جاوید چوہدری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

جاوید چودھری پاکستان کے مایہ ناز اور معروف کالم نگار ہیں۔ ان کے کالم اپنی جدت اور معلوماتی ہونے میں کوئی ثانی نہیں رکھتے۔ وہ نوجوان نسل میں بے حد مقبول ہیں۔

جاوید چودھری

جاوید چودھری "زیرو پوائنٹ" کے نام سے کالم لکھتے ہیں اور ٹی وی پروگرام ”کل تک“ کے میزبان بھی ہیں۔
جاوید چوہدری روزنامہ جنگ کے کالم نگار تھے لیکن آج کل وہ روزنامہ ایکسپریس اور ایکسپریس نیوز ٹیلیویژن سے وابستہ ہیں۔

اقتباس[ترمیم]

اپنی کتاب زیرو پوائنٹ میں "این کاونٹر ٹو" کے عنوان سے جاوید چودھری لکھتے ہیں: "رسالہ این کاونٹر دوسری جنگ عظیم کے فوراً بعد دنیا میں کمیونزم کا سب سے بڑا نقیب بن کرطلوع ہوا۔ آفسٹ پیپر پر جدید ترین پرنٹنگ سسٹم کے تحت شائع ہونے والا یہ رسالہ پیرس کی بندرگاہوں، ائرپورٹس اور ریلوے اسٹیشنوں سے نکلتا اور پھر چند ہی روز میں دنیا بھر کے ٹی ہاوسز، کافی شاپس اور شراب خانوں میں پہنچ جاتا، جہاں نہ صرف اس کی ایک ایک سطر کو الہام سمجھ کر پڑھا جاتا، بلکہ ایمان کا درجہ دے کر اس پر عمل درآمد بھی شروع کر دیا جاتا۔ ہم اگر مارکسی نظریات، مارکسزم کے پیروکاروں کے حلیوں اور ان کے متشدد نظریات کی تاریخ کھود کر نکالیں تو ہمیں اسکے پیچھے "این کاونٹر" ہی ملے گا، جس نے پوری دنیا میں بھوک کو مضبوط ترین فلسفہ بنا دیا، یہ این کاونٹر ہی تھا جس سے متاثر ہو کر لوگوں نے بال بڑھا لیئے، غسل کرنے کی عادت ترک کر دی، مارکسی لٹریچر کو مقدس سمجھ کر اس کا ایک ایک لفظ رٹ لیا، بیویوں کو طلاقیں دے دیں اور بچوں کو "ان امیروں کو لوٹ لو" کا درس دینا شروع کر دیا۔

رسالے کے پیچھے کروڑوں روبل تھے، دنیا کے ذہین ترین دماغ تھے، ماہر صحافی تھے، انتہائی زیرک نقاد تھے، لہٰذا اس دور میں اس سے بڑھ کر معیاری ، جامع اور پراثر کمیونسٹ جریدہ پوری دنیا میں کوئی نہیں تھا۔ معیار کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ سپبنڈر، آڈن اور مارلو جیسے دانشور اسکے ایڈیٹوریل بورڈ میں شامل تھے۔۔۔۔

لیکن قارئین کرام المیہ دیکھیئے "این کاونٹر" کی اشاعت کے دس پندرہ برس بعد انکشاف ہوا کہ جسے دنیا کمیونزم کی بائبل سمجھ رہی تھی، وہ دراصل امریکی سی آئ اے کا منصوبہ تھا جو برسوں تک کمیونزم دنیا کو بیوقوف بناتا رہا، ان کےنظریات میں زہر گھولتا رہا، یہاں تک کہ کمیونزم کے ٹارگٹ ممالک میں مقامی سطح پر کمیونزم کے خلاف مزاحمت شروع ہو گئی۔


عرصے بعد سی آئ اے کے این کانٹر پروجیکٹ کے چیف نے بتایا کہ ہم نے اس رسالے کے ذریعے کمیونزم کو اتنا کڑا، سخت اور غیر لچک دار بنا دیا کہ وہ لوگوں کے لیئے قابل قبول نہ رہ سکا۔ ہم نے این کانٹر کے پلیٹ فارم سے اشتراکی نظریات کے حامل لوگوں کو بے لچک، متشدد اور سخت موقف کے حامل افراد ثابت کر دیا جس کے بعد تیسری دنیا میں ان لوگوں کے خلاف مزاحمتی تحریکیں شروع ہوئیں اور ہمارا کام آسان ہو گیا۔"