جسٹس ایس اے رحمان
| شیخ عبد الرحمان | |
|
پانچویں منصف اعظم پاکستان
|
|
|---|---|
| در منصب 1 مارچ 1968 – 3 جون 1968 |
|
| پیشرو | ایلون رابرٹ کارنیلیس |
| جانشین | فضل اکبر |
|
|
|
| پیدائش | 4 جون 1903 |
| وفات | |
| قومیت | |
پیدائش: 1903ء
وفات: 1979ء
پاکستانی جج ۔ وزیر آباد پنجاب میں پیدا ہوئے ۔ گورنمنٹ کالج لاہور سے ایم اے کیا۔ 1926ء میں آئی سی ایس کے لیے آکسفورڈ میں داخلہ لیا اور السنۂ شرقیہ میں آرنرز کیا۔ 1928ء میں آئی سی ایس کا امتحان پاس کیا اور پنجاب کے مختلف اضلاع میں ایس ڈی او اسسٹنٹ کمشنر اور ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کے عہدوں پر مامور رہے ۔ 1946ء میں لاہور ہائی کورٹ کے قائم مقام جج مقرر ہوئے ۔ 1947ء میں بنگال باونڈری کمشن کے رکن اور 1948ء میں متروکہ املاک کے کسٹوڈین بنائے گئے۔ اسی سال لاہور ہائی کورٹ کے جج کے منصب پر فائز ہوئے۔ 1950ء میں پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر بنائے گئے ۔ 1954ء میں لاہور ہائی کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس مقرر ہوئے۔ 1954ء تا 1955ء چیف جسٹس کے عہدے پر فائز رہے۔ 1955ء میں مغربی پاکستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اور 1958ء میں سپریم کورٹ کے جج مقرر ہوئے۔ بعد ازاں چیف جسٹس بنا دیے گئے۔ 1968ء میںاسی عہدے سے ریٹآئر ہوئے۔ علم و ادب سے گہرا شغف رکھتے تھے خود بھی شاعر اور ادیب تھے۔ علامہ اقبال کی فارسی مثنوی اسرارِ خودی کا اردو میں ترجمہ کیا۔ 1965ء میں ان کی ایک طویل منظوم تصنیف ’’سفر ‘‘ شائع ہوئی۔ پنجاب یونیورستی سنڈیکیٹ کے مستقل رکن تھے۔ دفتری زبان کمیٹی کے صدر ، مجلس ترقی ادب کے ناظم پنجاب پبلک لائبریری کے چیرمین اور پاکستان آرٹ کونسل کے صدر رہ چکے ہیں۔
| پیشرو ایلون رابرٹ کارنیلیس |
منصف اعظم پاکستان | جانشین فضل اکبر |
|
|||||||||||||||||||||||