جاٹ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش


هندوستان کے بارے میں مسلمان مورخین کی تحریروں مین جٹوں کا ذکر کہیں کہیں ملتا هے ـ ابن خردازبه اندازاًً نو سو باره عیسوی کرمان کی سرحد سے منصوره تک کا فاصله آسی پرسنگ بتاتا هے ـ اور کہتا هے یه راسته زتوں کے علاقے سے هو کر گزرتا هے جو اس پر نظر رکهتے هیں ـ مجمعالتواریخ اندازاًً ١١٢٦ء کے مصنف کے مطابق جٹ اور میڈیائی هیم کی اولادیں هیں ـ دونوں هی سندھ کی وادی میں دریائے بہار کے کنارے آباد تهے سنده کی وادی سے مراد میانوالی سے لے کر نیچے دریا کے دهانوں تک کا علاقه ہے

اور جٹ میڈیاؤں کے مطیع تهے جن کے دباؤ نے ان کو دریائے پاهان کے اُس پار دهکیل دیاـ تاهم جٹ کشتیاں استعمال کرنے کے عادی تهے یوں دریا پار کرکے میڈیاؤں پر حملے کرنے کی قابلیت رکهتے تهے ـ میڈیاؤں کے پاس بهیڑیں کافی تعداد میں تهیں انجام کار جٹوں نے میڈیائی طاقت پر حمله کیا اور ان کے علاقے کو لوٹا ایک جب سربراه نے دونوں قبائل کو اپنے اختلافات دور کرنے پر مائل کیا اور سرداروں کا ایک وفد دهرت راشٹر کے بیٹے بادشاه وجُوشن یا دریودهن کے پاس درخواست کی که وه ایک بادشاه نامزد کر دے جس کی دونوں قبیلے اطاعت کریں ـ چناچه شہنشاه دریودهن نے آپنی بہن اور ایک طاقتور بادشاه جیه دهرت کی بیوی دوہسلا کو جٹوں اور میڈیاؤں پر حکومت کرنے کے لئے نامزد کیاـ

چونکه علاقے میں کوئی برہمن نہیں تها اس لئے دوہسلا نے آپنے بهائی کو مدد کے لئے لکها اس نے ہندوستان سے تیس ہزار برہمن بهجوادئے ـ دوہسلا کی راجدهاني اسکلند تها ـ



جاٹوں کی کئی گوتیں اور قبیلے ہیں وارث شاہ صاحب نے ہیر میں جاٹوں کی تقریباً 50 گوتوں کا ذکر کيا ھے

بھرت بور کے جٹ[ترمیم]

پنجاب میں جٹوں کے حوالے سے مندرجه ذیل بیان سر ڈینزل ابٹسن کی کتاب پنجاب کی ذاتیں سے نقل کیا ـ جٹوں راجپوتوں اور مخصوص دیگر قبائل کے درمیان خط امتیاز گهیچنا ناممکن هے ـ یه بات خاص طور پر سارے مغربی پنجاب پر صادق آتی هے ـجہاں زمیندار اور کاشتکار طبقات قبائیلی بنیادوں پر منظم هیں ـ چناچه اصل زور ذات یا رتبے کی بجائے قبیلے یا قبیلچے پر هی دیا جاتا هے ـ مشرق کی طرف جانے پر لوگ ذات کی اصطلاحات جٹ اور راجپوت استعمال کرتے هیں ـ لیکن بہت مبہم انداز میں ـ چناچه گوجرانواله یا گجراتمیں کوئی مسلمان قبیله کبهی جٹ کبهی راجپوت یا بهر آدها راجپوت آدها جٹ نظر آتا هے ـ وسیع تر مفہوم میں بات کی جائے تو جٹ مغربی اضلاع میں مسلمان ،مرکز میں سکھ ،اور جنوب مغرب میں ہندو هیں ـ لیکن اس اصول سے متعدد مستثنیات بهی هیں ـ

سکھ اضلاح میں آپنی بیوه بهابهی سے شادی کرنا لازمی هے ـ جنوب مشرق میں بیوه کی شادی کا دستور ہندو جٹ کو راجپوت سے ممیّز کرتا هے ـ لیکن یه جٹوں کے درمیان بهی ہمه گیر اصول نهیں کیونکه گڑگاؤں میں جٹ خاندان اسے نامنظور کرتے هیں ـ به الفاظ دیگر مشرق کی سمت آگے بڑهنے پر برہمنی تصّورات کام دیکهانے لگتے هیں ـ

جٹوں کا ماخذ[ترمیم]

پنجاب کے لوگوں کی نسلیات سے متعلق شائد هی کوئی سوال ایسا هو گا جس پر اتنی بحث هوئی هو جتنی که جٹ نسل کے ماخذ پر هوئی ـ وه آپ کو آرکیالوجیکل سروے رپورٹس کے صفحات ٥١ سے ٦١ جلد دوم ٹاڈ صاحب کی راجستهان کے صفحات ٥٢ سے٧٥ جلد اوّل اور ١٠ سے ٩٢ مدراس بار دوم ـ ایلفنسٹون کی ہسٹری آف انڈیا کے صفحات ٥٣ سے ٢٥٠ اورایلین کی ریسیز آف این ڈبلیو ایف کے صفحات ٣٧ سے ١٣٠ جلد اوّل پر ملیں گے ـ یہاں یه کہنا کافی هو گا که جرنل کتگهم اور جرنل ٹاڈ دونوں جٹوں کو اندو سیتهئی ماخذ سے سمجهتے هیں ـ جنرل کتگهم انہیں سٹرابو کے zanthi اور پلائنی وبولمی بطلیموس کے جاتو سے شناخت کرتے هیں ـ اور ان کا کہنا هے وه غالباًً مینڈں یا مندروں کے کچھ هی عرصه بعد آکسس یا جیحون کے مقام آپنے گهروں سے نکل کر پنجاب آئے وه بهی اندو سیتهیی تهے اور ایک سو سال قبل مسیح میں پنجاب کی طرف آئے ـ لگتا هے که جٹوں نے پہلے زیریں وادی سندھ پر قبضه کیا ـ جہاں عیسوي دور آغاز میڈی ان کے پیچهے پیچهےآگئے ـ لیکن مسلمانوں کے اوّلیں حملے سے قبل جب خاص پنجاب میں پهیل گئے اور گیارویں صدی کے شروع تک انہوں نے استحکام حاصل کر لیا ـ بابر کے دور تک خطه کوہستان نمک کے جٹ گکهڑوں اعوانوں اور جنجوعوں کے ماتحت تهے جبکه ساتويں صدی کے اوائل میں سنده کے جٹوں اور میڈیوں پر برہمن کی حاکمیت تهی میجر ٹاڈ جٹوں کو راجپوت قبائل میں سے ایک بہت بڑا قبیله شمار کرتے هیں اور دونوں نسلوں کو گیتے کے ساتھ مشابه کہتے هیں لیکن جنرل کیتگھم اس سے متفق نہیں ان کا خیال هے که جاٹ اصل آریائی نسل هیں اور راجپوت کا تعلق بعد ازاں شمال مغرب سے آنے والے مہاجرین غالباًً سئتھی نسل سے هے ـ

هو سکتا هے که اصلی راجپوت اور اصلی جٹ انڈین تاریخ کے مختلف ادوار میں یہاں وارد هوئے هوں ـ تاهم میرے ذہن میں راجپوت کا تاثر نسلیاتی سے زیاده پیشه ورانه حووالے سے ابهرتا هے ـ لیکن آکر وه دو الگ الگ ہجرتوں کی لہر کے نمائندے هیں (کماز کم یه امکان کافی غالب هے ) تو دونوں کا تعلق بهی تقریباً ایک هی نسلی ماخذ سے هے ـ تاهم چاهے ایسا هو یا نه هو لیکن یه بات قطعی هے که وه کئی سو سال پہلے سے لے کر اب تک اس قدر باهم مدغم هیں اور ایک هی جیسے لوگوں کا مرکز هیں که عملی طور پر دونوں فرق قائم کرنا ممکن نہیں ـ یه امکان سے بهی آکے کی بات هے که ادغام کا یه عمل یہاں آکر ختم نہیں هوا اور یه که بنیادی طور پر جٹ اور راجپوت کا مرکّب بننے والے لوگ ( آگر وه کبهی الگ تهے ؟) بیرونی عناصر کی آلائیش سے کسی طور بهی پاک نہیں ـ

پٹهان لیگ سیدوں ترکوں اور مغلوں میں رچ بس گئے اور ایک جٹ قبیلے کے لئے بلوچ قوم سے وابستگی کے بعد آپنی سیاسی خود مختاری و تنظیم بدستور قائم رکهنا کافی تها ـ همیں معلوم ہے که کس طرح تقدس اور سماجی رتبے کی وجه سے شامل کیا گیا کوئی کردار چند پشتوں بعد قریشی یا سیّد بن جاتا هے اور کافی قطعی هے که مشترک جٹ ـ راچبوت ماخذ میں چند یاک قدیمی نسل کے باشندے بهی شامل هیں ـ مان ، ہیر اور بُهلر جپ اصل یا حقیقی سمجهے جاتے هیں کیونکه وه کسی راجپوت نسب کا دعوی نہیں کرتے ـ لیکن خیال کیا جاتا هے که ان کی نسل قدیم دیو مالائی ہندو دیوتا شیوّ کے بالوں (جت)سے نکلی ـ جنوب مشرقی اضلاح کے جب خود کو دو حصوں میں تقسیم کرتے هیں ـ شیو گوتری یعنی شیو کے خاندان سے اور کسب گوتری جو اپنا تعلق راجپوت کے ساتھ جوڑتے هیں شیو گوتریوں کے مورث اعلی بر اور اس کے بیٹے بربرا کے نام عین وهی الفاظ هیں جو قدیم برہمن ہمیں قدیم بربیوں کے لئے بتاتے هیں ـ پنجاب کے متعدد جٹ قبیلوں کی ایسی روایات هیں جو بدیہی طور پر کسو غیر آریائی ماخذ کی غماز هیں یہان تحقیق اور تفکر کے لئے ماہرین نسلیات ایک زرخیز اور ان چهوئے میدان کا در وا هوتا هے ـ

پرانى معاشرتى پوزیشن[ترمیم]

برصغیر میں جب کہیں گاؤں بسایا جاتا تھا تو ہرگاؤں ایکـ مکمل سوسائٹى ہوتا تھا ـ جس مین سارے ہنرمند مل کر رہتے تھے کمہار مٹى کے برتن بنانے کے علاوہ باربردارى کا کام کرتا تھا ـ لوہار سارے گاؤں کى لوہے کى چیزیں بناتا تھا ـ ترکہان لکڑى کام کرتا تھا اسى طرح کسان زمینوں پر کام کرتا تھا جب فصل اٹہتى تہى تو سب کو انکا حصہ ملتا تھا ـ اس فصل کو بانٹنے کا اختیار ہوتا تھا کسان یعنى جاٹ کے ہاتھ فصل اٹھنے کے علاوہ بہى سارا سال اپنى ضرورت کى چیزیں سارے گاؤں والے زمینوں سے لے لیا کرتےتھے مثلآ سبزیاں اور جانورں کے لئے چارہ وغیرہ ـ اور زمینوں کا ہولڈ ہوتا تھا جاٹ کے ہاتھ میں ہر وقت دوسروں کو کچھ دینے کى پوزیشن میں جاٹ بڑے بھائى کى حثیت رکھتا تھا ـ معاشرے میں جاٹ بڑا بھائى ہوتا تھا۔

اور جاٹ کو بڑے بھائی کى طرح ہى عزت دى جاتى تھى ـ

‘‘http://ur.wikipedia.org/w/index.php?title=جاٹ&oldid=860390’’ مستعادہ منجانب