جمیعت علمائے اسلام

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(جمعیت علمائے اسلام سے رجوع مکرر)
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
پاکستان

مقالہ بسلسلہ مضامین:
پاکستان کی حکومت اور سیاست



جمعیت علمائے اسلام پاکستان کی ایک سیاسی جماعت ہے۔ اس جماعت کا قیام 1945ء میں اس وقت عمل میں آیا جب جمعیت علمائے ہند نے تقسیم ہند کے حوالے سے انڈین نیشنل کانگریس کے موقف کی حمایت کی، یوں اس موقف سے اختلاف پر علامہ شبیر احمد عثمانی کی زیر قیادت جمعیت علمائے اسلام وجود میں آئی۔

جمعیت علمائے اسلام دیوبندی مسلک کی نمائندہ تنظیم ہے جو پاکستان میں ایوب خان کے دور تک مذہبی جماعت کی حیثیت ہی سے نمایاں رہی لیکن ایوبی عہد میں جدیدیت اور لادینیت کی مخالفت میں یہ مفتی محمود کی زیر قیادت سیاسی سرگرمیوں میں کود پڑی۔ 1960ء کی دہائی کے اواخر میں ایوب خان کی حکومت کے خاتمے کے بعد 1970ء کے عام انتخابات میں جمعیت علمائے اسلام نے انتخابات میں حصہ لیا۔ 1972ء سے 1973ء تک مفتی محمود سرحد کے وزیر اعلیٰ بھی رہے۔

نظریاتی طور پر جمعیت علمائے اسلام روایتی اسلامی قوانین کی حامی ہے اور اسی لیے جماعت افغانستان میں طالبان حکومت کی زبردست حمایت کرتی رہی ہے۔ جمعیت علمائے اسلام نے پاکستان بھر میں ہزاروں مدارس قائم کیے جو کسی بھی دوسری مذہبی تنظیم سے زیادہ تعداد میں ہیں۔

مذہبی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل میں بھی یھ جماعت شامل رہی ہی. جس نے 2002ء کے عام انتخابات میں 53 نشستیں اور 11.3 فیصد ووٹ حاصل کیے تھے۔

2008ء کے عام انتخابات میں متحدہ مجلس عمل کی دوسری اہم جماعت جماعت اسلامی کے مقاطعے کے باعث صرف جمعیت علمائے اسلام ف نے حصہ لیا اور قومی اسمبلی کی صرف 6 نشستیں کی حاصل کر پائی۔ خواتین کے لیے مخصوص ایک نشست مل کر کل تعداد 7 بنتی ہے۔ صوبائی اسمبلی میں جمعیت علمائے اسلام ف نے صرف 14 نشستیں حاصل کیں اور 371 رکنی پنجاب اسمبلی میں صرف 2 نشستیں اس کے ہاتھ لگیں۔

متعلقہ مضامین[ترمیم]

جمعیت طلباء اسلام جمعیت علماء پاکستان جمعیت علماء ھند