تھامپسن، مینی ٹوبا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
تھامپسن
Thompson
—  شہر  —
ہائی لینڈ ٹاور ، تھامپسن کی سب سے بڑی عمارت
عرفیت: شمال کا مرکز
صد سالہ شہر
تھامپسن is located in Manitoba
تھامپسن
مینیٹوبا میں تھامپسن کا محل وقوع
متناسقات: 55°44′36″N 97°51′19″W / 55.74333°N 97.85528°W / 55.74333; -97.85528
ملک کینیڈا
صوبہ مینیٹوبا
علاقی شمالی علاقہ
قیام 1956
قیام بلدیہ 1967 قصبہ
  1970 شہر
حکومت
 - میئر ٹِم جاہنسٹن
 - حکومتی ادارہ تھامپسن سٹی کونسل
رقبہ
 - کُل 17.18 کلومیٹر2 (6.6 میل2)
آبادی (2006 مردم شماری)
 - کُل 13,446
 کثافتِ آبادی 782.8/کلومیٹر2 (2,027.4/میل2)
 -  کثافت 3.9/کلومیٹر2 (10.1/میل2)
منطقۂ وقت وسطی منطقۂ وقت (یو ٹی سی−6)
 - موسمِ گرما (د‌ب‌و) وسطی دھوپ بچتی وقت (یو ٹی سی−5)
رموز ڈاک R8N
رموز رقبہ 204
Demonym Thompsonnite
ویب سائٹ تھامسن کا سرکاری موقع جال


تھامپسن کا شہر کینیڈا کے صوبے مینی ٹوبا کے شمال میں واقع ہے۔ اسے شمال کا مرکز بھی کہا جاتا ہے کیونکہ خدمات اور تجارت کے لئے اس علاقے میں یہ بڑا مرکز ہے۔ تھامپسن کا شہر امریکی سرحد سے ۸۳۰ کلومیٹر شمال، ونی پگ سے ۷۳۹ کلومیٹر شمال اور فلن فلان سے ۳۹۶ کلومیٹر شمال مشرق میں واقع ہے۔ اسے صوبے کا تیسرا بڑا شہر مانا جاتا ہے۔ اس کی کل آبادی ۱۳۴۴۶ نفوس پر مشتمل ہے اور یہ مزید ۳۶۰۰۰ سے ۶۵۰۰۰ افراد کو سہولیات مہیا کرتا ہے۔ یہاں موجود سہولیات عموماً اس سے کافی بڑے شہروں میں ملتی ہیں۔

تاریخ[ترمیم]

تھامپسن کی جدید تاریخ ۱۹۵۶ میں شروع ہوئی جب ۴ فروری کو ایک بڑا معدنی ذخیرہ فضائی سروے میں دریافت ہوا۔ یہ فضائی سروے معدنیات کی تلاش کے سلسلے میں علاقے میں دس سال سے ہو رہا تھا۔ ۱۹۵۷ میں یہاں آبادی شروع ہوئی جو مینی ٹوبا کی حکومت اور انکو لمیٹیڈ کے درمیان معاہدے کا نتیجہ تھی۔ تھامپسن انکو کارپوریشن کے چیئرمین کے نام پر رکھا گیا ہے اور اسے باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت بسایا گیا ہے۔ ۱۹۷۰ کی دہائی کے معاشی بحران سے قبل یہاں کی آبادی ۲۶۰۰۰ افراد تھی۔ ۱۹۵۷ کے معاہدے کے تحت انکو کو کیلسی جنریٹنگ سسٹم کے لئے معاشی مدد مہیا کرنی اور سی این کی لائن سے ملانے کے لئے پٹڑی بچھانی تھی۔ تھامپسن کو ۱۹۶۷ میں شہر کا درجہ دیا گیا جب کینیڈا کے قیام کے سو برس پورے ہوئے تھے۔ ۱۹۷۰ میں ملکہ الزبتھ دوئم جب یہاں شاہی دورے پر آئیں تو یہاں کی آبادی ۲۰۰۰۰ ہو چکی تھی۔ آئیندہ دہائیوں میں آبادی گھٹنے لگی حتٰی کہ آبادی ۱۴۰۰۰ پر آ کر گھٹنا بند ہو گئی۔ تھامپسن کو شمال کا مرکز بھی کہا جاتا ہے کیونکہ تھامپسن اس علاقے میں سیاست اور تجارت کا اہم ترین مرکز ہے۔

معیشت[ترمیم]

تھامپسن علاقے میں کان کنی، مل، دھاتوں کو پگھلانے اور نکل کی صفائی کا اہم اور بڑا مرکز ہے۔ یہاں آنے والے نکل میں لیبرے ڈار سے آنے والی نکل بھی شامل ہے۔ ویل انکو لمیٹڈ کے علاوہ مینی ٹوبا ہائیڈرو، کام ائیر، ایم ٹی ایس اور صوبائی حکومتیں بھی یہاں کے اہم آجرین میں شمار ہوتی ہیں۔ ان میں سے بڑی تعداد اساتذہ اور کاروباری افراد کی ہے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے بہت سارے دفاتر یہاں قائم ہیں۔ تھامپسن ریٹیل کا اہم مرکز ہے اور ہر عمر کے ملبوسات، جانوروں کی ضروریات، جیولری سٹور، ٹریول ایجنسیاں، گاڑیوں کے ڈیلر اور گروسری سٹور یہاں ہر جگہ مل جاتے ہیں۔ کام ائیر اور پیری میٹر ایوی ایشن ونی پگ اور تھامپسن کے درمیان براہ راست سفری سہولیات مہیا کرتی ہیں۔ وقفے وقفے سے یہاں جیٹ بھی چلتے ہیں کیونکہ تھامپسن کے ہوائی اڈے کی فضائی پٹی بوئنگ ۷۳۷ کے لئے موزوں ہے۔ تاہم طویل المدتی جیٹ سروس ابھی تک کوئی بھی مہیا نہیں کر سکا۔ تھامپسن ٹرانزٹ شہریوں کے لئے ذرائع نقل و حمل مہیا کرتا ہے۔ اسے گرے گوز بس لائنز چلاتی ہے۔ حالیہ معاشی ترقی کے نتیجے میں یہاں مناسب کرائے پر رہائشی مکانات کی قلت ہو گئی ہے۔ اس ترقی کی وجہ ویل انکو کی نکل کی کانیں اور وسکواٹم جنریٹنگ سٹیشن کے منصوبے ہیں۔ وسکواٹم تک رسائی کے لئے سڑک کی تعمیر ۲۰۰۶ میں شروع ہو گئی تھی اور آبی ڈیم کے منصوبے پر کام جاری ہے جو ۲۰۱۲ تک مکمل ہو جائے گا۔

سرد موسم میں ٹیسٹنگ[ترمیم]

چونکہ تھامپسن کا موسم نیم آرکٹک نوعیت کا ہے اس لئے یہاں سرد موسم کے حوالے سے ٹیسٹنگ ہوتی رہی ہے۔ گاڑیاں بنانے والی کمپنیاں جیسا کہ کرائسلر، فورڈ اور ہمر وغیرہ اپنی گاڑیاں سردیوں میں تھامپسن میں ٹیسٹ کرتے ہیں۔ ماحولیاتی ٹیسٹ ریسرچ اور تعلیم کے لئے ایک الگ سے مرکز قائم کیا جا رہا ہے جو سال بھر خصوصی حالات میں ٹیسٹنگ کی سہولیات مہیا کرے گا۔