جابر بن سنان البتانی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
البتانی
پیدائش 858ءء
حران (ترکی)
وفات 929ءء
سکونت شام
میدان ریاضیدان، ماہر فلکیات

ان کا نام ابن عبد اللہ محمد بن سنان بن جابر الحرانی ہے، البتانی کے نام سے مشہور ہیں، حران میں پیدا ہوئے اور عراق میں وفات پائی، ان کا زمانہ دوسری صدی ہجری کا آخری اور تیسری صدی ہجری کی شروعات کا زمانہ ہے، ان کا شمار دنیا کے عظیم ترین فلکی سائنسدانوں میں ہوتا ہے، اس کی وجہ ان کے وہ اہم نظریات ہیں جو انہوں نے اس میدان میں وضع کیے، اس کے علاوہ انہوں نے جبر، حساب اور مثلثات میں بھی کافی نظریات وضع کیے ہیں.

آسمانی اجرام اور ستاروں کے رصد میں مشہور ہیں، حالانکہ ان کے زمانے میں آج کے مقابلے میں رصد کے آلات نہ ہونے کے برابر تھے اس کے باوجود انہوں نے جو ارصاد جمع کیے ہیں انہیں آج کے فلکیات دان حیرت اور احترام کی نظر سے دیکھتے ہیں.

فلک اور جغرافیا پر ان کی بیش قیمت تصانیف ہیں، ان کے بنائے ہوئے فلکی ٹیبل اور زیچ قرونِ وسطی سے ہم تک پہنچنے والے درست ترین زیچ ہیں، کارلو نللینو کی تحقیق سے 1899 عیسوی کو سپین کی اسکوریل لائبریری میں محفوظ ان کی کتاب “الزیج الصابی للبتانی” شائع ہوئی جس میں ساٹھ سے زائد اہم فلکیات موضوعات زیرِ بحث لائے گئے ہیں جیسے فلکی دائرے کی تقسیم اور اس کے حصوں کو آپس میں ضرب اور تقسیم کرنا، رصد سے ستاروں کی حرکات معلوم کرنا اور ان کے مقامات بنانا وغیرہ.. انہوں نے یونانیوں کے ہندسی طور پر حل کردہ بہت سارے مسائل کا درست ریاضیاتی حل دریافت کیا جیسے جبری طریقے سے زاویوں کی ویلیو معلوم کرنا.

انہوں نے گرما اور سرما دونوں کی ویلیو درست کی اور دن کے نسبتی فلک سے فلکِ بروج (سورج کے گرد گھومنے کی نسبت سے زمین کا اپنے گرد چکر کا جھکاؤ) کی ویلیو متعین کی، انہوں نے دریافت کیا کہ یہ ویلیو 23 درجہ اور 35 منٹ ہے، آج جو درست ویلیو ہے وہ بھی 23 درجہ ہے..!! یقیناً یہ ان کی اہم ترین فلکیاتی دریافتیں ہیں.

انہوں نے سورج اور چاند کے خسوف کے بہت سارے حالات رصد کیے، البتانی نے شمسی سال کا طول ناپا اور اس کے قیاس میں صرف 2 منٹ 22 سیکنڈ کی غلطی کی..!!