جاوید احمد غامدی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
جاوید احمد غامدی
مکمل نام جاوید احمد غامدی
پیدائش 18 اپریل، 1951
عہد دورِ جدید
علاقہ پاکستانی عالم دین
مکتبہ فکر فراہی-اصلاحی
شعبہ عمل شریعت اور تفسیر قرآن
افکار و نظریات فقہ اور شریعت کی علیحدگی؛ اسلام کے بنیادی مآخذ سے متعلق قوانین؛ اسلامی تعلیم کے مکمل ضوابط؛
مؤثر شخصیات امین احسن اصلاحی ، حمید الدین فراہی ، ابوالاعلی مودودی

جاوید احمد غامدی پاکستان سے تعلق رکھنے والے مدرسہ فراہی کے معروف عالم دین، شاعر ،مصلح ، فقیہ العصر ، اور قومی دانشور ہیں۔ [1]

سوانحی خاکہ[ترمیم]

جاوید احمد غامدی کی پیدایش 18 اپریل 1951ء کو ضلع ساہیوال کے ایک گاؤں جیون شاہ کے نواح میں ہوئی۔ آبائی گاؤں ضلع سیالکوٹ کا ایک قصبہ اور آبائی پیشہ زمینداری ہے۔ ابتدائی تعلیم پاک پتن اور اس کے نواحی دیہات میں پائی۔ اسلامیہ ہائی اسکول پاک پتن سے میٹرک اور گورنمنٹ کالج لاہور سے بی اے اور اس کے ساتھ انگریزی ادبیات میں آنرز (حصہ اول) کا امتحان پاس کیا۔ عربی و فارسی کی ابتدائی تعلیم ضلع ساہیوال ہی کے ایک گاؤں نانگ پال میں مولوی نور احمد صاحب سے حاصل کی۔ دینی علوم قدیم طریقے کے مطابق مختلف اساتذہ سے پڑھے۔ قرآن و حدیث کے علوم و معارف میں برسوں مدرسۂ فراہی کے جلیل القدر عالم اور محقق امام امین احسن اصلاحی سے شرف تلمذ حاصل رہا۔ ان کے دادا نور الٰہی کو لوگ گاؤں کا مصلح کہتے تھے۔ اسی لفظ مصلح کی تعریب سے اپنے لیے غامدی کی نسبت اختیار کی اور اب اسی رعایت سے جاوید احمد غامدی کہلاتے ہیں۔ دانش سرا، المورد، ماہنامہ اشراق، ماہنامہ رینی ساں Renaissance کے بانی اور برہان، میزان، البیان، اشراق اور خیال و خامہ کے مصنف ہیں۔

کام[ترمیم]

جاوید احمد غامدی نے کم و بیش 30 برس پہلے اپنے کام کا آغاز جس احساس کی بنا پر کیا، وہ انھی کے الفاظ میں یہ ہے

تفقہ فی الدین کا عمل ملت میں صحیح نہج پر قائم نہیں رہا۔ فرقہ وارانہ تعصبات اور سیاست کی حریفانہ کشمکش سے الگ رہ کر خالص قرآن و سنت کی بنیاد پر دین حق کی دعوت مسلمانوں کے لیے اجنبی ہو چکی ہے۔ قرآن مجید جو اس دین کی بنیاد ہے، محض حفظ و تلاوت کی چیز بن کر رہ گیا ہے۔ امت کی اخلاقی اصلاح اور ذہنی ترقی کے لیے اس سے رہنمائی نہیں لی جاتی اور ہم عمل کے لیے اس قوت محرکہ سے محروم ہوگئے ہیں جو صرف قرآن ہی سے حاصل ہو سکتی تھی۔ مذہبی مدرسوں میں وہ علوم مقصود بالذات بن گئے ہیں جو زیادہ سے زیادہ قرآن مجید تک پہنچنے کا وسیلہ ہو سکتے تھے۔ حدیث، قرآن و سنت میں اپنی اساسات سے بے تعلق کر دی گئی ہے اور سارا زور کسی خاص مکتب فکر کے اصول و فروع کی تحصیل اور دوسروں کے مقابلے میں ان کی برتری ثابت کرنے پر ہے

المورد

تصنیف و تالیف[ترمیم]

غامدی 1980ء سے دینی علوم پر علمی اور تحقیقی کام انجام دے رہے ہیں۔ ان کے کام کے وہ اجزا حسب ذیل ہیں جو تصانیف کی صورت اختیار کر چکے ہیں:

  • البیان (الفاتحہ۔البقرہ) قرآن مجید کا ترجمہ اور تفسیر
  • البیان (الملک۔الناس) قرآن مجید کا ترجمہ اور تفسیر
  • میزان: دین کی تفہیم و تبیین
  • برہان: تنقیدی مضامین کا مجموعہ
  • مقامات: دینی، ملی اور قومی موضوعات پر متفرق تحریریں
  • خیال و خامہ: مجموعہء کلام

يہ كتب المورد كی ويب سائٹ سے مفت ڈاؤن لوڈ كی جا سكتی ہيں۔

اردو ماہنامہ[ترمیم]

اشراق اردو زبان میں غامدی کے افکار کا ترجمان ہے۔ اس کا آغاز 1985ء سے ہوا۔ 1985ء تک یہ ایک سلسلۂ منشورات کے طریقے پر شائع ہوتا رہا۔ 1985ء میں اسے باقاعدہ ڈیکلریشن مل گیا۔ اس وقت سے یہ رسالہ باقاعدگی سے شائع ہو رہا ہے۔ اس کے اہم سلسلے یہ ہیں: قرآنیات، معارف نبوی، دین و دانش، نقد و نظر، نقطۂ نظر، حالات و وقائع، تبصرۂ کتب ۔

انگریزی ماہنامہ[ترمیم]

رینی ساں (Renaissance) انگریزی زبان میں غامدی کے افکار کا ترجمان ہے۔ اس کا آغاز 1991ء سے ہوا۔ اور اس وقت سے یہ رسالہ باقاعدگی سے شائع ہو رہا ہے۔ اس کے اہم سلسلے یہ ہیں: Editorial, Quranic Exegesis, Reflections, Book Review, Queries, Selection, New and Views, Dialouge, Islamic Law, Scriptures

ادارۂ علم و تحقیق "المورد"[ترمیم]

یہ ادارہ 1991ء میں قائم کیا گیا۔ اس کا بنیادی مقصد اسلامی علوم سے متعلق علمی اور تحقیقی کام، تمام ممکن ذرائع سے وسیع پیمانے پر اس کی نشر و اشاعت اور اس کے مطابق لوگوں کی تعلیم و تربیت کا اہتمام ہے۔

بیرونی روابط[ترمیم]

سانچہ:اسلامی اوکیہ جوت