جنگ مستول ۶۵۵ء

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

-

جنگ مستول
عرب - بازنطینی رومی جنگیں
تاریخ 655ء
مقام ليكيا ساحل کے قریب، فینیقی قصبے کی طرف
نتیجہ خلافت راشدہ کی فیصلہ کن فتح
متحارب
بازنطینی روم خلافت راشدہ
قائدین
کنستانس دوئم عبداللہ بن سعد بن ابی السرح‎ ؓ
قوت
500 بحری بیڑے 200 بحری بیڑے
نقصانات
بھاری درمیانی

جنگ مستول (عربی: معرکہ ذات الصواری، انگریزی: Battle of the Masts) سن 655ء میں خلافت راشدہ اور بازنطینی سلطنت کے مابین ليكيا ساحل کے قریب، فینیقی قصبے کی طرف ایک بحری جنگ لڑی گئی تھی- یہ مسلمانوں کی رومیوں کے خلاف پہلی اہم اور بڑے پیمانے پر بحری جنگ لڑی گئی تھی جس کے نتیجے میں مسلمان سرخرو ہوئے اور بحیرہ روم میں انکا اگلے کئی سالوں تک عروج بھی رہا- مسلمانوں کی قیادت مصر کے صوبہ دار اور خلیفہ حضرت عثمان ابن عفان (رضی اللہ عنہ) کے منہ بولے بھائی، حضرت عبداللہ بن سعد بن ابی السرح‎ (رضی اللہ عنہ) نے کی- جبکہ بازنطینی سلطنت کی بحری قیادت خود قیصر بازنطینی سلطنت، کنستانس دوئم نے کی تھی-

پس منظر[ترمیم]

سن 645ء میں خلیفہ حضرت عثمان ابن عفان (رضی اللہ عنہ) نے پر زور مخالفت کے باوجود حضرت عبداللہ بن سعد بن ابی السرح‎ (رضی اللہ عنہ) کو مصر کا نیا صوبہ دار مقرر کیا اور نیم خود مختار حاکم حضرت عمرو بن العاص‎ (رضی اللہ عنہ) کو ہٹا دیا-

خلیفہ حضرت عثمان ابن عفان (رضی اللہ عنہ) نے شام کے صوبہ دار حضرت معاویہ بن ابو سفیان (رضی اللہ عنہ) کو اجازت دی کہ وہ 649ء میں قبرص پر چھاپہ ماریں اور اس مہم کی کامیابی کے باعث مصر کی حکومت کی طرف سے بھی بحری سرگرمیاں شروع ہوئیں- عبداللہ بن سعد نے ایک مضبوط بحریہ کی تعمیر و تشکیل پر ذاتی توجہ دی اور ایک ہنر مند اميرُ البَحَر ثابت ہوئے- ان کی قیادت میں مسلم بحریہ نے 646ء میں اسکندریہ پر بازنطینی جوابی حملہ کو روکا-

سن 655ء میں شام کے صوبہ دار حضرت معاویہ بن ابو سفیان (رضی اللہ عنہ) نے ایک فوجی دستے کی قیادت کرتے ہوئے زمین کے ذریعے بازنطینی سلطنت کی طرف بڑھے جبکہ مصر کے صوبہ دار حضرت عبداللہ بن سعد بن ابی السرح‎ (رضی اللہ عنہ) بذریعہ بحیرہ روم کے اپنی بحری فوج کے سمیت بازنطینی سلطنت کی جانب روانہ ہوئے - قیصر کنستانس دوئم نے بحری فوج سے پہلے نمٹنا زیادہ ضروری سمجھا اور اپنی بحری فوج کی خود قیادت کرتے ہوئے جنگ کی تیاریاں شروع کیں-

جنگ[ترمیم]

المعروف ثیوفانس المعترف ، ایک واقعہ نگار نے کہا ہے کہ، قبل از جنگ قیصر کنستانس دوئم نے ایک خواب میں اپنے آپ کو تھیسالونیکی میں پایا اور جاگنے پر ایک خوابوں کے ترجمان سے ملے جس نے یہ کہا کہ؛

"اے شہنشاہ! کاش کہ آپ نہ سوئے ہوتے اور نہ ہی یہ خواب دیکھتے"- یعنی ترجمان کے مطابق جیت مسلمانوں کی ہوگی-چونکہ لفظ تھیسالونیکی کو توڑ کر ان کی زبان میں بولا جائے تو "تھیس-الو-نیکی" بنتا ہے جس سے مراد "دوسرے کو جیتنے دینا" کے ہیں-

دونوں فریق کی ملاقات ليكيا ساحل کے قریب، فینیقی قصبے کی جانب ہوئی- جب جنگ چھڑی تو دونوں کے بیڑے اتنے قریب آ گئے کہ ایک دوسرے کے مستول آپس میں ٹکرانے تک لگے یا شاید آپس میں بھی پھس گئے- جنگ پھر روایتی انداز میں لڑی جانے لگی اور آخرکار مسلمانوں نے رومیوں کو بھاری نقصان پہنچایا- قیصر کنستانس دوئم نے خود اپنی جان بڑی مشکل سے بچائی اور اپنے کسی افسر سے وردی کا تبادلہ کرکے وہاں سے نکل لیا- اس جنگ میں رومیوں کی پوری بحری فوج کا تقریباً خاتمہ ہوا جس میں شاید 500 کے 500 ہی بحری بیڑے یا پکڑے گئے یا تباہ ہوگئے-

عواقب و نتائج[ترمیم]

اگرچہ اس فتح کے بعد عرب بیڑے پیچھے ہٹ گئے، جنگ مستول بحیرہ روم، اسلام اور بازنطینی سلطنت کی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل تھا، کیونکہ اب زمین پر مسلمانوں کی برتری کے ساتھ ساتھ بحر پر بھی برتری قائم ہوگئی- اگلے چار صدیوں کے لئے، بحیرہ روم ، بازنطینی سلطنت اور مسلمانوں کے درمیان ایک جنگ کا میدان ہو گا-تاہم بازنطینیوں کو اس آفت کے نتیجے میں، مسلمانوں کے درمیان خانہ جنگی کے پھیلنے کی وجہ سے، مہلت مل گئی جس کا فائدہ اٹھا کر کنستانس دوئم نے خاص طور پر مغربی بحیرہ روم اور افریقہ کے علاقوں میں بازنطینی دفاع، تنظیم نو پر بھرپور توجہ دی-