|
جنگ تیس سالہ کا ایک تصویری منظر |
|
|
| متحارب |
* جمہوریہ ہالینڈ
- سلطنت سویڈن
- بوہیمیا
- ڈنمارک-ناروے
- سلطنت فرانس
- سلطنت انگلستان
- برانڈبرگ
- ٹرانسیلوانیا
- مجارستان
- زوپوروشین قازیکس
- سلطنت عثمانیہ
|
مقدس رومی سلطنت
- رابطہ کیتھولک (جرمنی)
- آسٹریا
- الیکٹروریٹ آف بیویریا
- مملکت مجارستان
- مملکت کروشیا
- ہسپانیہ
- سلطنت ہسپانیہ
- ڈنمارک-ناروے
|
| قائدین |
| شہزادہ مالٹا (پرنس آف اورنج) و دیگر |
جوہان سرکلائس و دیگر |
| قوت |
495،000
- 150،000 ۔ سویڈن
- 20،000 ۔ ڈنمارک و ناروے
- 75،000 ۔ ہالینڈ
- ایک لاکھ سے ڈیڑھ لاکھ (تقریباً) ۔ جرمن
- 20 سے 30 ہزار - مجارستان
- 6،000 ۔ ٹرانسلوینیا
|
450،000
- 300،000 ۔ ہسپانوی بشمول ہسپانوی ہالینڈ و اطالیہ
- ایک سے دو لاکھ ۔ جرمنی
- 20،000 ۔ مجارستانی و کروشیائی
|
جنگ سی سالہ یا جنگ تیس سالہ 1618ء سے 1648ء تک جاری رہنے والی مذہبی مقاصد کیلئے لڑی گئی ایک جنگ ہے۔ زیادہ تر جنگ یورپی ملک جرمنی میں لڑی گئی۔ اس جنگ میں براعظم یورپ کے کئی طاقتور ممالک نے حصہ لیا۔ عیسائیوں کے دو فرقوں پروٹسٹنٹ اور کیتھولک کے اختلافات اس جنگ کا سب سے بڑا محرک تھے۔ ہیسبرگ خاندان اور دیگر قوتوں نے جنگ سے زیادہ طاقت حاصل کرنے کی کوشش کی اور اس کی سب سے بڑی مثال یہ ہے کہ کیتھولک فرانس نے کیتھولک فرقے کی بجائے پروٹسٹنٹ فرقے کے حق میں جنگ میں حصہ لیا اور اس وجہ سے فرانسیسی ہیسبرگ دشمنی میں مزید بھڑک اٹھے۔
یہ تیس سالہ جنگ بھوک اور بیماریوں کا سبب بنی اور اس سے حالات اور زیادہ خراب ہو گئے۔ یہ جنگ تیس سال تک جاری رہی، لیکن اس جنگ سے جو مسائل پیدا ہوئے ان پر جنگ ختم ہونے کے بعد بھی طویل عرصے تک قابو نہ پایا جا سکا۔ بالآخر یہ جنگ ویسٹ فالن معاہدۂ امن کے بعد ختم ہوئی۔
جنگ میں شمولیت (چارٹ)[ترمیم]

|
براہ راست شہنشاہ کے مخالف |
|
بلاواسطہ طور پر شہنشاہ کے مخالف |
|
براہ راست شہشاہ کے حامی |
|
بلاواسطہ طور پر شہنشاہ کے حامی |
مجموعہ تصاویر[ترمیم]
بیرونی روابط[ترمیم]