جناح بین الاقوامی ہواگاہ
| قائداعظم بین الاقوامی ہوائی اڈہ جناح بین الاقوامی ہوائی اڈہ |
|||
|---|---|---|---|
| 220px | |||
| IATA: KHI – ICAO: OPKC | |||
| Summary | |||
| قسم | عوامی | ||
| مالک / منتظم | سول ایوی ایشن اتھارٹی پاکستان | ||
| Serves | کراچی | ||
| جائے وقوع | سندھ ، پاکستان | ||
| Hub for | ایئر بلیو پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز شاہین ایئر |
||
| سطح سمندر سے بلندی | 100 فٹ / 30 میٹر | ||
| متناسقات | 24°54′24″N 067°09′39″E / 24.90667°N 67.16083°E | ||
| موقعِ جال | |||
| Runways | |||
| Direction | لمبائی | سطح | |
| میٹر | فٹ | ||
| 07R/25L | 3,400 | 11,155 | Concrete |
| 07L/25R | 3,200 | 10,500 | Concrete |
جناح بین الاقوامی ہواگاہ یا جناح بین الاقوامی ہوائی اڈہ (انگریزی: Jinnah International Airport) (سابقہ “قائد اعظم بین الاقوامی ہوائی اڈہ“) پاکستان کا سب سے بڑا بین الاقوامی و قومی ہوائی اڈہ ہے۔ یہ صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں واقع ہے۔ مقامی باشندوں میں یہ جناح ٹرمینل کے نام سے مشہور ہے۔ اس کا نام قائد اعظم محمد علی جناح پر رکھا گیا ہے۔
فہرست |
[ترمیم] تاریخ
1940ء کی دہائی میں کراچی ہوائی اڈہ کی موجودہ جگہ پر کالا چھپرا ہوتا تھا۔ یہ سیاہ رنگ کا ایک بڑا ہینگر تھا جسے برطانیہ کے آر 101 ایئرشپ کے لئے تیار کیا گیا تھا۔ دنیا میں آر 101 ایئرشپ کے لئے صرف تین ہینگر تیار کئے گئے جس میں سے ایک کراچی میں تیار ہوا لیکن بدقسمتی سے آر 101 طیارہ کراچی نہیں آسکا اور فرانس میں اپنے سفر کے دوران تباہ ہوگیا۔
1960ء کی دہائی میں صدر ایوب خان نے اسے ختم کرنے کا حکم دیا اور پاکستان کے فضائی ورثے کا ایک اہم باب بند ہوگیا۔
1960ء سے 1980ء کی دہائی تک کراچی خطے کا مصروف ترین ہوائی اڈہ تھا جہاں برٹش ایئر ویز، لفتھانسا، انٹر فلگ، ٹیروم، الاطالیہ، جے اے ٹی، یوگوسلاویہ ایئر لائنز، ایرو فلوٹ، فلپائن ایئرلائنز، نائجیریا ایئرلائنز، ایتھوپین ایئرلائنز، ایجپٹ ایئر، ایسٹ افریقن ایئر ویز، کینیا ایئرویز، یمنیا، ایران ایئر، ایئر فرانس، کنٹاس، کے ایل ایم (جو کہ اب گلف ائیر کے ساتھ کوڈ شئیر کر رہا ہے)، پین ایم، ایم ای اے، سوئس ایئر، ایس اے ایس اور کویت ایئر ویز سمیت دنیا کے معروف ترین فضائی اداروں کے جہاز خدمات مہیا کرتے تھے۔ 1990ء کی دہائی میں متحدہ عرب امارات کے شہر دبئی کے ہوائی اڈے کے عالمی افق پر نمودار ہونے کے باعث کئی معروف فضائی اداروں نے کراچی کے لئے خدمات فراہم کرنا بند کردیں۔
گذشتہ چند سالوں سے پاکستان میں مضبوط معیشت کے باعث کئی فضائی ادارے ایک مرتبہ پھر کراچی لوٹ رہے ہیں جن میں کیتھے پیسفک اور سنگاپور ایئرلائنز قابل ذکر ہیں۔
[ترمیم] جناح انٹرنیشنل کمپلیکس
جناح ٹرمینل کے 16 دروازے ہیں اور یہ بیک وقت 30 طیاروں کو خدمات مہیا کرسکتا ہے۔ ہر سال 60 لاکھ مسافر اس ٹرمینل کا استعمال کرتے ہیں جبکہ ہوائی اڈے پر سالانہ ایک کروڑ 20 لاکھ مسافروں کو خدمات فراہم کرنے کی گنجائش ہے۔
جناح بین الاقوامی ہوائی اڈہ قیام پاکستان سے آج تک پاکستان میں ہوابازی کی سب سے بڑی تنصیب ہے۔ یہ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن کا صدر دفتر ہے۔ پاکستان کی دیگر تمام نجی فضائی کمپنیوں کا مرکز بھی یہی ہے جن میں ایئر بلیو اور شاہین ایئر شامل ہیں۔
[ترمیم] اصفہانی ہینگر
پی آئی اے کے طیاروں کی مرمت و دیکھ بھال کا اکثر کام بھی جناح بین الاقوامی ہوائی اڈہ پر قائم اصفہانی ہینگر پر ہوتا ہے۔ یہ بیک وقت دو بوئنگ 747 اور ایک بوئنگ 737 کو سنبھالنے کی گنجائش رکھتا ہے۔
15 فروری 2006ء کو اصفہانی ہینگر میں بوئنگ 777 طیارے کی مرمت کا کام انجام دے کر پاکستان میں نئی تاریخ رقم کی گئی۔
پی آئی اے اپنے طیاروں کے علاوہ فلپائن ایئر لائنز اور ترک ایئرلائنز کے طیاروں کی بھی دیکھ بھال کرتی ہے۔
[ترمیم] فضائی ادارے
- اریٹرئن ایئرلائنز
- ایئر عربیہ
- ایئر بلیو
- ایئر چائنا
- بھوجا ایئر
- بیمان بنگلہ دیش ایئر لائنز
- کیتھے پسفک
- امارات
- اتحاد ایئر ویز
- فلائ دبئi
- جی ایم جی ایئر
- گلف ایئر
- ایران ایئر
- کینیا ایئرویز (گرما 2013ء سے نافذ العمل)
- ملائشیا ایئر لائنز
- ناس ایئر
- عمان ایئر
- پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز
- فونکس چارٹر ایوی ایشن
- قطریہ
- سعودی عرب ایئر لائنز
- شاہین ایئر
- سری لنکی ایئرلائنز
- تھائی ایئرویز انٹرنیشنل
- ترکش ایئر لائنز
[ترمیم] مال بردار فضائی ادارے
- عسکری ایوی ایشن
- اٹلس ایئر
- کارگو لکس
- ڈولفن ایئر
- ڈی ایچ ایل کارگو
- پاکستان انٹرنیشنل کارگو
- فونکس ایوی ایشن
- ٹی سی ایس کوریئر
- رائل ایئرلائنز کارگو
- شاہین ایئرانٹرنیشنل
- اسٹار ایئر
[ترمیم] چارٹر ادارے
[ترمیم] اہم واقعات
- 5 ستمبر 1986ء کو پین ایم کا بوئنگ 747 فلائٹ 73 کراچی ہوائی اڈہ پر اغوا ہوگیا۔ جس کے دوران 20 مسافر مارے گئے۔
[ترمیم] متعلقہ مضامین
پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز بھوجا ایئر