جنگ یرموک

وکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش
جنگ یرموک
میدان یرموک کی ایک تصویر
یرموک کا ایک منظر
تاریخ 15 سے 20 اگست 636ء
مقام دریائے یرموک کے قریب
نتیجہ خلافت راشدہ کی فیصلہ کن فتح
متحارب
Simple Labarum2.svg بازنطینی سلطنت,
غسانی سلطنت
Flag of Afghanistan (1880–1901).svg خلافت راشدہ
(جیش خلفائے راشدین)
قائدین
ہرقل
تھیوڈور ٹریتھاریس[1]
وہان g[›]
جبلہ بن الایہم
دائرجان
Buccinator (قنطیر)
گریگوری[2]
خالد بن ولید
ابوعبیدہ ابن الجراح
عمرو بن العاص
شرحبیل بن حسنہ
یزید بن ابی سفیان
قوت
15,000 سے 100,000
(جدید تخمینہ)a[›]

100,000 سے 400,000
(ابتدائی مآخذ)b[›]c[›]

24,000 سے 40,000 d[›]e[›]
نقصانات
45% مارے گئے
(جدید تخمینہ)[3]
70,000 سے 120,000 مارے گئے
(ابتدائی مآخذ)f[›]
4,000 شہید ہوئے[3]

جنگ یرموک 15 ہجری میں لڑی گئی ایک جنگ ہے۔

فہرست

[ترمیم] پس منظر

اردن میں یرموک نام کا ایک دریا ہے جہاں پر مسلمانوں اور رومی فوجوں کے درمیان شدید جنگ چھڑ گئی تھی، رومیوں نے چونکہ مسمانوں کے ہاتھوں لگاتار شکستیں کھائیں تھی اور شامات سے ہٹنے کیلۓ مجبور ہو‎ۓ تھے اس لئے اس کوشش میں لگے ہوے تھے کہ مسلمانوں کے خلاف ایک عظیم جنگ لڑ کر انتقام لیں، اور اس بار ایک لاکھ فوجی قوت کو اکٹھا کر کے اور ایک روایت کے مطابق تین لاکھ نفوس پر مشتمل لشکر کو یرموک کی میدان میں مسلمانوں کے ساتھ مقابلہ ہوا۔


[ترمیم] تاریخ

یرموک کی جنگ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خلافت کے دور میں 5 رجب سن 15 ہجری کو واقع ہوئی۔


[ترمیم] میدان جنگ

یرموک میں مسلمانوں کی قیادت ابو عبیدہ جراح رضی اللہ عنہ کر رہے تھے، جس نے مسلمانوں کی پہلی فوجی دستے کو یرموک روانہ کیا تھا اس کے بعد سعید بن عامر کی قیادت میں مسلمان مجاہدین کا دوسرا دستہ انکی مدت کیلئے روانہ کیا، دونوں فرجوں میں شدید جنگ چھڑ گئ، دونوں طرف سے ہزاروں فوحی ہلاک ہوئے یا قیدی بنائے گئے مگر آخر کار کامیابی مسلمانوں کو حاصل ہوئی اور رومی فوج پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو گئ، جب اسکی خبر رومی بادشاہ ہرقل کو دی گئ جو کہ انطاکیہ کے شہر میں بیٹھ کر اپنی فوج کی سربراہی کر رہا تھا، خبر سنتے ہی وہ وہاں سے بھاگ کر قسطنطنیہ (استنبول، ترکی) چلا گیا اور بڑی حسرت کے ساتھ کہا:

علیک یا سوریہ السلام و نعم البلد ھذا للعدوا
ترجمہ: الوداع اے سر زمین شام، کتنی خوابصورت سر زمین دشمنوں کے ہاتھ لگ گئی۔

[ترمیم] نتیجہ

تاریخ دانوں کے مطابق اس میں مسلمانوں کو بے انتہاء جانی و مالی نقصان ہوا اور فتح کی قیمت بہت بھاری تھی۔ اس جنگ میں عمرو بن سعید، ابان بن سعید، عکرمہ بن ابوجہل، عبداللہ بن سفیان، سعید بن حارث، سہیل بن عمرو، ہشام بن العاص ( عمرو بن العاص کا بھائی) جیسے مسلمان مارے گۓ۔ [4] [5]


[ترمیم] حوالہ جات

  1. ^ کینیڈی 2006, p. 45
  2. ^ Nicolle 1994, pp. 64–65
  3. ^ 3.0 3.1 Akram 2004, p. 425
  4. ^ تاریخ ابن خلدون، 1، ص: 489 
  5. ^ عصفری، تاریخ خلیفہ بن خیاط، ص: 88 
ذاتی اوزار

متغیرات
ایکشنز
رہنمائی
ساتھی منصوبے
آلات
دیگر زبانیں