جناح بین الاقوامی ہوائی اڈہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
قائداعظم بین الاقوامی ہوائی اڈہ
جناح بین الاقوامی ہوائی اڈہ
Karachi Jinnah Airport.jpg
آئی اے ٹی اے: KHIآئی سی اے او: OPKC
خلاصہ
قسم عوامی
مالک / منتظم سول ایوی ایشن اتھارٹی پاکستان
Serves کراچی
جائے وقوع سندھ ، Flag of Pakistan (bordered).svg پاکستان
Hub for ایئر بلیو
پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز
شاہین ایئر
سطح سمندر سے بلندی 100 فٹ / 30 میٹر
متناسقات 24°54′24″N 067°09′39″E / 24.90667°N 67.16083°E / 24.90667; 67.16083
موقعِ جال www.karachiairport.com.pk
دوڑنے کا راستہ
سمت لمبائی سطح
میٹر فٹ
07R/25L 3,400 11,155 Concrete
07L/25R 3,200 10,500 Concrete

جناح بین الاقوامی ہواگاہ یا جناح بین الاقوامی ہوائی اڈہ (انگریزی: Jinnah International Airport) (سابقہ “قائد اعظم بین الاقوامی ہوائی اڈہ“) پاکستان کا سب سے بڑا بین الاقوامی و قومی ہوائی اڈہ ہے۔ یہ صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں واقع ہے۔ مقامی باشندوں میں یہ جناح ٹرمینل کے نام سے مشہور ہے۔ اس کا نام قائد اعظم محمد علی جناح پر رکھا گیا ہے۔

تاریخ[ترمیم]

جناح ٹرمینل پرپی آئی اے کا جمبو طیارہ

1940ء کی دہائی میں کراچی ہوائی اڈہ کی موجودہ جگہ پر کالا چھپرا ہوتا تھا۔ یہ سیاہ رنگ کا ایک بڑا ہینگر تھا جسے برطانیہ کے آر 101 ایئرشپ کے لئے تیار کیا گیا تھا۔ دنیا میں آر 101 ایئرشپ کے لئے صرف تین ہینگر تیار کئے گئے جس میں سے ایک کراچی میں تیار ہوا لیکن بدقسمتی سے آر 101 طیارہ کراچی نہیں آسکا اور فرانس میں اپنے سفر کے دوران تباہ ہوگیا۔

1960ء کی دہائی میں صدر ایوب خان نے اسے ختم کرنے کا حکم دیا اور پاکستان کے فضائی ورثے کا ایک اہم باب بند ہوگیا۔

1960ء سے 1980ء کی دہائی تک کراچی خطے کا مصروف ترین ہوائی اڈہ تھا جہاں برٹش ایئر ویز، لفتھانسا، انٹر فلگ، ٹیروم، الاطالیہ، جے اے ٹی، یوگوسلاویہ ایئر لائنز، ایرو فلوٹ، فلپائن ایئرلائنز، نائجیریا ایئرلائنز، ایتھوپین ایئرلائنز، ایجپٹ ایئر، ایسٹ افریقن ایئر ویز، کینیا ایئرویز، یمنیا، ایران ایئر، ایئر فرانس، کنٹاس، کے ایل ایم (جو کہ اب گلف ائیر کے ساتھ کوڈ شئیر کر رہا ہے)، پین ایم، ایم ای اے، سوئس ایئر، ایس اے ایس اور کویت ایئر ویز سمیت دنیا کے معروف ترین فضائی اداروں کے جہاز خدمات مہیا کرتے تھے۔ 1990ء کی دہائی میں متحدہ عرب امارات کے شہر دبئی کے ہوائی اڈے کے عالمی افق پر نمودار ہونے کے باعث کئی معروف فضائی اداروں نے کراچی کے لئے خدمات فراہم کرنا بند کردیں۔

گذشتہ چند سالوں سے پاکستان میں مضبوط معیشت کے باعث کئی فضائی ادارے ایک مرتبہ پھر کراچی لوٹ رہے ہیں جن میں کیتھے پیسفک اور سنگاپور ایئرلائنز قابل ذکر ہیں۔

جناح انٹرنیشنل کمپلیکس[ترمیم]

جناح ٹرمینل

جناح ٹرمینل کے 16 دروازے ہیں اور یہ بیک وقت 30 طیاروں کو خدمات مہیا کرسکتا ہے۔ ہر سال 60 لاکھ مسافر اس ٹرمینل کا استعمال کرتے ہیں جبکہ ہوائی اڈے پر سالانہ ایک کروڑ 20 لاکھ مسافروں کو خدمات فراہم کرنے کی گنجائش ہے۔

جناح بین الاقوامی ہوائی اڈہ قیام پاکستان سے آج تک پاکستان میں ہوابازی کی سب سے بڑی تنصیب ہے۔ یہ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن کا صدر دفتر ہے۔ پاکستان کی دیگر تمام نجی فضائی کمپنیوں کا مرکز بھی یہی ہے جن میں ایئر بلیو اور شاہین ایئر شامل ہیں۔

اصفہانی ہینگر[ترمیم]

جناح بین الاقوامی ہواگاہ

پی آئی اے کے طیاروں کی مرمت و دیکھ بھال کا اکثر کام بھی جناح بین الاقوامی ہوائی اڈہ پر قائم اصفہانی ہینگر پر ہوتا ہے۔ یہ بیک وقت دو بوئنگ 747 اور ایک بوئنگ 737 کو سنبھالنے کی گنجائش رکھتا ہے۔

15 فروری 2006ء کو اصفہانی ہینگر میں بوئنگ 777 طیارے کی مرمت کا کام انجام دے کر پاکستان میں نئی تاریخ رقم کی گئی۔

پی آئی اے اپنے طیاروں کے علاوہ فلپائن ایئر لائنز اور ترک ایئرلائنز کے طیاروں کی بھی دیکھ بھال کرتی ہے۔

فضائی ادارے[ترمیم]

مال بردار فضائی ادارے[ترمیم]

چارٹر ادارے[ترمیم]

اہم واقعات[ترمیم]

متعلقہ مضامین[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]

باضابطہ ویب سائٹ