جلال الدین سیوطی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(جلال الدین السیوطی سے رجوع مکرر)
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
مسلمان مفسر، محدث
امام جلال الدین سیوطی
معروفیت ابن کتب (کتابوں کا بیٹا)
پیدائش 2 اکتوبر1445 ء/ ہفتہ یکم رجب 849ھ
وفات اکتوبر1505/ جمادی الاول911
قومیت عرب
علاقہ مصر
مذہب شافعی, اشعری, شاذلی
شعبۂ عمل تفسیر, شریعت, فقہ, حدیث, قرآن, اصول فقہ, تاریخ, عقیدہ
کارہائے نمایاں تفسیر جلالین
مؤثر شخصیات ابن حجر عسقلانی, سراج الدین البلقینی, شرف الدین المناوی, ابن عربی, وغیرہ.
متاثر شخصیات Abd Al-Wahhab bin Ahmad Al-Misri Al-Sharani, al-Dawudi, طاہر القادری. etc.امام احمد رضا خان

جلال الدین سیوطی (849 تا911ہجری) اصل نام عبدالرحمان، کنیت ابو الفضل، لقب جلال الدین، اور عرف ابن کتب تھا۔ایک مفسر، محدث، فقیہ اور مورخ تھے۔آپ کثیر التصانیف تھے، آپ کی کتب کی تعداد 500 سے زاہد ہے۔[1] تفسیر جلالین اور تفسیر درمنثور کے علاوہ قرآنیات پر الاتقان فی علوم القرآن علماء میں کافی مقبول ہے اس کے علاوہ تاریخ اسلام پر تاریخ الخلفاء مشہور ہے۔

ولادت اور نسب[ترمیم]

قرون وسطیٰ کے مسلمان علماء میں علامہ جلال الدین سیوطی اپنی علمی خدمات کی وجہ سے بے انتہا مشہور و مقبول ہیں۔علامہ سیوطی کی ولادت ہفتہ یکم رجب 849ھ بمطابق 2 اکتوبر 1445ء کو مصر کےقدیم قصبے سیوط میں ہوئی، اسی نسبت سے آپ کو سیوطی کہا جاتا ہے ان کا اصلی نام عبدالرحمٰن۔ کنیت ابولفضل، لقب جلال الدین اور عرف ابن الکتب ہے۔۔سلسلہ نسب اس طرح بیان کیا جاتا ہے "عبدالرحمٰن بن کمال الدین ابی بکر بن محمد بن سابق الدین بن فخرالدین بن اصلاح ایوب بن ناصر الدین محمد بن ہمام الحضیری الاسیوطی الشافعی"۔ آپ کے والد کمال الدین ابی بکر نے عباسی خلیفہ المستکفی باللہ کے انتقال کے صرف چالیس روز بعد محرم855ھ میں خلیفہ قائم بامراللہ کے عہد میں وفات پائی۔

تعلیمی سفر[ترمیم]

8 سال کی عمر میں شیخ کمال الدین ابن الہمام حنفی کی خدمت میں رہ کر قرآن حفظ کیا۔اس کے بعد شیخ شمس سیرامی اور شمس فرومانی حنفی کے سامنے زانوئے تلمذ طے کیا اور ان دونوں حضرات سے بہت سے کتب پڑحیں۔آپ کے اساتذہ میں شیخ شہاب الدین الشار مسامی اور شیخ الاسلام عالم الدین بلقینی، علامہ شرف الدین النادی اور علامہ محی الدین کافیجی قابل ذکر ہیں۔ علامہ سیوطی کا یہ اشتغال علمی 864ھ سے شروع ہوتا ہے ، فقہ اور نحو کی کتب ایک جماعت شیوخ سے پڑھیں۔علم فرائض شیخ شہاب الدین الشار مسامی سے پڑھا۔ 866ھ کے آغاز میں ہی آپ کو عربی تدریس کی اجازت مل گئی اور اسی سال آپ نے سب سے پہلے شرح استعاذ، اور شرح بسم اللہ تصنیف کی اور ان دونوں کتب پر آپ کے استاد خاص شیخ عالم الدین بلقینی نے تقریظ لکھی تھی۔ مختلف شیوخ سے علوم و فنون کی تکمیل کے بعد 871ھ میں افتاء کا کام شروع کیا۔872ھ میں آپ کو دورہ حدیث شریف کا شرف بھی حاصل ہوگیا۔

علمی تبحر[ترمیم]

حسن المحاضرہ میں علامہ سیوطی فرماتے ہیں کہ: حق تعالیٰ نے مجھے سات علوم یعنی تفسیر، حدیث، فقہ، نحو، معانی بیان، اور بدیع میں تبحر عطا فرمایا ہے، آپ نے کہا ہے کہ حج کے موقع پر میں نے آبِ زمزم پیا اور اُس وقت یہ دعا مانگی کہ علم فقہ میں مجھے علامہ بلقینی اور حدیث میں علامہ ابن حجر عسقلانی کا رتبہ مل جائے ، چنانچہ آپ کی تصانیف اور آپ کا علمی تبحر اِس کا شاہد ہے کہ آپ کی یہ دعا بارگاہِ الٰہی میں مقبول ہوگئی۔آپ اپنے زمانہ کے سب سے بڑے عالم تھے، آپ نے خود فرمایا کہ : "مجھے دو لاکھ احادیث یاد ہیں اور اگر مجھے اس سے زیادہ ملتیں تو ان کو بھی یاد کرتا شاید اس وقت اس سے زیادہ نہ مل سکیں"۔ شیخ شاذلی سے منقول ہے کہ آپ سے جب دریافت کیا گیا کہ آپ سرور ذیشان صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دیدار بجہتِ آثار سے کتنی بار مشرف ہوئے تو آپ نے فرمایا : ستر بار سے زائد۔

طبیعت[ترمیم]

دنیوی مال و دولت کی طرف سے آپ کی طبیعت میں اس قدر استغناء تھا کہ امراء واغنیاء آپ کی زیارت کوآتے تھے اور تحائف ، ہدایہ و اموال پیش کرتے مگر آپ کسی کا ہدیہ قبول نہ کرتے تھے۔

وفات[ترمیم]

علامہ سیوطی نے 61 سال 10 مہینے 18 دن اِس عالم ناپائیدار میں گزار کر ایک معمولی سے مرض ہاتھ کے ورم میں شبِ جمعہ 19 جمادی الاول 911ھ بمطابق 17 اکتوبر 1505ء میں وفات پائی۔اس وقت مصر میں عباسی خلیفہ المستمسک باللہ کا عہد خلافت تھا۔تاریخ الخلفاء کے اختتام پر خود فرماتے ہیں کہ : " اللہ تعالیٰ سے میں دعا کرتا ہوں کہ وہ نویں صدی ہجری کا فتنہ نہ دِکھائے اور اُس سے پہلے اپنے حبیب لبیب ہمارے سردار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے طفیل اپنے جوارِ رحمت میں بلالے"

تصانیف[ترمیم]

علامہ سیوطی کثیر التالیف علماء میں سے تھے، اپنی نادر روزگار500 سے زاہد تصنیفات کا گراں قدر مجموعہ اپنے پیچھے چھوڑا جن کی فہرستیں مختلف لوگوں نے ترتیب دی ہیں۔ مولوی عبدلحلیم چشتی نےفواہد جامعہ بر عجالہ نافعۃ، میں 506 کتب کی فہرست ترتیب دی، (2) اسماعیل پاشا بغدادی نے ایک فہرست ترتیب دی ہے۔ حسن المحاضرہ میں سیوطی نے خود 300 تصانیف کا ذکر تو آپ نے خود کیا ہے۔جبکہ آپ کے ہم عصر علماء میں سے کسی ایک کی بھی تصانیف کی تعداد اِس قدر نہیں ہے۔

  • إسعاف المبطأ برجال الموطأ
  • الآیة الکبری فی شرح قصة الاسراء
  • الأشباه والنظائر
  • الإتقان فی علوم القرآن
  • الجامع الصغیر من حدیث البشیر النذیر'
  • الجامع الکبیر
  • الحاوی للفتاوی
  • إحیاء المیت بفضائل اهل البیت
  • الحبائک فی أخبار الملائک
  • الدر المنثور فی التفسیر بالمأثور
  • الدرر المنتثرة فی الأحادیث المشتهرة
  • الدیباج علی صحیح مسلم بن الحجاج
  • الروض الأنیق فی فضل الصدیق
  • العرف الوردی فی أخبار المهدی
  • الغرر فی فضائل عمر
  • الفیة السیوطی (الفیة الحدیث): پیرامون مصطلح‌الحدیث
  • الکاوی علی تاریخ السخاوی (ألفه بسبب خصومته مع السخاوی)
  • اللآلئ المصنوعة فی الأحادیث الموضوعة
  • المَدْرَج إلی المُدْرَج
  • المزهر فی علوم اللغة وأنواعها
  • المهذب فیما وقع فی القرآن من المعرب
  • أسباب ورود الحدیث
  • أسرار ترتیب القرآن
  • أنموذج اللبیب فی خصائص الحبیب
  • إرشاد المهتدین إلی نصرة المجتهدین
  • إعراب القرآن
  • إلقام الحجر لمن زکی ساب أبی بکر وعمر
  • تاریخ الخلفاء
  • تحذیر الخواص من أحادیث القصاص
  • تحفة الأبرار بنکت الأذکار النوویة
  • تدریب الراوی فی شرح تقریب النواوی
  • تزیین الممالک بمناقب الإمام مالک
  • تمهید الفرش فی الخصال الموجبة لظل العرش
  • تنویر الحوالک شرح موطأ مالک
  • تنبیه الغبیّ فی تبرئة ابن عر
  • حسن المحاضرة فی أخبار مصر والقاهرة
  • در السحابة فیمن دخل مصر من الصحابة
  • ذم المکس
  • شرح السیوطی علی سنن النسائی
  • صفة صاحب الذوق السلیم
  • طبقات الحفّاظ
  • طبقات المفسرین
  • عقود الجمان فی علم المعانی والبیان
  • عقود الزبرجد علی مسند الإمام أحمد فی إعراب الحدیث
  • عین الإصابة فی معرفة الصحابة
  • کشف المغطی فی شرح الموطأ
  • لب اللباب فی تحریر الأنساب
  • لباب الحدیث
  • لباب النقول فی أسباب النزول
  • ما رواه الأساطین فی عدم المجیء إلی السلاطین
  • مشتهی العقول فی منتهی النقول
  • مطلع البدرین فیمن یؤتی أجره مرتین
  • مفتاح الجنة فی الاعتصام بالسنة
  • مفحمات الأقران فی مبهمات القرآن
  • نظم العقیان فی أعیان الأعیان
  • همع الهوامع شرح جمع الجوامع
  • الفارق بین المصنف و السارق: این کتاب از اولین نوشتارها درباره مالکیت فکری است.
  • قطر الدرر

تاریخ الخلفاء پر ایک نظر[ترمیم]

آپ محدث ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بہترین مورخ بھی تھے ، خلفائے ملت اسلامیہ پر آپ کی تصنیف تاریخ الخلفاء ہے جو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت سے لے کر بغداد کے آخری خلیفہ المستعصم باللہ کے عہد خلافت تک تاریخ وار لکھی گئی ہے،جبکہ بعد ازاں خلفائے عباسیہ کے مصرمیں منتقل ہونے پر دوبارہ خلفاء کا تقرر ہونے لگا جس پر آپ نے خلیفہ المستمسک باللہ العباسی کی ولیعہدی تک حالات کو بیان فرمایا ہے۔کتاب کے آخرمیں دولت اُمویہ جو ہسپانیہ میں قائم ہوئی، دولت عبیدیہ، حکومت بنی طباطبا العلویہ الحُسینیہ، دولت طبرستان کے متعلق مختصرتاریخ بیان کی ہے۔ مزید یہ کہ ہر خلیفہ کے عہد میں وفات پانے والے علماء کا بھی ذکر اور اُس خلیفہ سے روایت کی گئیں احادیث کو بھی بیان کیا ہے۔مجموعی طور پر یہ 892 قمری سالوں (11ھ سے 903ھ تک) خلفاء کے عہدخلافت پر ایک نایاب تصنیف ہے۔تاریخ الخلفاء کے مآخذ کے متعلق خود علامہ سیوطی فرماتے ہیں :

" میں نے کتاب کی تصنیف میں حوادثات کے متعلق تاریخ الذہبی سے لیا ہے جس میں 700ھ تک کے حالات مندرج ہیں، پھر تاریخ ابن کثیر سے جس میں 738ھ تک کے واقعات قلمبند ہیں، پھر مسالک سے جس میں 773ھ تک کے حالات موجود ہیں، پھر ابناء العمرمصنفہ ابن حجرسے لیے گئے ہیں جس میں 850ھ تک کے واقعات لکھے ہیں۔ حوادث کے علاوہ اور باتوں میں حسبِ ذیل تواریخوں سے اِقتباس کیا گیا ہے، تاریخ بغداد مصنفہ خطیب10 جلدیں، تاریخ دمشق مصنفہ ابن عُساکر57 جلدیں، اوراق مصنفہ صولی 7 جلدیں، طیورات 3 جلدیں، حُلیۃ ابو نُعَیم 7 جلدیں، مجالسہ مصنفہ دینوری، کامل مصنفہ مبرد 2 جلدیں، امالی ثعلب 1 جلد، و دیگر کتب تواریخ وغیرہ۔"


تاریخ الخلفاء حوادثِ زمانہ کے سبب سےبہت مشہور ہے۔ اِس کتاب میں علامہ سیوطی نے کئی ایسے حوادث بیان کیے ہیں جو نہایت ہی عجیب واقع ہوئے، اقتباسات دیکھئے :

" اُس کے( والئ مصر الظاہر عبیدی کے زمانہ میں مصر میں قحط کی صورتحال بیان کرتے ہوئے لکھا ہے) دوران سلطنت میں مصر کے اندر ایسا قحط پڑا جس کی نظیر سوائے حضرت یوسف علیہ السلام کے زمانے کے اور کسی زمانہ میں نہیں ملتی، یہ قحط سات سال تک رہا، بعض آدمیوں نے دوسرے آدمیوں کو کاٹ کاٹ کر کھالیا۔ایک ایک روٹی پچاس پچاس دینار میں فروخت ہوگئی"۔

" 330ھ میں بغداد میں اِس قدر قحط ہوا کہ ایک بوری گیہوں کی قیمت 316 دینار کی ہوگئی، اتنا سخت قحط ہوگیا کہ لوگوں نے مردار چیزیں تک کھالیں۔اِس سے پہلے بغداد میں اِتنا سخت قحط کبھی نہیں پڑا تھا ۔"

"اِس سال (465ھ) مصر میں بدستور قحط قائم رہا حتیٰ کہ ایک عورت نے ایک خمیری روٹی ہزار دینارکی خرید کر کھائی۔"

" اِسی سال (323ھ) جمادی الاول کے مہینے میں آندھی آئی، دنیا سیاہ ہوگئی، عصر سے مغرب تک سخت اندھیرا رہا۔ ذوالقعدہ میں تمام رات بڑے بڑے ستارے ٹوٹتے رہےجو اِس سے پہلے کبھی نہیں ٹوٹے تھے۔"

" 328ھ میں دجلہ میں اِتنا پانی چڑھا کہ 19 ہاتھ چڑھ آیا، جس کی وجہ سے بغداد غرق ہوگیا، آدمی اور چوپائےڈوب گئے، مکانات منہدم ہوگئے۔"

" 344ھ میں مصر میں ایک سخت زلزلہ آیا جس کی وجہ سے بہت سے مکانات منہدم ہوگئے۔"

" 478ھ میں بغداد میں کالی آندھی آئی۔بجلی اور کڑک بے اِنتہاءتھی، ریت مٹی آسمان سے بارش کی طرح برس گئی۔کئی جگہ بجلی گری، لوگوں نے خیال کرلیا کہ قیامت آگئی مگر تین ساعت کے بعد عصر کے پیچھے یہ حالت جاتی رہی۔"

انگریزی ترجمہ[ترمیم]

تاریخ الخلفاء پہلی بار انگریزی میں "History of the Caliphs " کے نام سے1881ء میں کلکتہ سے اور دوسری بار انگریزی میں اورئینٹل پریس سے 1970ء میں شائع ہوئی تھی۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ عبدالحلیم چشتی، فواہد جامعہ برعجالہ نافعۃ، کراچی۔1964، صفحہ 165 تا 180 (506 کتب کی فہرست مرتب کی ہے، جو حتمی نہیں ہے)