توشی صابری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

توشی صابری نام

تاریخ پیداءش 4/7/1984

Alive تاریخ وفات


وجھ شھرت[ترمیم]

توشی صابری موسیقی کار وائس آف انڈیا توشی نے بمبئی میں منعقد ایک موسیقی کے پروگرام جس کو اے آر رحمان جج کررہے تھے۔ توشی نے اس میں حصہ لیا اور پہلا انعام حاصل کیا۔

محمد اویس صابری توشی صابری کے نام سے جانا جاتا ہے جو راجستان کے صابری گھرانے سے تعلق رکھتا ہے۔ توشی اپنی خوبصورت آواز سے قوالی کے پاپ سنگر ہیں یہ اپنے صوفیا کلام کو اتنی آھستگی سے گاتا ہے کہ اس کی آواز اس پر سوٹ کرتی ہے تاہم اس نے کچھ پاپ گانے بھی زبردست گائے ہیں۔ اس نے اپنی موسیقی کو ایک جذبے اور جنون سے پیش کیا اور کہ اس نے یہ موسیقی بہت ہی چھوٹی عمر میں شروع کرلی تھی۔

موسیقی کا دور[ترمیم]

توشی نے بمبئی میں منعقد ایک موسیقی کے پروگرام جس کو اے آر رحمان جج کررہے تھے۔ توشی نے اس میں حصہ لیا اور پہلا انعام حاصل کیا۔ توشی وائس آف انڈیا کے طور پر اُبھرا اور سات فائنل گلوکاروں میں اپنا راستہ بنالیاتب وہ تین ٹاپ سنگر جو خطرناک ثابت ہورہے تھے توشی نے ان میں اپنا مقام بنایا۔

وائس آف انڈیا میں اس کے نہ سلیکٹ ہونے پر بہت سے لوگوں نے اس پر تنقید کی اس کے بہت سے چاہنے والوں نے بڑے اسٹیج کے شو میں پہچنے کیلئے اس کی مدد کی اور اس کے مقام کو سراہا۔

شو کے پرڈوسیرز اس کو واپس لانے کر مجبور ہوگئے اور انھیں نے Wild Card Round منعقد کیا جہاں سے موسیقی کار ججوں نے چار ناموں کو نامزد کیا توشی کا نام بھی ان میں سے ایک تھا۔

دوسرا Wild Card Round ووٹوں کے ذریعے منعقد ہوا اور اس میں توشی سب سے زیادہ ووٹ لیکر اس پروگرام میں واپس آیا اس میں اپنے انعام حاصل کرنے کا سلسلہ جاری رکھا اور اپنے Supports میں اضافہ کرتا گیا اور چار سنگرز میں سے اپنا مقام بنالیااس کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اور اس کا سب سے زیادہ ووٹ لیکر واپس آنا اس کی مقبولیت کا کھلا ثبوت تھااس سے پتہ چلتا تھا کہ لوگ اس کو بہت زیادہ پسند کرنے لگے ہیں۔

اے آر رحمان نے توشی کو گانے کیلئے آفر کی جو توشی قبول کرچکا تھا لیکن ابھی یہ طے نہیں ہوا تھا کہ توشی شان جو وائس آف انڈیا کا میزبان ہے توشی، عرفان، عباس اور پرانتک جو بولی وڈ کے پرانے گلوکاروں میں شامل کرلیا۔

حقیقی مقام[ترمیم]

چار ٹاپ گلوروں میں اپنا مقام بنانے اور وائس آف انڈیا میں ووٹوں کے ذریعے واپس آنے کے بعد توشی نے دوسرے شو جیسے استادوں کے استاد جو جیتا وہی سپرسٹار میں حصہ لیا۔ اگرچہ استادوں کے استاد میں توشی جیت تو نہ سکا لیکن فائنل تک ضرور پہنچا لیکن راجہ حسن کے سارے گام کی شہرت کھودی ۔

ذاتی زندگی[ترمیم]

توشی صابری چار جولائی 1984 انڈیا کے شہر پنجاب میں پیدا ہوئے لیکن بعد میں راجستان کے جے پور شہر میں چلے گئے۔ صابری ایک موسیقی کار گھرانے سے تعلق رکھتا ہے اس نے بہت ہی چھوٹی عمر میں گانا شروع کردیا تھا۔

صابری کے والد کلاسک انڈین موسیقی کار تھے شارب صابری جو توشی کا بھائی ہے جو کئی میوزیک کے پروگرام میں حصہ لے چکا ہے انھیں اپنی جدوجہد کو جاری رکھنے کیلئے وہ بمبئی آیا اُس نے اپنی 12thکلاس کے سالانہ امتحانات سے پہلے ہی چھوڑدی اور بمبی میں اچھی نوکری حاصل نہ کرسکا۔ اس نے اپنے آپ کو ایک بڑا گلوکار ثابت کروانے کیلئے شادیوں، پارٹیوں، ہوٹل حتی کہ بار میں بھی گانا شروع کردیا ۔

بمبئی میں حملہ

چھ جنوری 2008کی آدھی رات جب توشی کچھ وقت اپنے دوستوں کے ساتھ انجوائے کر رہا تھا چار انجان لڑکوں نے توشی پر حملہ کیا انھیں نے ایک کلہاڑی کے ذریعے توشی کے سر پر حملہ کیا۔ حملے کی کوئی خاص وجہ معلوم نہیں ہوسکی۔

زخمی توشی کو جلدی سے نیناواتی کے ہسپتال میں پہنچایا گیا جہاں پر اس کی دماغ کی ہڈی کا علاج کیا گیا اور بعد میں ICUمیں منتقل کردیا گیا۔

توشی تیزی سے صحت یاب ہوگیا لیکن اس کا دائیں ہاتھ کچھ وقت کیلئے کام نہ کرسکا جس کی بعد میں اس کو اپنے ہاتھ کی تھراپی کروانی پڑی۔