ثمامہ بن اثال
|
|
اس مضمون یا قطعہ کو ویکیپیڈیا کے معیار کے مطابق از سر نو لکھنے کی ضرورت ہے۔ برائے مہربانی اسے بہتر بنائیں۔ |
نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے گھڑ سواروں کا ایک دستہ نجد کی طرف روانہ کیا۔ وہ دستہ بنی حنیفہ قبیلے کے ایک شخص کو پکڑ لایا۔ جس کو ثمامہ بن اثال کہا جاتا تھا۔ انہوں نے لا کر اس کو مسجد کے ستونوں میں سے ایک ستون کے ساتھ باندھ دیا۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کے پاس جا کر کہا: ثمامہ! تمہارا کیا خیال ہے؟(یعنی اسلام قبول کرتے ہو یا نہیں؟) اس نے کہا : اے محمد!میرا خیال بہت اچھا ہے۔ اگر آپ مجھے قتل کریں گے تو ایک ایسے شخص کو قتل کریں گے جس کے خون کا بدلہ لیا جائے گا۔اگرآپ مجھ پر احسان کرتے ہوئے آزاد کردیں گے توایک ایسے شخص کو آزاد کردیں گے جو احسان فراموش نہیں بلکہ احسان کا قدر دان ہے۔ اگر آپ مال چاہتے ہیں تو جس قدر چاہتے ہو میرے مال سے لے لو۔آپ نے اس کو اس کے حال پر اگلے دن تک کے لیے چھوڑ دیا۔ جب اگلا دن ہوا تو آپ نے پھراسی طرح فرمایا: کیا خیال ہے ثمامہ! اس نے کہا: میرا وہی موقف ہے جو میں نے کل آپ سے کہہ دیا تھا۔ اگر مجھے قتل کرو گے تو ایسے آدمی کو قتل کرو گے جس کے خون کا بدلہ لیا جائے گا اگر آپ احسان کریں گے تو ایک قدر دان پر احسان کریں گے۔ آپ نے مزید ایک دن تک کے لیے اس کواس کے حال پر چھوڑ دیا۔ اس سے اگلے دن فرمایا: اب آپ کا کیا خیال ہے؟ اس نے جواب دیا وہی جو میں نے آپ سے کہہ دیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ثمامہ کو آزاد کردو۔ وہ ایک نخلستان میں چلا گیا، جو مسجد کے قریب ہی تھا۔ وہاں اس نے غسل کیا پھر مسجد میں داخل ہوا اور پکاراٹھا”میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود (برحق)نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اللہ کے سچے رسول ہیں“اے محمد! اللہ کی قسم ہے اس زمین پر آپ کے چہرے سے زیادہ ناپسندیدہ چہرہ میرے لیے کوئی نہیں تھا۔ جبکہ اب آپ کا چہرہ اقدس میرے لیے تمام چہروں سے زیادہ پسندیدہ ہے۔ اللہ کی قسم! آپ کا دین میرے لیے تمام دینوں سے زیاد ہ برا تھا جبکہ اب آپ کا دین تمام ادیان سے زیادہ پسندیدہ ہوگیا ہے۔ اللہ کی قسم !کوئی شہر آپ کے شہر سے زیادہ برا نہیں لگتا تھا جبکہ اب آپ کا شہر تمام شہروں سے پیارا لگتا ہے۔آپ کے گھڑسوار دستے نے مجھے پکڑ لیا۔ اب میں عمرہ کرنا چاہتا ہوں۔آپ کا کیا مشورہ ہے؟رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کو خوشخبری سنائی اور حکم دیا کہ آپ عمرہ کرآئیں۔جب وہ مکہ آیا۔ اس کو کسی کہنے والے نے کہا تو”صابی (بدمذہب )ہوگیا“اس نے کہا ہرگز نہیں۔ میں تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر ایمان لاکر مسلمان ہوچکا ہوں۔ اللہ کی قسم ! اب کے بعد یمامہ سے تمہارے پاس گندم کا ایک دانہ بھی نہیں آیا کرے گا حتی کہ اسکے بارے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اجازت دیں“