جنگ یرموک

وکیپیڈیا سے

:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش

فہرست

[ترمیم] پس منظر

اردن میں یرموک نام کا ایک دریا ھے جھاں پر مسلمانوں اور رومی فوجوں کے درمیان شدید جنگ چھڑ گی تھی، رومیوں نے چونکہ مسمانوں کے ھاتھوں لگاتار شکستیں کھایی تھی اور شامات سے ھٹنے کیلۓ مجبور ھو‎ۓ تھے اس لۓ اس کوشش میں لگے ھوے تھے کہ مسلمانوں کے خلاف ایک عظیم جنگ لڑکر انتقام لیں،اور اس بار ایک لاکھ فوجی قوت کو اکٹھا کرکے اور ایک روایت کے مطابق تین لاکھ نفوس پر مشتمل لشکر کو یرموک کی میدان میں مسلمانوں کے ساتھ مقابلہ ھوا۔


[ترمیم] تاریخ

یرموک کی جنگ عمر بن خطاب کی خلافت کے دور میں 5 رجب سن 15 ھجری کو واقع ھوئی۔


[ترمیم] میدان جنگ

یرموک میں مسلمانوں کی قیادت ابو عبیدہ جراح کر رھے تھے،جس نے مسلمانوں کی پھلی فوجی ٹکڑی کو یرموک روانہ کیا تھا اس کے بعد سعید بن عامر کی قیادت میں مسلمان مجاھدوں کا دوسرا دستہ انکی مدت کیلۓ روانہ کیا، دونوں فرجوں میں شدید جنگ چھڑ گئ،دونوں طرف سے ہزاروں فوحی ہلاک ھو گۓ قیدی بناے گۓ مگر آخر کار کامیابی مسلمانوں کو حاصل ہوئی اور رومی فوج پیچھے ہٹنے پر مجبور ھو گئ، جب اسکی خبر رومی بادشاہ "ھرقیل" کو دی گئ جو کہ انطاکیہ کے شھر میں بیٹھ کر اپنے فرج کی سربراہی کر رہا تھا، خبر سنتے ہی وہ وہاں سے بھاگ کر قسطنطینیہ (استنبول ترکی)چلا گیا اور بڑی حسرت کے ساتھ کہا :" علیک یا سوریہ السلام و نعم البلد ھذا للعدوا"یعنی الودا اے سرزمین شام، کتنی خوابصورت سرزمین دشمنوں کے ھاتھوں لگ گئ،


[ترمیم] نتیجہ

تاریخدانوں کے مطابق اس میں مسلمانوں کو بےانتہاء جانی و مالی نقصان ہوا اور فتح کی قیمت بہت بھاری تھی۔ اس جنگ میں عمرو بن سعید، ابان بن سعید، عکرمہ بن ابی جھل، عبداللہ بن سفیان، سعید بن حارث، سھیل بن عمرو، ھشام بن عاص ( عمر عاص کا بھائ) جیسے نامردار مسلمان مارے گۓ(1) 1{تاریخ خلیفہ بن خیاط ( عصفری)ص88؛تاریخ ابن خلدون ج1 ص 489