تقسیم دولت

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

اقوام متحدہ کے ایک ادارے کی سن 2000 میں رپورٹ کے مطابق پوری دنیا کی تمام دولت کا 40% حصہ صرف ایک فی صد امیر ترین لوگوں کے قبضے میں ہے اور دنیا کے دس فی صد امیر لوگ دنیا کی 85% دولت پر قابض ہیں۔ دنیا کی آدھی آبادی دنیا کی 99 فیصد دولت کی مالک ہے جبکہ دنیا کی بقیہ آدھی آبادی دنیا کی صرف ایک فیصد دولت پر گزارہ کرنے پر مجبور ہے۔ [1][2]

دکھ کی بات یہ ہے حالات اب بھی تیزی سے امیروں کو مزید امیر بنا رہے ہیں. [3]

Parentless.JPG


Foodless.JPG

World distributionofwealth GDP and population by region.gif

امریکہ کے سن 2001 کے ایک جائیزے کے مطابق ایک فیصد امیر ترین لوگوں کے پاس 38% دولت ہے اور دس فیصد لوگوں کے پاس 71% دولت ہے جبکہ 40% غریب مل کر صرف اور صرف ایک فیصد دولت کے مالک ہیں۔ غریب ملکوں کا حال اس سے بھی کہیں بد تر ہے۔ آسان الفاظ میں اسے یوں بیان کیا جا سکتا ہے کہ ایک دعوت میں سو مہمان ہیں اور سو روٹیاں ہیں۔ ایک امیر مہمان کو 38 روٹیاں کھانے کو ملیں جبکہ 40 غریب مہمانوں کو مل کر صرف ایک روٹی میں سے ٹکڑا ٹکڑا کھانا پڑے۔

اگر پوری دنیا کی دولت (بہ لحاظ شرح تبادلہ exchange rate) کی تقسیم دیکھی جائے تو صورتحال کچھ یوں نظر آتی ہے۔
شمالی امریکہ کی آبادی 5.17% ہے اور دولت 34.39% ہے۔
یورپ کی آبادی 9.62% ہے اور دولت 29.19% ہے۔
ایشیا کی آبادی 52.18% ہے اور دولت 25.61% ہے۔
جنوبی امریکہ اور وسطی امریکہ کی آبادی 8.52% ہے اور دولت 4.34% ہے۔
مشرق وسطیٰ کی آبادی 9.88% ہے اور دولت 3.13% ہے۔
بقیہ دنیا کی آبادی 3.14% ہے اور دولت 2.56% ہے۔
افریقہ کی آبادی 10.66% ہے اور دولت 0.54% ہے۔

مزید دیکھیئے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ The World Distribution of Household Wealth. James B. Davies, Susanna Sandstrom, Anthony Shorrocks, and Edward N. Wolff. 5 December 2006.
  2. ^ The rich really do own the world 5 December 2006
  3. ^ "Wealth Inequality Charts"