جنگ نکوپولس

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

-

جنگ نکوپولس
بسلسلۂ صلیبی جنگیں
Nicopol final battle 1398.jpg
جنگ نکوپولس از Jean Froissart
تاریخ 25 ستمبر 1396ء
مقام نکوپولس
نتیجہ عثمانیوں کی فتح
متحارب
سلطنت عثمانیہ سلطنت ہنگری
فرانس
ولاچیا
مقدس رومی سلطنت
قائدین
بایزید اول سجسمنڈ آف ہنگری
جان آف نیورس
مرسیا دی ایلڈر
قوت
تقریباً ایک لاکھ تقریباً ایک لاکھ
نقصانات
35 ہزار 35 ہزار

جنگ نکوپولس 25 ستمبر 1396ء کو سلطنت عثمانیہ اور ہنگری، فرانس اور مقدس رومی سلطنت کے متحد لشکر کے درمیان لڑی جانے والی جنگ تھی۔ یہ جنگ دریائے ڈینیوب کے کنارے نکوپولس (موجودہ نکوپول، بلغاریہ) کے قلعے کے قریب لڑی گئی۔ اس جنگ کو صلیبی جنگ بھی کہا جاتا ہے اور یہ قرون وسطیٰ کی آخری بڑی صلیبی جنگ تھی۔

اس جنگ کا سبب عثمانیوں کے ہاتھوں مسلسل شکست کھانے کے بعد عیسائی دنیا کا ردعمل تھا۔ 1394ء میں پوپ بینیفیس نہم نے ترکوں کے خلاف نئی صلیبی جنگ کا اعلان کیا۔ اس جنگ میں عثمانیوں کی قیادت سلطان بایزید اول کے ہاتھوں میں تھی جو 24 ستمبر کو مقابلے کے لیے نکوپولس پہنچے۔ صلیبیوں کے عظیم لشکر کے باعث مسلمانوں کی فتح کے امکانات کم تھے لیکن وہ انتہائی پامردی سے لڑے۔ سلطان بایزید جنہیں شراب کی بری لت پڑی ہوئی تھی، نے شراب نوشی سے توبہ کرتے ہوئے اللہ سے فتح کی دعا کی اور بالآخر فتح عثمانیوں کا مقدر بنی۔