تشبیہ
تشبیہ کا لفظ "شبہ" سے نکلا ہے جس کے معنی "مماثل ہونا" کے ہیں۔ علم بیان کی اصطلاح میں جب کسی ایک شے کی کسی اچھی یا بری خصوصیت کو کسی دوسری شے کی اچھی یا بری خصوصیت کے معنی قرار دیا جائے تو اسے تشبیہ کہتے ہیں۔ تشبیہ کے پانچ ارکان ہیں
مشبہ وہ شے جسے کسی دوسری شے سے تشبیہ دی جائے اسے مشبہ کہتے ہیں۔ مشبہ بہ وہ شے جس کے ساتھ تشبیہ دی جائے، مشبہ بہ کہلاتی ہے۔ وجہ شبہ وہ مشترک صفت جو مشبہ اور مشبہ بہ میں پائی جائے، اسے وجہ شبہ کہتے ہیں۔ غرض تشبیہ وہ مقصد جس کی خاطر تشبیہ دی جائے۔ حرف تشبیہ وہ حرف جسے تشبیہ دینے کے لیے استعمال کیا جائے مثلا سا، ہی طرح ، وغیرہ وغیرہ۔
مثال
نازکی اس کے لب کی کیا کہیے پنکھڑی اک گلاب کی سی ہے
اس شعر میں محبوب کے ہونٹوں کو گلاب کی پنکھڑی سے تشبیہ دی ہے۔ محبوب کے ہونٹ مشبہ اور گلاب کی پنکھڑی مشبہ بہ ہے۔ تشبیہ کی وجہ نزاکت کا اشتراک ہے اور غرض یہ کہ محبوب کہ ہونٹ کی نزاکت اور حسن کو بڑھا کر بیان کیا جائے۔ اس شعر میں "کی سی" حرف تشبیہ ہے۔
آیا ہے تو جہاں میں مثال شرار دیکھ دم دے نہ جائے ہستیء ناپائیدار دیکھ
اس شعر میں انسان مشبہ، شرار مشبہ بہ، مثال حرف تشبیہ، ناپائیداری وجہ شبہ اور زندگی کی ناپائیداری کو واضح کرنا غرض تشبیح ہے۔