جنوب مشرقی ایشیائی اقوام کی تنظیم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
آسیان رکن ممالک

جنوبی ایشیائی اقوام کی تنظیم جو "آسیان" کے نام سے معروف ہے جنوب مشرقی ایشیا کے 10 ممالک کی قائم کردہ سیاسی و اقتصادی انجمن ہے جو دسمبر 1967ء کو انڈونیشیا، ملائشیا، فلپائن، سنگاپور اور تھائی لینڈ نے مل کر قائم کی۔ اس تنظیم کے قیام کا مقصد اشتراکیت کے ویت نام سے آگے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے متحد ہونا تھا۔ اس کے علاوہ اقتصادی، سماجی اور ثقافتی میدانوں میں رکن ممالک کو ترقی دینا اور علاقائی امن کی ترویج تھا۔

2005ء کے مطابق اس اتحاد کا مشترکہ جی ڈی پی (فرضی/پی پی پی) 884 ارب امریکی ڈالرز /2.755 ٹریلین ڈالرز [1][2] تھا جو سالانہ تقریباً 4 فیصد کے حساب سے بڑھ رہا ہے[3]۔

رکنیت[ترمیم]

آسیان 5 ممالک فلپائن، انڈونیشیا، ملائشیا، سنگاپور اور تھائی لینڈ نے قائم کی۔ برونائی نے 8 جنوری 1984ء کو برطانیہ سے آزادی حاصل کرنے کے 6 روز بعد تنظیم میں شمولیت اختیار کی۔ ویت نام، لاؤس اور میانمار بعد میں تنظیم میں شامل ہوئے۔ ویت نام 28 جولائی 1995ء اور لاؤس اور میانمار 23 جولائی 1997ء کو آسیان کے رکن بنے۔ کمبوڈیا 30 اپریل 1999ء کو تنظیم کا آخری رکن قرار پایا۔

پاپوا نیو گنی 1976ء سے تنظیم میں مبصر کی حیثیت سے داخل ہے۔ 23 جولائی 2006ء کو مشرقی تیمور کے وزیراعظم ہوزے راموس ہورتا نے بھی تنظیم میں شمولیت کی باقاعدہ درخواست دی۔ آسٹریلیا بھی رکن بننے کا خواہشمند ہے [4]لیکن چند ارکان اس کی شمولیت کے خلاف ہیں[5][6]۔

ارکان[ترمیم]

مندرجہ ذیل ممالک آسیان کے باقاعدہ ارکان ہیں:

امیدوارِ رکنیت[ترمیم]

مبصر[ترمیم]

آسیان پلس تھری[ترمیم]

مشرقی ایشیا کانفرنس[ترمیم]


آسیان علاقائی فورم[ترمیم]


حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ پی ڈی ایف فائل
  2. ^ [1]
  3. ^ [2]
  4. ^ [3]
  5. ^ [4]
  6. ^ [5]

مزید دیکھیے[ترمیم]


حوالہ جات[ترمیم]