جنگ موتہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
جنگ موتہ
تاریخ جمادی الاول 8ھ (ستمبر 629ء)
مقام موتہ ، کرک۔جنوب مغربی اردن
نتیجہ جنگ کا فیصلہ نہ ہوا
متحارب
مسلمانانِ مدینہ غساسنہ
بازنطینی روم
قائدین
زید بن حارثہ
جعفر طیار
عبداللہ بن رواحہ
خالد بن ولید
ھرکال
تذارق
شرحبيل ابن عمرو
قوت
3000 2 لاکھ (نصف رومی اور نصف عیسائی عرب)
نقصانات
12 شہادتیں 20 ھزار سے کچھ زائد

یہ جنگ جمادی الاول 8ھ (ستمبر 629ء) میں جنوب مغربی اردن میں موتہ کے مقام پر ہوئی جو دریائے اردن اور اردن کے شہر کرک کے درمیان ہے۔ اس میں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم شریک نہیں تھے اس لیے اسے غزوہ نہیں کہتے بلکہ جنگ یا سریہ یا معرکہ (عربی میں معركة مؤتة ) کہتے ہیں۔ اس میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ سمیت کئی جلیل القدر صحابہ شامل نہیں تھے۔ یہ بازنطینی (مشرقی رومی) افواج اور مسلمانوں کے درمیان ہوئی۔ بازنطینی افواج میں نصف عرب عیسائی بھی شامل تھے جن کا تعلق اردن و بلاد شام سے تھا۔ جنگ کسی واضح نتیجہ کے بغیر ختم ہوئی اور طرفین (آج کے مسلمان اور مغربی دنیا) اسے اپنی اپنی فتح سمجھتے ہیں۔

پس منظر[ترمیم]

صلح حدیبیہ کے بعد مسلمان اور قریش کے درمیان کچھ وقت کے لیے جنگ نہ ہوئی۔ یمن کے ساسانی گورنر کے اسلام قبول کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے قبائل بھی مسلمان ہو گئے تھے۔ اس طرف سے اطمینان کے بعد حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسلام کی تبلیغ کے لیے کچھ سفیر اردن اور شام کے عرب قبائل کی طرف روانہ کیے جنہیں ان قبائل نے سفارتی روایات کے برخلاف قتل کر دیا[1]۔ یہ عرب قبائل بازنطینی سلطنت (مشرقی روم کی سلطنت) کے باج گذار تھے۔ سفیروں کے قتل کے بعد ان قبائل کی سرکوبی کے لیے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے 3000 کی ایک فوج تیار کر کے مغربی اردن کی طرف روانہ کی۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سپہ سالاروں کی ترتیب یہ رکھی کہ حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو اس لشکر کا امیر مقرر کیا، ان کی شہادت کی صورت میں حضرت عبداللہ بن جعفر (جعفر طیار) کو مقرر کیا اور ان کی شہادت کی صورت میں حضرت حضرت عبداللہ بن رواحہ کو مقرر کیا۔ اور یہ کہ اگر وہ بھی شہید ہو جائیں تو لشکر اپنا امیر خود چن لے۔ دوسری طرف سے ھرقل کی قیادت میں ایک لاکھ رومی اور ایک لاکھ عرب قبائل پر مشتمل فوج بھی تیار ہوئی جو مروجہ ہتھیاروں سے لیس تھی۔ جب مسلمان موتہ پہنچے اور دشمنوں کی تعداد کا پتہ چلا تو انہوں نے پہلے سوچا کہ مدینہ سے مزید کمک آنے کا انتظار کیا جائے مگر حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے اسلامی فوج کی ہمت افزائی کی اور اسلامی فوج نے پیش قدمی جاری رکھتے ہوئے جنگ کی۔[2]

جنگ[ترمیم]

جنگ شروع ہوئی تو حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ نے شجاعت کے ساتھ جنگ کی۔ رومی افواج تجربہ کار تھیں۔ انہوں نے حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو نیزوں کی مدد سے زمین پر گرا کر شہید کر دیا تو حضرت جعفر طیار رضی اللہ عنہ نے علم سنبھال کر اسلامی افوج کی قیادت کی مگر جب وہ گھیرے میں آ گئے اور محسوس کر لیا کہ اب شہادت قسمت میں لکھی ہے تو اپنا گھوڑا فارغ کر دیا اور پیدل نہایت خونریز جنگ کی اور 80 زخم کھائے۔ اس دوران ان کے دونوں ہاتھ کٹ گئے اور وہ شہید ہو گئے[3]۔ ان کے بعد حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے علم سنبھالا اور رومی افواج کے مرکز میں زبردست حملہ کیا۔ شدید لڑائی میں وہ بھی شہید ہو گئے۔ [4]۔ جب یہ تینوں نامزد قائد شہید ہو گئے تو اسلامی فوج نے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو اپنا امیر چنا۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ حال ہی میں اسلام لائے تھے اور اعلیٰ درجہ کے سپاہی اور جنگجو تھے۔ انہوں نے بھانپ لیا تھا کہ مسلمانوں کے جنگ جیتنے کے امکانات بہت کم ہیں۔ اسی اثناء میں رات ہو گئی۔ انہوں نے اپنی افواج کو پیچھے ہٹا لیا۔ انہوں نے ایک زبردست جنگی حربہ اختیار کیا۔ انہوں نے بے شمار سپاہیوں کو پہاڑ کی اوٹ میں بھیج دیا اور ان سے کہا کہ اگلی صبح نئے جھنڈوں کے ساتھ گردو غبار اڑاتے ہوئے پیچھے سے اسلامی فوج میں شامل ہو جائیں۔ اس تدبیر سے رومی سمجھے کہ مدینہ سے مسلمانوں کے لیے نئی امداد آ گئی ہے۔ رومیوں نے اپنی فوج کو پیچھے ہٹا لیا اور جنگ رک گئی۔ اس طرح دونوں افواج واپس چلی گئیں اور مسلمانوں کو دو لاکھ کی رومی فوج سے بچا کر مدینہ واپس لایا گیا [5] [6]

نتائج[ترمیم]

جنگ کو کسی کی فتح یا شکست نہیں کہا جا سکتا۔ مگر نتائج مسلمانوں کے حق میں نکلے۔ اول تو لوگوں نے پہلی دفعہ دیکھا کہ رومیوں کے اتنے بڑے لشکر کو کسی نے للکارا ہو اور بچ کر نکل گیا ہو۔ لوگوں کے ذہن سے رومیوں کی دہشت کسی قدر کم ہو گئی۔ دوم یہ کہ بلاد شام و اردن کے لوگوں کو مسلمانوں اور ان کی زبردست طاقت کا تعارف ہو گیا کیونکہ یہ پہلی اسلامی فوج تھی جو مدینہ سے اس قدر باہر جا کر لڑی۔ اس علاقے کے لوگوں کے لیے مسلمانوں کا جذبہ شہادت ایک بالکل نئی چیز تھی۔ ایک اور فائدہ یہ ہوا کہ مشرکینِ مکہ نے مسلمانوں کو کمزور سمجھنا شروع کر کے ایسے اقدام کیے جو صلح حدیبیہ کے خلاف تھے۔ اس سے صلح حدیبیہ مشرکین کی طرف سے ٹوٹ گیا اور مسلمانوں نے اس کے بعد مکہ کو فتح کر لیا۔

پیش منظر[ترمیم]

مسلمان چونکہ یہ جنگ واضح طور پر نہ جیت سکے تھے اس لیے مکہ کے مشرک قریش نے مسلمانوں کو کمزور سمجھا اور صلح حدیبیہ کی پروا نہ کرتے ہوئے قبیلہ بنی خزاعہ کے کچھ لوگ شہید کر دیے۔ یہ صلح حدیبیہ کا اختتام تھا کیونکہ قبیلہ بنی خزاعہ کے ساتھ مسلمانوں کے معاہدے تھے اور قریش صلح حدیبیہ کی رو سے ان سے جنگ و قتال نہیں کر سکتے تھے۔ ابوسفیان نے بھانپ لیا کہ اب ان کی خیر نہیں اور مسلمان اس بات کا بدلہ ضرور لیں گے۔ اس نے مدینہ کا دورہ بھی کیا تاکہ صلح حدیبیہ کی تجدید کی جائے مگر حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جواب نہ دیا اور ابوسفیان غصے کی حالت میں مکہ واپس چلا گیا [7]۔ قتل شدہ افراد کے قبیلہ نے مسلمانوں سے فریاد کی اور اس کے بعد حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مکہ فتح کرنے کا فیصلہ کیا اور نتیجتاً رمضان 8ھ میں مکہ فتح ہو گیا۔

حوالے[ترمیم]

  1. ^ طبقات الکبریٰ جلد 3 صفحہ 128
  2. ^ السیرۃ النبویۃ از ابن ھشام جلد 4 صفحہ 17
  3. ^ السیرۃ النبویۃ از ابن ھشام جلد 4 صفحہ 20
  4. ^ السیرۃ النبویۃ از ابن ھشام جلد 4 صفحہ 21
  5. ^ مغازی جلد 3 صفحہ 755
  6. ^ السیرۃ النبویۃ از ابن ھشام
  7. ^ السیرۃ النبویۃ از ابن ھشام جلد 4 صفحہ 38-39