جامعہ عثمانیہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
جامعہ عثمانیہ
تاسیس 1918
قسم عوام
مستشار E.S.L Narsimhan, Governor of Andhra Pradesh
محل وقوع حیدرآباد دکنآندھرا پردیشIndia Flag of بھارت
موقع جال www.osmania.ac.in
Osmania University is accredited with 5 stars level by NAAC

جامعہ عثمانیہ : حیدر آباد دکن کا مشہور جامع ہے۔ اس جامعہ میں اردو میڈیم کی تعلیم بھی رائج ہے۔


تاریخ[ترمیم]

1918 میں ریاست حیدرآباد کے ساتویں نظام فتح جنگ میر عثمٰن علی خان آصف جاہ ہفتم نے سنگ بنیاد رکھی۔ یہ جامع بھارت کا ساتواں، اور جنوبی ہند کا تیسرا قدیم تر جامع ہے۔ اور ریاست حیدر آباد کا پہلا جامع ہے۔[1] .

اردو ذریعہ تعلیم کے سلسلے میں اس یونیورسٹی کا جو کارنامہ رہاہے شاید مستقبل میں کوءی یونیورسٹی انجام نہ دے سکے۔۔لیکن ہم اردو داں طبقہ اورحکومت ہند سے اس بات کی درخواست کرتاہوں کہ کسی طرح اس کی بھرپاءی کی جاءے۔۔

تبدیلی ذریعہ تعلیم[ترمیم]

اگر ہم جامعہ کے ذریعہ تعلیم کی تبدیلی کی بات کریں تو وہ بہت ہی بھیانک ہے۔ نہ جانےاردوزبان سے کیا جلن تھی کہ اس کے ساتھ بہت بڑا ظلم ہوا اور۱۹۴۸ء کوعثمانیہ یونیورسٹی کے اندراردو کے بیش بہاذخیرہ کو نذرآتش کردیا گیا۔یہ واقعہ تاریخ کے سیاہ باب میں بہت ہی صاف طریقے سے درج ہے۔ دسمبر سنہ 1948ء کے بعد سے دیڑھ دو سال تک جامعہ ہنگامہ و غیر یقینی حالات سے دوچار رہی۔ ذریعہ تعلیم کے مسئلہ پر مختلف قسم کی کمیٹیاں بنتی رہیں اور نئی نئی تجاویز پیش ہوتی رہیں۔ لیکن منزل کا کسی کو پتہ نہ تھا۔ اکثراساتذہ عاجلانہ فیصلوں اور کام کے طریقہ کار سے مطمئن نہ تھے۔ ہندی کو ملک کی قومی زبان بنانے کے فیصلے کے ساتھ ہی ہندوستانی زبان کا تصور بھی ختم ہوگیا۔ ارباب جامعہ دو سال کے تجربہ کے بعد اس نتیجہ پر پہنچے کہ ہندی کو ذریعہ تعلیم بنانا ممکن نہیں۔ سابقہ فیصلے کی روشنی میں پروفیشنل کورسس میں انگریزی کے ذریعہ تعلیم کا زور و شور کے ساتھ آغاز ہوچکا تھا۔ آرٹس و سائنس کی فیکلٹیوں کیلئے بھی تعلیمی سال 1951-52ء سے انگریزی ذریعہ تعلیم بنانے کا فیصلہ کرلیا گیا۔ اس طرح ایک ہندوستانی زبان کے ذریعہ تعلیم دینے والی ملک کی پہلی منفرد جامعہ کا کردار بدل دیا گیا۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ History oucde.ac.in


بیرونی ورابط[ترمیم]