان کے تحت بین الاقوامی برادری نے نو تشکیل شدہ جمہوریہ ترکیہ کو تسلیم کیا۔

جدید تاریخ[ترمیم]

مصطفی کمال اتاترک

اگلے چند سالوں میں مصطفیٰ کمال نے، جسے ترکوں نے عظیم خدمات پر اتاترک (ترکوں کا باپ) کا لقب دیا تھا، وسیع پیمانے پر اصلاحات کیں۔ جدیدیت کے نام پر کی گئی یہ اصلاحات دراصل ملک کے مذہبی تشخص کے خاتمے کی کوشش تھیں۔ ترکی زبان کے رسم الخط کی عربی سے لاطینی کی جانب منتقلی اور لادینیت (Secularism) اختیار کرنے کا اعلان قابل ذکر ہیں۔ (دیکھئے: اتاترک کی اصلاحات)

مصطفی کمال، جنہیں عظیم خدمات کے صلے میں قوم نے اتاترک (ترکوں کا باپ) کا خطاب دیا تھا، 1938ء میں انتقال کرگئے۔ ان کے نائب عصمت انونو ملک کے دوسرے صدر بنے اور ان کے دور میں اتاترک کی اصلاحات کو جاری رکھا گیا۔

دوسری جنگ عظیم میں ابتدائی طور پر ترکی غیر جانبدار رہا لیکن آخری مراحل میں محض خیر سگالی کے تحت اتحادیوں کا ساتھ دیا اور بعد ازاں اقوام متحدہ کا بانی رکن بنا۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد اشتراکی بغاوت سے نمٹنے میں یونان کی مشکلات اور ترکی کی آبناؤں (در دانیال و آبنائے باسفورس) میں عسکری اڈے قائم کرنے کے سوویت مطالبات کے نتیجے میں ترکی کا جھکاؤ امریکہ اور مغرب کی جانب ہو گیا۔ اس سلسلے میں مغرب کی جانب سے بڑے پیمانے پر ترکی کی عسکری و اقتصادی مدد کی گئی۔

کوریائی تنازع میں اقوام متحدہ کی افواج میں شرکت کے بعد 1952ء میں ترکی نے شمالی اوقیانوسی معاہدے کی تنظیم (نیٹو) میں شمولیت اختیار کی۔

جولائی 1974ء میں قبرص میں ترک مسلمانوں پر عیسائی یونانی آبادی کے وسیع مظالم پر ترکی نے قبرص میں جارحیت کی جس کے نتیجے میں ترک جمہوریہ شمالی قبرص قائم ہوئی جسے اب تک ترکی کے علاوہ کسی ملک نے تسلیم نہیں کیا۔ آج بھی قبرص کا جزیرہ دو حصوں میں منقسم ہے۔ (دیکھیے: مسئلہ قبرص)

ترکی آئین کے تحت مسلح افواج کو ترک آئین و ملکی سلامتی کا محافظ قرار دیا گیا ہے۔ اس طرح فوج کو مختلف مواقع پر بغاوت کر کے جمہوریت کو تہہ و بالا کرنے کا موقع ملا ہے اور انہوں نے متعدد بار جمہوری حکومتوں کا تختہ الٹا ہے جن میں 1960ء کی بغاوت سب سے اہم ہے، جو وزیر اعظم عدنان میندریس کی اصلاحات کے خلاف تھی جنہوں نے ملک کو لادینیت کے نئے مفاہیم سے روشناس کرایا اور مذہب خصوصاً اسلام پر لگائی گئی بے جا پابندیاں اٹھائیں۔ فوج نے اقتدار پر قبضہ کر کے عدنان اور ان کے ساتھیوں کو تختۂ دار پر چڑھا دیا۔

1970ء کے عشرے میں ملک میں امن و امان قائم رکھنے میں ناکام مخلوط حکومتوں سے بیزار ہوکر ستمبر 1980ء میں فوج نے ایک مرتبہ پھر میں اقتدار سنبھال لیا۔ مارشل لائی ضوابط کے تحت کئی ہزار افراد پکڑ دھکڑ کی زد میں آئے۔ ان میں سے کئی ہزار کو تخریب کاری کا مجرم قرار دے کر قید و بند کی صعوبتوں جھیلنا پڑیں اور کئی کو سزائے موت بھی دی گئی۔

1982ء میں ترکی میں نیا آئین نافذ کیا گیا۔ 1989ء میں فوجی سربراہ کی جگہ طورغوت اوزال صدر بنے۔ صدر اوزال نے ترک معیشت کو جدید خطوط پر استوار کیا اور بین الاقوامی سطح پر ترکی کے رتبے کو کافی بلند کیا۔ وہ 1993ء میں انتقال کر گئے۔

مئی 1993ء میں وزیراعظم سلیمان دیمرل صدر منتخب ہوئے۔ جون 1993ء میں سابق وزیر معیشت تانسو چلر دیمرل کی جگہ راہ حق پارٹی کی سربراہ منتخب ہوگئیں اور یوں وہ ترکی کی پہلی خاتون وزیراعظم بنیں۔

اسلام پسندوں کو دبانے کے لیے استعمال کیے گئے تمام ہتھکنڈوں کے باوجود ترکی میں ان کی قوت بڑھتی چلی آ رہی ہے اور 1995ء کے انتخابات میں پہلی بار اسلام پسند رفاہ پارٹی سب سے بڑی جماعت کے طور پر ابھری اور واضح اسلامی نقطہ نظر رکھنے والے نجم الدین اربکان ترکی کے وزیر اعظم بنے۔ رفاہ پارٹی کے اسلام پسند نظریات کے بعد قومی سلامتی کونسل کے ساتھ ان کے تعلقات میں بدمزگیاں پیدا ہوگئیں۔ یہ اندیشے بھی سر اٹھانے لگے کہ کہیں نئی حکومت ترکی کے لادین نظام اور مغرب کی طرف التفات کی پالیسی کو تباہ ہی نہ کردے۔ آخر کار قومی سلامتی کونسل کے دباؤ میں آکر جون 1997ء میں اربکان کو مستعفی ہونا پڑا اور ان پر عمر بھر کے لیے سیاست میں حصہ لینے پر پابندی عائد کر دی گئی۔ اس کے باعث ہونے والی سیاسی اکھاڑ پچھاڑ کا سب سے زیادہ فائدہ بلند ایجوت کی جمہوری بائیں پارٹی کو ہوا اور انہوں نے پہلے مادر وطن پارٹی اور آگے چل کے راہ حق پارٹی کے ساتھ اتحادی حکومتی بنائی۔

18 اپریل 1999ء کو ہونے والے قومی اور بلدیاتی انتخابات کے نتیجے میں جمہوری بائیں پارٹی، مادر وطن پارٹی اور دیولت باہ چلی کی قوم پرست ایکشن پارٹی کے اتحاد نے حکومت بنائی جس میں بلند ایجوت ہی بدستور وزیراعظم رہے۔ ترکی کی آئینی عدالت (سپریم کورٹ) کے سابق سربراہ احمد نجدت سیزر کو 5 مئی 2000ء کو ترکی کا صدر منتخب کیا گیا۔ انہوں نے 16 مئی کو اپنے عہدے کا حلف اٹھایا۔

اس حکومت نے پہلے ہی برس آئینی و اقتصادی اصلاحات کا ایک منصوبہ بنایا۔ اس میں وہ نکات بالخصوص شامل تھے جن کے باعث یورپی اتحاد میں ترکی کی رکنیت کے امکانات بہتر ہوجاتے لیکن ان اصلاحات کو عملی شکل دینے کے بارے میں حکومت کی صلاحیت سے متعلق شکوک کے ساتھ ساتھ ایک اقتصادی جعل سازی کے باعث فروری 2001ء میں ترکی ایک اقتصادی بحران میں پھنس گیا۔ جیسے جیسے یہ بحران سخت ہوتا گیا، کھلے بازار میں ترک لیرا کی فروخت بڑھ گئی۔ جس کے باعث حکومت کو لیرا کی قیمت میں 40 فیصد تک کمی کرنا پڑی ساتھ ہی سود کی شرح اور اشیائے صرف کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہونے لگا اور روزگار کے مواقع بھی کم ہونے لگے۔ اس بحران کا اثر جن دیگر معاملات پر پڑا ان میں اقتصادی استحکام کے لئے بلند ایجوت حکومت کے بے نظیر اقدامات اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے 11 ارب ڈالر کے قرض کی مدد سے چلنے والا مہنگائی توڑ پروگرام سرفہرست تھے۔

ان حالات سے نمٹنے کے لئے وزیراعظم نے عالمی بینک کے ایک سابق نائب صدر کمال درویش کو مارچ 2001ء میں وزیر اقتصادیات مقرر کیا۔ متعدد اقتصادی و عملی اصطلاحات اور نچلی سطح پر اقتصادی استحکام اور میزانیہ سازی میں حکومت کو سہارا دینے کے لئے انہوں نے مئی 2001ء تک مجموعی طور پر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سے 10 ارب ڈالرز کے قرضوں کا انتظام کیا۔ فروری 2002ء میں عالمی مالیاتی فنڈ نے 9 ارب ڈالرز کے مزید قرضے منظور کردیئے اور اس شرط پر سال بھر کے دوران چند قسطوں پر مشتمل مزید 5 ارب ڈالرز کا وعدہ بھی کیا کہ ترکی اپنی اقتصادی اصطلاحات ان کے مشوروں کی روشنی میں مرتب کرے گا۔

تاہم حکومتی اتحاد میں کشیدگی چلتی رہی۔ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط (بالخصوص سرکاری اداروں کی نجکاری) اور سیاسی اصطلاحات کی سست روی تنازعات کی بڑی وجوہ تھیں۔ مئی 2002ء میں خرابی صحت کے آثار سامنے آنا شروع ہونے کے باوجود بلند ایجوت کے مستعفی نہ ہونے کے باعث وزیراعظم کی اپنی جمہوری بائیں پارٹی کے 60 ارکان اسمبلی، نائب وزیراعظم اور وزیر خزانہ سمیت کئی وزراء نے بھی استعفے دے دیئے۔

ان استعفوں کے ساتھ ساتھ حزب اختلاف کی دونوں جماعتوں اور حکومتی اتحاد میں شامل دیگر جماعتوں کی طرف سے دباؤ کے نتیجے میں ترک پارلیمان کو مقررہ وقت سے 18 ماہ قبل 3 نومبر 2002ء کو نئے انتخابات کرانے کا فیصلہ کرنا پڑا۔

موجودہ ترک وزیر اعظم رجب طیب اردوغان

ان مالیاتی گھپلوں، نظم و نسق میں کمزوری اور بد عنوانی کے باعث سیکولر طبقوں کی ساکھ شدید متاثر ہوئی۔ ان کے مقابلے میں مقامی بلدیاتی انتخابات میں فتوحات حاصل کرنے والی اسلام پسند قوتیں انتہائی ایمانداری کے ساتھ اپنا کام کر رہی تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ رفاہ پارٹی کے بعد ان سے نکلنے والا ایک دھڑا عدالت و ترقی پارٹی نمایاں ہو کر سامنے آیا اور اس نے مسلسل دو انتخابات جیت کر اب تک دائیں بازوں کی سب سے بھرپور قوت کے طور پر ابھری ہے۔ 2002ء اور 2007ء کے انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے والی عدالت و ترقی پارٹی نے آخری انتخابات میں سادہ اکثریت حاصل کر لی ہے۔ اِس وقت عبد اللہ گل صدر اور استنبول کے سابق ناظم رجب طیب اردوغان وزیر اعظم ہیں، جن کی بیویاں سر ڈھانپتی ہیں۔

2002ء کے انتخابات کے موقع پر انصاف و ترقی پارٹی کے سربراہ رجب طیب اردوغان کو 1998ء میں اپنی کسی تقریر میں اسلام کے حق میں کلمات ادا کرنے کے باعث انتخابات و وزارت عظمی کے لئے نااہل قرار دیا گیا نتیجتا ان کی جگہ ان کے نائب عبداللہ گل وزیراعظم بنائے گئے تاہم بعد میں ایک آئینی ترمیم کے ذریعے اس پابندی اور اس کی وجہ سے ہونے والی سزا کو ختم کردیا گیا۔ 9 مارچ کو ایک ضمنی انتخاب کے ذریعے اردوغان پارلیمنٹ کے رکن منتخب ہوئے اور ان کو حکومت میں لانے کی خاطر عبداللہ گل وزارت عظمی سے دستبردار ہوگئے۔ انہیں بعد ازاں پہلے دور میں وزیر خارجہ اور دوسرے دور حکومت میں صدر جمہوریہ کا عہدہ دیا گیا۔

انصاف و ترقی پارٹی کے پہلے دور اقتدار میں جنگ عراق شروع ہوگئی۔ پارلیمان نے امریکہ کے اتحادی ممالک کی افواج کے دستوں کو ترکی سے گذرنے کی اجازت نہیں دی البتہ اپنے دستے بھیجنے کی منظوری دے دی لیکن امریکہ اور ترکی بعد میں اس بات پر متفق ہوگئے کہ ترکی کی اس پیشکش سے فائدہ نہیں اٹھایا جائے گا۔

انصاف و ترقی پارٹی کے سیاسی مقاصد کی فہرست میں عراق، کردستان، یورپی اتحاد کی رکنیت، مسئلہ قبرص اور معیشت کی بہتری زیادہ نمایاں نکات ہیں۔

مارچ 2004ء میں انصاف و ترقی پارٹی نے بلدیاتی انتخابات میں 42 فیصد ووٹ حاصل کرکے اپنی پوزیشن مستحکم کرلی۔

نومبر 2007ء میں ہونے والے دوسرے انتخابات میں انصاف و ترقی پارٹی نے سادہ ترین اکثریت حاصل کر لی اور بغیر کسی جماعت سے اتحاد کے حکومت قائم کرنے میں کامیاب ہو گئی۔ اس دور میں سابق وزیر خارجہ عبد اللہ گل کو صدارت کا عہدہ دیا گیا۔

بین الاقوامی تعلقات[ترمیم]

مسئلہ قبرص[ترمیم]

قبرص کے سیاسی حالات کے باعث 1950ء کے عشرے کے وسط سے ترکی اور یونان کے تعلقات میں کشیدگی چلی آرہی ہے۔ 1960ء میں قبرص کی آزادی کے بعد یہ کشیدگی اتنی بڑھ گئی کہ دسمبر 1963ء میں وہاں سنگین نوعیت کے عیسائی مسلم فسادات پھوٹ پڑے۔ یہ فسادات 1974ء تک جاری رہے۔ ترک قبرصی 1964ء میں اقوام متحدہ کی پناہ گاہوں میں چھپنے پر مجبور ہوگئی۔ یونان میں اقتدار پر قابض فوج کی پشت پناہی کے ساتھ انتہا پسندوں کے ہاتھوں جولائی 1974ء میں قبرص کے منتخب صدر کا تختہ الٹے جانے کے بعد ترکی نے قبرص میں اپنی فوجیں اتار دیں۔ اس کے بعد سے پورا جزیرہ عملا کسی ایک حکومت کے زیر نگیں نہیں ہے۔ نصف جزیرہ ترک جمہوریہ شمالی قبرص اور نصف یونان نواز جمہوریہ قبرص کہلاتا ہے۔

منصفانہ، دیرپا اور ہمہ گیر سمجھوتے کی تلاش میں 1974ء کے بعد سے اقوام متحدہ کی زیر نگرانی مذاکرات کی کئی کوششیں کی جاچکی ہیں تاہم یہ مقصد تاحال حاصل نہیں کیا جاسکا۔ مسئلہ قبرص کے حل کی تلاش میں اقوام متحدہ کی نگرانی کی آخری کوشش 24 اپریل 2004ء کو ختم ہوگئی۔ جس کے مطابق اقوام متحدہ جزیرے پر استصواب کروانا چاہتا تھا۔ اس پر جزیرے کے دونوں حصوں میں بیک وقت استصواب کروایا گیا۔ یونانی قبرصیوں نے اس منصوبے کے خلاف اور ترک قبرصیوں نے اس کے حق میں ووٹ دیئے۔ نتیجتا یکم مئی کو یورپی اتحاد نے قبرص کو منقسم حالت میں ہی اپنا رکن بنالیا۔ جزیرے کا شمالی یعنی ترک حصہ یورپی اتحاد کا رکن نہیں۔

یونان سے تعلقات[ترمیم]

طویل جدوجہد کے بعد 1830ء میں سلطنت عثمانیہ سے آزاد ہونے والے یونان اور عثمانی حکومتوں کے درمیان تعلقات ہمیشہ تناؤ رہا لیکن 1950ء کے عشرے کے وسط میں قبرص کے مستقبل کے سوال پر بین الاقوامی تنازع کھڑے ہونے تک یونان اور جمہوریہ ترکی کے تعلقات ہمیشہ دوستانہ رہے۔ قبرص کے سوال پر جاری اختلاف کے علاوہ بھی ترکی اور یونان کے تعلقات بحیرہ ایجین کی خود مختاری کے حوالے سے بھی کئی امور پر الجھے رہے۔

لیکن 1999ء میں ترکی اور یونان میں آنے والے زلزلے نے دونوں ملکوں کو ایک دوسرے کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھانے میں مدد فراہم کی۔ یونان اور ترکی کے تعلقات میں بہتری دسمبر 1999ء میں ہیلسنکی میں ہونے والے یورپی مجلس کے اجلاس میں یورپی اتحاد کی رکنیت کے بارے میں ترکی کی درخواست پر ہمدردانہ غور کے لئے آمادہ کرنے کی ایک بڑی وجہ تھی۔ اس سے ترکی کے یورپی اتحاد اور یونان کے ساتھ تعلقات کی ایک نئی بنیاد فراہم ہوگئی۔ یورپی یونین کی رکنیت کے سوال پر یونان اب ترکی کی حمایت کررہا ہے۔

یورپ کے ساتھ تعلقات[ترمیم]

ترکی دوسرا ملک ہے جس نے 1963ء میں یورپی اتحاد بنانے سے متعلق معاہدے پر دستخط کئے تھے۔ اس کی بنیاد پر یورپی مجلس اور ترکی کی کسٹم یونین بنی۔ پھر دونوں کے درمیان کسٹم قوانین اور ضوابط سے متعلق ایک معاہدہ ہوا جو بالآخر یکم جنوری 1996ء کو نافذ کردیا گیا۔ اس معاہدے میں بھی آخر کار ترکی کے یورپی مجلس کا رکن بننے کی گنجائش رکھی گئی تھی۔ اس کے لئے ترکی نے 1987ء میں رسمی درخواست دی۔ 1989ء میں یورپی کمیشن نے یہ درخواست نہ ماننے کا فیصلہ دیتے ہوئے کہا کہ ترکی میں ابھی مزید سیاسی اور اقتصادی اصطلاحات کی ضرورت ہے۔

اکتوبر 2005ء میں یورپی اتحاد نے ترکی کو اتحاد کی مکمل رکنیت کا امیدوار قرار دیا۔

مسلم ممالک سے تعلقات[ترمیم]

پاکستان سے تعلقات[ترمیم]

ترکی پاکستان کے ساتھ دوطرفہ تجارت کا ہدف پانچ ارب ڈالر سالانہ تک لے جانا چاہتا ہے جبکہ دونوں ممالک کے درمیان 2009میں صرف 782ملین ڈالر کی دوطرفہ تجارت ہوئی جو دونوں کی صلاحیت سے بہت کم ہے۔ پاک ترک بزنس کونسل پاکستان اور ترکی کے درمیان باہمی تجارت کو 2012تک 2ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا ہوا ہے لیکن ترکی کی خواہش ہے کہ دونوں کے درمیان تجارتی ہدف کو بڑھا کر چار یا پانچ ارب ڈالر سالا نہ تک لے جایا جائے جس کیلئے دونوں ممالک کو کوششیں تیز کرنا ہوں گی۔ ترکی میں پاکستان کے تونائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کرنے کے بارے میں گہری دلچسپی پائی جاتی ہے۔ ترکی کی ایک کمپنی نے پہلے ہی سندھ میں ہوا کے ذریعے بجلی پیدا کرنے کیلئے ایک ونڈ مل یونٹ لگا رکھا ہے جبکہ ایک اور کمپنی ایک پاور پلانٹ کے ساتھ اگلے ماہ پاکستان آ رہی ہے جو کراچی کو 200 میگاواٹ سے زیادہ بجلی فراہم کرے گی۔ ترکی کی کچھ کمپنیاں پاکستان میں ہائیڈرو پاور کی صلاحیت کا بھی جائزہ لے رہی ہیں تا کہ وہ پاکستان سے پانی سے بجلی پیدا کرنے کیلئے سرمایہ کاری کر سکیں۔ ترکی نے اسلام آباد چیمبر کے ایگزیکٹیو ممبران کو پانچ سال تک کا ملٹیپل ویزا دینے کا بھی اعلان کیا جن کے پاس ایسے ویزے کیلئے پاسپورٹ موجود ہوں تا کہ وہ ترکی میں جب چاہیں آسانی کے ساتھ جا کر وہاں کاروبار کے مزید مواقع تلاش کر سکیں۔پاکستان اور ترکی بہت سے شعبوں میں ایک دوسرے کی مدد کر سکتے ہیں. 21 مئی 2012 کو ترکی کے وزیر اعظم رجب طیب اردوغان پاکستان کے دورے پر آ رہے ہیں اور وہ پاکستان کے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کر رہے ہیں ۔ پاکستانی عوام اور سیاست دان اس دورہ کو بہت اہمیت دے رہے ہیں اور مشترکہ اجلاس سے خطاب ترکی عوام کیلئے باعث فخر بات ہوگی ۔ اس وقت تمام تیاریاں مکمل ہیں اس دورے سے پاکستان اور ترکی کے باہمی تعلقات بہت بڑھنے کے اثار نظر آ رہ ہیں۔

حکومت و سیاست[ترمیم]

ترکی کا حکومتی نظام پارلیمانی جمہوری ہے جس میں حکومت کا سربراہ وزیر اعظم ہوتا ہے۔ انتظامی اختیارات حکومت اور قانونی اختیارات حکومت و قومی مجلس کے پاس ہیں۔

سربراہ مملکت کے فرائض صدر جمہوریہ (جمہور بشکانی) انجام دیتا ہے۔ صدر کو قومی مجلس سات سال کے لیے منتخب کر تی ہے تاہم اس کا مجلس کا رکن ہونا ضروری نہیں ہے۔ موجودہ صدر عبد اللہ گل ہیں جنہیں 28 اگست 2007ء کو منتخب کیا گیا۔ انتظامی اختیارات وزیر اعظم (بش بکان) اور وزراء کی مجلس (بکان لر کورولو) کے ہاتھ میں ہوتے ہیں۔

وزیر اعظم کا انتخاب مجلس میں اراکین کے اظہار اعتماد کی رائے (Vote of confidence) پر ہوتا ہے اور عموماً انتخابات میں جیتنے والی جماعت کا سربراہ ہوتا ہے۔ موجودہ وزیر اعظم رجب طیب اردوغان ہیں جو مسلسل دوسری بار وزیر اعظم بنے ہیں۔ ان کی جماعت نے 2002ء اور 2007ء کے عام انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھ۔۔

ترکی کی مجلس ترکیہ بیوک ملت مجلسی کہلاتی ہے جس کے اراکین کی تعداد 550 ہ، جو انتخابات میں کم از کم 10 فیصد ووٹ حاصل کرنے والی جماعت میں متناسب طور پر تقسیم کی جاتی ہیں۔ ہر رکن 5 سال کے لیے منتخب کیا جاتا ہے۔ ترکی کے 85 انتخابی اضلاع ہیں جو ملک کے 81 انتظامی صوبوں کی نمائندگی کرتے ہیں (استنبول تین اور انقرہ و ازمیر اپنی بڑی آبادیوں کے باعث دو انتخابی اضلاع میں تقسیم کیے گئے ہیں)۔ معلق پارلیمان کی تشکیل کو روکنے کے لیے پارلیمان میں صرف انہی جماعتوں کو نمائندگی دی جاتی ہے جو کم از کم 10 فیصد قومی ووٹ حاصل کریں۔ آزاد امیدوار بھی انتخابات میں حصہ لے سکتے ہیں، لیکن ان کے لیے اپنے انتخابی ضلع میں کم از کم 10 فیصد ووٹ حاصل کرنا ضروری ہیں۔ لادینیت کی مخالف یا علیحدگی پسند سیاسی جماعتوں کو معطل یا پابندی کا نشانہ بنا دیا جاتا ہے۔ ترکی ایک کثیر الجماعتی نظام کا حامل ہے، جس میں دائیں و بائیں بازو کی متعدد اہم سیاسی جماعتیں موجود ہیں۔

مسلح افواج[ترمیم]

مسلح افواج روایتی طور پر ایک مضبوط سیاسی قوت ہیں جنہیں اتاترک کی جمہوریہ کا محافظ سمجھا جاتا ہے۔ ترک آئین اور ملکی سالمیت کا تحفظ قانوناً مسلح افواج کو تفویض کیا گیا ہے جو قومی سلامتی مجلس کے ذریعے باضابطہ اپنا سیاسی کردار ادا کرتی ہے۔ لادینیت، جمہوریت اور اتاترک کی اصلاحات کی حفاظت فوج کا نصب العین ہے۔ یہی وجہ ہے کہ 1960ء، 1980ء اور 1997ء میں تین مرتبہ فوج نے حکومتوں کا تختہ الٹا ہے۔ ان میں سے 1960ء میں عدنان میندریس اور 1997ء میں نجم الدین اربکان کی اسلام پسند حکومتوں کو ٹھکانے لگایا گیا۔ عدنان میندریس کو سزائے موت اور نجم الدین اربکان کو تاحیات سیاست پر پابندی کا سامنا کرنا پڑا۔

انتظامی تقسیم[ترمیم]

ترکی 81 صوبوں (ایلر، واحد ایل) میں تقسیم ہے اور ہر صوبہ مزید چھوٹی اکائی اضلاع (الچہ لر، واحد: الچہ) میں تقسیم ہے۔ عام طور پر صوبہ اپنے صوبائی دارالحکومت کے نام پر ہی ہوتا ہے۔ بڑے صوبوں میں صوبہ استنبول، صوبہ انقرہ، صوبہ ازمیر، صوبہ بورصہ، صوبہ قونیہ اور صوبہ ادانا شامل ہیں۔ صوبہ اردو بھی ترکی کا ایک صوبہ ہے۔

شہر[ترمیم]

ترکی کا دارالحکومت انقرہ ہے لیکن تاریخی دارالحکومت استنبول بدستور ملک کا مالیاتی، اقتصادی و ثقافتی مرکز ہے۔ دیگر اہم شہروں میں ازمیر،بورصہ، ادانا، طرابزون، غازی عنتب، ارض روم، قیصری، ازمیت، قونیہ، مرسین، اسکی شہر، دیار باکر، انطالیا اور سامسون شامل ہیں۔ ملک کی 68 فیصد آبادی شہروں میں قیام پذیر ہے۔ مجموعی طور پر ملک میں 5 لاکھ سے زائد آبادی کے 12 اور ایک لاکھ سے زائد آبادی کے 48 شہر ہیں۔

بڑے شہر[ترمیم]

ترکی کے بڑے صوبے بلحاظ آبادی
درجہ مرکزی شہر صوبہ آبادی درجہ مرکزی شہر صوبہ آبادی

استنبول
استنبول

Ankara

ازمیر

1 استنبول استنبول 12,573,836 11 دیار باکر دیار باکر 1,460,714
2 انقرہ انقرہ 4,466,756 12 ازمیت خوجہ لی 1,437,926
3 ازمیر ازمیر 3,739,353 13 انطاکیہ حطائے 1,386,224
4 بورصہ بورصہ 2,439,876 14 منیسا منیسا 1,319,920
5 ادانا ادانا 2,006,650 15 سامسون سامسون 1,228,959
6 قونیہ قونیہ 1,959,082 16 قیصری قیصری 1,165,088
7 انطالیہ انطالیہ 1,789,295 17 بالیکیسر بالیکیسر 1,118,313
8 مرسین مرسین 1,595,938 18 قہرمان مارش قہرمان مارش 1,004,414
9 غازی عنتب غازی عنتب 1,560,023 19 وان وان 979,671
10 شانلی اورفا شانلی اورفا 1,523,099 20 آیدن آیدن 946,971
آبادی بمطابق مردم شماری 2007ء[1]

جغرافیہ[ترمیم]

ترکی ایک بین البر اعظمی ملک ہے تاہم اس کا بیشتر حصہ ایشیا میں واقع ہے۔ ملک کا کل رقبع 814،578 مربع کلومیٹر (314،510 مربع میل) ہے جس میں سے 790،200 مربع کلومیٹر (305،098 مربع میل) مغربی ایشیا میں جزیرہ نما اناضول (ایشیائے کوچک) پر مشتمل ہے اور بقیہ 3 فیصد یعنی 24،378 مربع کلومیٹر (9،412 مربع میل) یورپ میں واقع ہے۔ ترکی کی زمینی سرحد 2573 کلومیٹر (1599 میل) اور ساحلی سرحد 8333 کلومیٹر (5178 میل) ہے۔ ترکی اپنے رقبے کے اعتبار سے دنیا کا 37 واں سب سے بڑا ملک ہے۔

ترکی کو جغرافیائی طور پر عموماً سات حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے: مرمرہ، ایجین، بحیرہ روم، وسطی اناضول، مشرقی اناضول، جنوب مشرقی اناضول اور بحیرہ اسود کا علاقہ۔

ترکی یورپ اور ایشیا کے درمیان ایک پل کی حیثیت سے قائم ہے اور دونوں براعظموں کے درمیان یہ تقسیم بحیرہ اسود سے آبنائے باسفورس، بحیرہ مرمرہ اور دردانیال سے ہوتی ہوئی بحیرہ ایجین تک جاتی ہے۔ جزیرہ نما اناضول (جسے انگریزی ہجوں کے باعث اردو میں اناطولیہ کہا جاتا ہے) تنگ ساحلی پٹیوں اور وسط میں وسیع سطح مرتفع پر مشتمل ہے۔ اس سطح مرتفع کے شمال میں بحیرہ اسود کے پہاڑی سلسلے اور جنوب میں کوہ طوروس واقع ہے۔ مشرق میں پہاڑی سلسلے مزید بلند ہیں جو دریائے فرات و دجلہ جیسے اہم دریاؤں کا منبع ہیں۔ اس کے علاوہ ترکی کی سب سے بڑی جھیل وان اور سب سے بلند پہاڑ کوہ ارارات (بلندی 5137 م) بھی مشرقی علاقوں میں واقع ہیں۔

ترکی کا یہ متنوع جغرافیہ دراصل زمین کی پرتوں کی حرکت کا نتیجہ ہے جو ہزاروں سالوں میں اس خطے کو یہ شکل دی ہے اور اب بھی یہاں کا علاقہ زلزلوں کا سامنا کرتا رہتا ہے۔ باسفورس اور دردانیال بھی دراصل انہی پرتوں کی حرکت کا نتیجہ ہے۔

ترکی کا موسم بحیرہ روم کے روایتی موسم جیسا ہے جہاں گرم و خشک موسم گرما اور سرد و نم موسم سرما ہوتا ہے تاہم یہ موسم زیادہ بنجر علاقوں میں اور زیادہ سخت ہو جاتا ہے۔ ترکی کے مشرق کے پہاڑی علاقوں میں موسم سرما میں درجہ حرارت منفی 30 سے منفی 40 درجہ سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے۔۔ مغرب میں موسم سرما کا درجہ حرارت اوسط 1 درجہ سینٹی گریڈ رہتا ہے۔ موسم گرما گرم اور خشک رہتا ہے جب درجہ حرارت 30 درجہ سینٹی گریڈ سے اوپر ہی رہتاہے۔ سالانہ بارشوں کا تناسب 400 م م ہے۔ ملک کا خشک ترین حصہ قونیہ اور ملاطیہ کی سطح مرتفع ہیں، جہاں سالانہ بارش 300 م م سے بھی کم ہوتی ہے۔ مئی سال کا نم ترین مہینہ اور جولائی و اگست خشک ترین مہینے ہیں۔

معیشت[ترمیم]

آبادیاتی خصوصیات[ترمیم]

ثقافت[ترمیم]

تعلیم[ترمیم]

کھیل[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ REPUBLIC OF TURKEY, PRIME MINISTRY TURKISH STATISTICAL INSTITUTE (TURKSTAT):

مزید دیکھیے[ترمیم]

حکومت عظیم قومی ایوان