جلال الدین اکبر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
اکبر اعظم
مغل شہنشاہ
Portrait of Akbar by Manohar.jpg
عہد حکومت 27 جنوری ، 1556ء - 27 اکتوبر ، 1605ء
تاج پوشی 14 فروری ، 1556ء کلانور ، گورداسپور
پورا نام ابوالفتح جلال‌الدین محمد اکبر
پیدائش 23 نومبر 1542 (1542-11-23)
جائے پیدائش قلعہ عمرکوٹ ، سندھ
وفات 27 اکتوبر 1605 (عمر 63 سال)
جائے وفات فتح پور سیکری ، آگرہ
مدفن بہشت آباد سکندرہ، آگرہ
پیشرو نصیر الدین محمد ہمایوں
جانشین نورالدین سلیم جہانگیر
رفیق زندگی مریم الزمانی
سلیمہ سلطان
رقیہ سلطان
اولاد جہانگیر ، 5 مزید بیٹے اور 6 بیٹیاں
شاہی گھرانہ خاندانِ تیمور
خاندان مغل
والد نصیر الدین محمد ہمایوں
والدہ حمیدہ بانو بیگم
مذہب اسلام، دین الٰہی

عہد حکومت( 1556ء تا 1605ء)

جلال الدین اکبر سلطنت مغلیہ کے تیسرے فرماں رو (بابر اعظم اور ہمایوں کے بعد)، ہمایوں کابیٹا تھا۔ ہمایوں نے اپنی جلاوطنی کے زمانے میں ایک ایرانی عورت حمیدہ بانو سے شادی کی تھی ۔ اکبر اُسی کے بطن سے 1542ء میں امر کوٹ کے مقام پر پیدا ہوا۔ ہمایوں کی وفات کے وقت اکبر کی عمر تقریباً چودہ برس تھی اور وہ اس وقت اپنے اتالیق بیرم خان کےساتھ کوہ شوالک میں سکندر سوری کے تعاقب میں مصروف تھا۔ باپ کی موت کی خبر اسے کلانور ضلع گورداسپور (مشرقی پنجاب) میں ملی۔ بیرم خان نے وہیں اینٹوں کا ایک چبوترا بنوا کر اکبر کی رسم تخت نشینی ادا کی اور خود اس کا سرپرست بنا۔ تخت نشین ہوتے ہی چاروں طرف سے دشمن کھڑے ہوگئے ۔ ہیموں بقال کو پانی پت کی دوسری لڑائی میں شکست دی۔ مشرق میں عادل شاہ سوری کو کھدیڑا۔ پھر اس نے اپنی سلطنت کو وسعت دینی شروع کی۔

1556ء میں دہلی ، آگرہ ، پنجاب پھر گوالیار ، اجمیر اور جون پور بیرم خان نے فتح کیے۔ 1562ء میں مالوہ 1564ء میں گونڈدانہ ، 1568ء میں چتوڑ، 1569ء میں رنتھمپور اور النجر ، 1572ء میں گجرات ، 1576ء میں بنگال 1585ء میں کابل اور کشمیر اور سندھ ، 1592ء میں اڑیسہ ، 1595ء میں قندہار کا علاقہ ، پھر احمد نگر ، اسیر گڑھ اور دکن کے دوسرے علاقے فتح ہوئے اور اکبر کی سلطنت بنگال سے افغانستان تک اور کشمیر سے دکن میں دریائے گوداوری تک پھیل گئی۔

اکبر نے نہایت اعلٰی دماغ پایا تھا۔ ابوالفضل اور فیضی جیسے عالموں کی صحبت نے اس کی ذہنی صلاحیتوں کو مزید جلا بخشی ۔ اس نے اس حقیقت کا ادراک کر لیاتھا کہ ایک اقلیت کسی اکثریت پر اس کی مرضی کے بغیر زیادہ عرصے تک حکومت نہیں کر سکتی۔ اس نے ہندوؤں کی تالیف قلوب کی خاطر انہیں زیادہ سے زیادہ مراعات دیں اور ان کے ساتھ ازدواجی رشتے قائم کیے۔ اکبر نے ایک ہندو عورت جودھا باءی سے بھی شادی کی جو کہ اس کے بیٹے جہانگیر کی ماں تھی۔ جودھا باءی نے مرتے دم تک اسلام قبول نہیں کیا تھا۔ نیز دین الہٰی کے نام سے ایک نیامذہب بھی جاری کیا۔ جو کہ ایک انتہا پسندانہ اقدام تھا اور اکبر کے ہندو رتنوں کی مسلسل کوششوں کا نتیجہ تھا۔ دین الہًی کی وجہ سے اکبر مسلمان امراء اور بزرگان دین کی نظروں میں ایک ناپسندیدہ شخصیت قرار پایا۔ وہ خود ان پڑھ تھا۔ لیکن اس نے دربار میں ایسے لوگ جمع کر لیے تھے جو علم و فن میں نابغہ روزگار تھے۔ انھی کی بدولت اس نے بچاس سال بڑی شان و شوکت سے حکومت کی اور مرنے کے بعد اپنے جانشینوں کے لیے ایک عظیم و مستحکم سلطنت چھوڑ گیا۔

پنچ محل ، فتح پور سیکری

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]