تموینی نقشہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
اصطلاح term
تموینی نقشہ
رَجعت تعلق
Logistic map
recurrence relation

ریاضٰی میں رَجعت تعلق، جس کی بطور مساوات صورت یہ ہے

\ x_{n+1} = a x_n ( 1 - x_n)

یہ مساوات کے لیے شواشی طرز کا مظاہرہ کرتی ہے۔

تاریخ[ترمیم]

تصویر 9 (آبادی کا فروغ)

"لاجسٹک" فرانسیسی لفظ logis بمعنی lodging یا "گھر" سے نکلا ہے۔ تاریخی طور پر لاجسٹک میپ، کسی ایسی آبادی x_n کو لکھنے کے لیے استعمال ہوئی، جہاں وسائل محدود ہونے کی وجہ سے آبادی ایک حد سے آگے نہیں بڑھ سکتی۔ فرض کرو کہ یہ حد 1 ہے، یعنی سو فیصد۔ مثلاً x_n=0.1 کا مطلب ہے کہ وقت n پر آبادی دس فیصد ہے۔ تو آبادی بڑھنے کی شرح \frac{x_{n+1}-x_n}{x_n}  بمطابق ہو گی اس پر کہ کتنی گنجائش \ (1-x_n) باقی رہ گئ ہے، یعنی

\frac{x_{n+1}-x_n}{x_n} \propto (1-x_n)

یا

\frac{x_{n+1}-x_n}{x_n} = b (1-x_n)

جہاں b ایک دائم عدد چنا جا سکتا ہے۔ تصویر 9 میں شرح دائم b کی مختلف قدروں 0.1, 0.2, 0.3، کے لیے آبادی کا فروغ دکھایا گیا ہے۔

ہم باقی بحث میں لاجسٹک میپ کی سادہ قسم

\ x_{n+1} = a x_n ( 1 - x_n)

استعمال کریں گے۔

طرز[ترمیم]

تصویر 1
اصطلاح term
ایکا تَاَخُّر
ارتجاع
تکرار
ناصف
اخراج
ادخال
unit delay
feedback
iteration
bisector
output
input


تصویر2

رجعت تعلق مساوات کو تصویر 1 میں ارتجاع نظام کے طور پر دکھایا گیا ہے۔ وقت n پر اس نظام کا اخراج x_n، اگلے وقت n+1 کے لیے اس کا ادخال بن جاتا ہے۔ مساوات کے تکرار کے عمل کو گراف کے زریعہ تصویر 2 میں دکھایا گیا ہے۔ اس تصویر میں سرخ رنگ سے فنکشن (map)

\ y = g(x) = a x (1-x)

دکھائی گئ ہے، جبکہ کالے رنگ میں خط تنصیف

\ y=x

ہے (ناصف)۔ ان گراف (کالے ناصف اور سرخ فنکشن) کا سنگم اس رجعت تعلق کا مستقل نکتہ ہے۔ تکرار کے عمل کو ہم یوں سمجھ سکتے ہیں۔ X_0 کو رجعت مساوات سے گزارنے کے عمل کو X_0 سے سرخ گراف تک جاتی ہوئی عمودی نیلی لکیر سے دکھایا گیا ہے، جہاں سے افقی نیلی لکیر اسے خط تنصیف سے منعکس ہو کر X_1 بنتا دکھاتی ہے۔ اس طرح ایک تکرار مکمل ہوتی ہے۔

تصویر 3

یہ تصویر بنانے کا سائیلیب سکرپت یہاں ہے۔



تصویر 2 میں a=2 ۔ دیکھو کہ a کی اس قیمت کے لیے کسی بھی نکتہ سے تکرار شروع کریں تو بڑی تیزی سے مستقل نکتہ کی طرف سفر شروع ہو جاتا ہے۔ تصویر میں تیسری تکرار پر ہم مستقل نکتہ کے کافی قریب پہنچ چکے ہیں۔

تصویر 4

اسی رجعت تعلق کی تکرار a=3 کے لیے تصویر 3 میں دکھاتے ہیں۔ یہاں بھی ہم مستقل نکتہ کی طرف جاتے ہیں مگر نسبتاً بہت کم رفتار سے (زیادہ تکرار کی ضرورت پڑتی ہے)۔ بہرکیف کسی بھی آغازی قیمت سے شروع ہو کر تمام راستے اسی مستقل نکتہ کی طرف مرکوز ہوں گے۔

اصطلاح term
آغازی حالت
حساسی
آمیزش
معیادی
محور
initial condition
sensitivity
mixing
periodic
orbit


a=4[ترمیم]

تصویر 4 میں اسی رجعت تعلق مساوات کی a=4 کے لیے تکرار دکھائی گئ ہے۔ تصویر میں 500 تکرار دکھائ گئ ہیں۔ دیکھو کہ تکرار اپنے مستقل نکتہ کی طرف نہیں جاتی بلکہ بے ترتیبی سے ہر طرف ناچتی رہتی ہے۔ نیچے جدول میں ہم اس مساوات کے تکرار کے دو سلسلہ لکھتے ہیں، جو معمولی دوری سے شروع ہوتے ہیں، ایک جدول میں X_0=0.800000 اور دوسرے میں X_0=0.800001 ہے ۔ نویں تکرار تک یہ سلسلہ ایک دوسرے کی قریب ہیں، مگر انسویں تکرار کے بعد دونوں سلسلے بالکل جدا ہو جاتے ہیں۔ یقین ہی نہیں آتا کہ دونوں اتنی قربت پر شروع ہوئے تھے۔ رجعت تعلق (a=4) کی اس کفیت کو "آغازی حالت پر حساسی" کہا جاتا ہے۔ اس کے برعکس تصویر 2 (a=2) میں اگر دو قریبی نکتوں سے تکرار کے دو سلسلے چلائے جائیں تو دونوں سلسلوں کا ایک دوسرے سے فاصلہ، وقت گزرنے کے ساتھ کم ہوتا جائے گا (یعنی a=2 کے لیے رجعت تعلق آغازی حالت پر حساس نہیں)۔

جدول 1 اور 2
a=4
n X_n
0 0.800000
9 0.1478366
19 0.8200139
29 0.3203425
39 0.0979421
49 0.4960126
59 0.6536493
69 0.0853886
79 0.7755472
89 0.1448546
a=4
n X_n
0 0.800001
9 0.1469291
19 0.4132492
29 0.9384601
39 0.6175995
49 0.6723609
59 0.8131303
69 0.6325161
79 0.6063381
89 0.0508795
تصویر 5

وضحات کے لیے تصویر 5 میں اسی قیمت a=4 کے لیے ہم نے 10000 تکراروں کے بعد کی 400 تکرار دکھائی ہیں۔ دیکھو کہ یہ اپنے مستقل نکتہ کی طرف نہیں جا رہی۔ "آغازی حالت پر حساسی" شواشی پن کی پہلی نشانی ہے۔

"آغازی حالت پر حساسی" سے ایک اور اہم نکتہ نکلتا ہے۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ شمارندہ میں اعداد کو محدود درستگی سے شمار کیا جا سکتا ہے۔ فرض کرو کہ ایک شمارندہ کی اندونی درستگی تین (3) رقمی ہے۔ اب اگر نیچے دی ضرب کو دیکھیں

 2.31 \times 3.33 = 7.6923

مگر چونکہ ہمارا یہ شمارندہ صرف تین رقمی درستگی عدد سے کام کرتا ہے، اس لیے یہ جواب 7.69 نکالے گا۔ اب اگلی تکرار کے لیے 7.6923 کے بجائے 7.69 استعمال ہو گا۔ مگر ہم نے دیکھا کہ ہماری رجعت تعلق بہت حساس ہے، جس کا مطلب ہے کہ جلد ہی شمارندہ پر تکرار کے جواب اصل سے دور ہٹتے جائیں گے اور بہت سی تکرار کے بعد بالکل غلط جواب نکلیں گے۔ اس لیے کوئی بھی عام شمارندہ زیادہ تکرار کے بعد صحیح جواب نہیں نکال پائے گا۔ اس نکتہ پر ہم نیچے دوبارہ بات کریں گے۔

شواشی پن کی دوسری نشانی "آمیزش" ہے۔ تصویر چار میں ہم نے دیکھا کہ ایک نکتہ سے شروع ہو کر محور پورے وقفہ (0,1) میں پھیل گیا۔ اس طرح یہ ثابت کیا جا سکتا ہے کہ اگر وقفہ (0,1) کے دو ذیلی وقفہ I اور J ہوں، چاہے لمبائی میں جتنے ہی چھوٹے ہوں (مگر لمبائی صفر نہ ہو)، تو وقفہ I میں ایسے نکتے موجود ہونگے کہ جن سے تکرار شروع کر کے وقفہ J تک پہنچا جا سکتا ہے۔ اس کو آمیزش کہا جاتا ہے۔

شواشی پن کی تیسری نشانی "معیادی محور" ہیں۔ اگر ہم X_0=0 سے شروع کریں تو صفر پر ہی رہیں گے۔ اس محور کی معیاد 1 ہے۔ اس طرح یہ ثابت کیا جا سکتا ہے کہ یہ

\left\{ \sin^2\left(\frac{\pi}{7}\right), \sin^2\left(\frac{2\pi}{7}\right), \sin^2\left(\frac{4 \pi}{7}\right) \right\}

معیاد 3 کا ایک معیادی محور ہے۔ اگر ہم شمارندہ پر ان نکتوں میں سے کسی سے شروع کر کے تکرار شروع کریں تو، جیسا کہ اوپر بحث ہوئی کہ شمارندی درستگی محدود ہوتی ہے، شمارندہ کے مطابق بہت سی تکراروں کے بعد محور معیادی نہیں لگے گا، مگر یہ شمارندی کی محدود درستگی کی وجہ سے ہے۔ اس طرح یہ ثابت کیا جا سکتا ہے کہ اگر وقفہ (0,1) کے کسی بھی ذیلی وقفہ ، چاہے لمبائی میں جتنا ہی چھوٹا ہو (مگر لمبائی صفر نہ ہو)، تو اس وقفہ میں ایسے نکتے موجود ہونگے کہ جن سے تکرار شروع ہو کر ایک معیادی محور جنم لے گا۔

تصویر7
اصطلاح term

سایہ ؟؟
ε۔سایہ
دو شاخہ
معیاد دوہری

Shadowing lemma
ε-shadow
bifurcation
period doubling

اوپر بیان ہؤا کہ آغازی حساسی کی بنا پر کوئی بھی شمارندہ بہت سی تکراروں کے بعد غلط جواب دینا شروع کر دیتا ہے حتٰی کہ شمارندی محور بالکل مختلف ہو جاتا ہے حقیقی محور سے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا شمارندہ پر محور کی شمارندی کا کوئی فائدہ بھی ہے جب اس نے غلط محور ہی دکھانا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ جو بھی محور شمارندی ہو گا، اس محور کے قریب ایک حقیقی محور موجود ہو گا، اور ان محوروں کے درمیان فاصلہ ε سے کم ہو گا، جہاں ε شمارندی خصوصیات پر منحصر ہو گا۔ تصویر 7 میں کالے رنگ سے شمارندی محور دکھایا گیا ہے، اور سرخ رنگ میں ایک حقیقی محور ہے جو ہر قدم پر کالے محور سے ε سے کم فاصلے پر ہے۔ اسے یوں بیان کیا جاتا ہے کہ شمارندی محور کے ε۔سایہ میں ایک حقیقی محور موجود ہوتا ہے۔ اس لیے شمارندہ پر محور کی شماریات کرنے کا فائدہ ہے۔

دو شاخہ[ترمیم]

تصویر 6: دو شاخہ

یہ تصویر بنانے کا GNU Octave سکرپت یہاں ہے۔


اصطلاح term

فیگنبام دائم
باکشش
؟

Feigenbaum constant
attractive
repell

رجعت تعلق

\ x_{n+1} = r x_n ( 1 - x_n)

کو r کی کسی قدر \ 0 < r < 3 کے لیے تکرار کیا جائے، تو کسی بھی آغازی نکتہ سے شروع ہو کر ہم ایک مستقل نکتہ پر پہنچ جاتے ہیں۔ یہ تصویر 6 میں دکھایا گیا ہے۔ یعنی اس کا مستقل نکتہ باکشش ہے، جو ہر آغازی حالت کو اپنی طرف کھینچ لیتا ہے۔ اگر r کو 3 سے کچھ زیادہ بڑھایا جائے، تو محور دو نکتوں کے درمیان چھلانگیں لگاتا رہتا ہے، معیاد 2 کے ساتھ۔ تصویر 6 میں یہاں دو شاخہ شروع ہوتا ہے۔ اب مستقل نکتہ اپنے سے دور دھکیل دیتا ہے۔ اس طرح اگر r کو مزید بڑھائیں تو معیاد 4 ، پھر 8، پھر 16، کی نوبت پہنچ جاتی ہے۔ اس کو معیاد کا دوہرا ہونا کہتے ہیں۔ تصویر میں ہر شاخ دو میں تقسیم ہوتی رہتی ہے۔ جب r=3.5699456 سے آگے چلیں تو معیاد کا دوہرا ہونا ختم ہو کر شواشی طرز عمل شروع ہو جاتا ہے۔ حتٰی کہ r=4 پر مکمل شواشی ہے۔ تصویر 6 فریکٹل ہے۔

تصویر 8: دو شاخہ

تصویر 8 میں ہر شاخ کا دو میں تقسیم ہونے کی عکاسی کی گئ ہے۔ پہلی شاخ کی لمبائی d_1 دکھائ ہے، اگلے دو شاخہ کی لمبائی d_2 ہے۔ ان دونوں کا تناسب ایک دائم کی طرف جاتا ہے:

\frac{d_k}{d_{k+1}} \to 4.6692

جسے فیگنبام دائم کہا جاتا ہے۔ اس دائم کی اہمیت یہ ہے کہ یہ صرف لاجسٹک میپ تک محدود نہیں، بلکہ قدرتی شواشی مظاہر پر تجربات میں بھی اس کی یہی قدر دیکھنے میں آئی ہے۔ یعنی ان تجربات میں بھی شواشی حالت کی طرف سفر میں معیادی دوہرا پن کے دو شاخہ کی لمبائیوں میں یہی تناسب دیکھا گیا ہے۔

اور دیکھو[ترمیم]

E=mc2     اردو ویکیپیڈیا پر ریاضی مساوات کو بائیں سے دائیں LTR پڑھیٔے     ریاضی علامات