تضارب (منطق)
وکیپیڈیا سے
| اصطلاح | term |
|---|---|
|
تطویل |
tautology |
ریاضاتی منطق میں تضارب ایسے مرکب مستلف کو کہتے جو ہمیشہ جھوٹ ہو چاہے اس میں پائی جانے والی مستلف کی اقدار کچھ بھی ہوں۔ مثال کے طور پر
تضارب ہے جیسا کہ اس کے سچائی جدول سے ظاہر ہے کہ یہ ہمیشہ جھوٹ ہے۔
| p | ![]() |
![]() |
| T | F | F |
| F | T | F |
تضارب کے نفی کو تطویل کہتے ہیں، یعنی یہ ہمیشہ سچ ہوتی ہے چاہے اس میں پائی جانے والی مستلف کی اقدار کچھ بھی ہو۔ مثال کے طور پر
تطویل ہے جیسا کہ اس کے سچائی جدول سے ظاہر ہے کہ یہ ہمیشہ سچ ہے۔
| p | ![]() |
![]() |
| T | F | T |
| F | T | T |
واضح رہے کہ مرکب مستلف
اور مرکب مستلف
ایک دوسرے کے نفی ہیں
ایسی مستلف جو نہ تو تطویل ہو اور نہ ہی متضارب، کو امکانیہ کہا جاتا ہے۔
[ترمیم] اور دیکھو
[ترمیم] حوالہ جات
E=mc2 اردو ویکیپیڈیا پر ریاضی مساوات کو بائیں سے دائیں LTR پڑھیٔے ریاضی علامات

