جگدیش چندر بوس

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
جگدیش چندر بوس

پیدائش: 1858ء

انتقال:1937ء

ہندوستان کا ماہر طبیعیات کلکتہ اور کیمبرج میں تعلیم پائی۔ 1896ء میں کیمبرج یونیورسٹی سے ڈی۔ ایس۔ سی کی ڈگری حاصل کی۔ 1885ء سے 1915ء تک کلکتہ کالج میں طبیعیات کا پروفیسر رہا۔ 1917ء میں کلکتہ میں ’’بوس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ‘‘ کے نام سے ایک تحقیقی ادارہ قائم کیااور وفات تک اس کا ناظم رہا۔ بوس نے برقی شعاع کاری کے بارے میں تحقیق کرکے طبیعیات کے میدان میں اہم حصہ لیا۔ روشنی کے انعطاف اور انعکاس کے عالمگیر کلیوں کی توثیق کی اور تجربات کے بعد نتیجہ اخذ کیا کہ روشنی کی شعاعوں پرایسا اثر ڈالنا ممکن ہے کہ ان کے دونوں سروں پر مختلف خاصیتیں پیدا ہو جائیں (یعنی دو شعاعوںکے مخالف سرے یکساں خاصیت رکھتے ہیں) حیوانی عضویات ، بالخصوص نباتاتی عضویات کے میدان میں اس کی تحقیقات اپنے وقت سے بہت آگے تھیں۔ اس نے ثابت کیا کہ درخت اور پودے بھی زندگی رکھتے ہیں۔ اس نے تجربے کرنے کے لیے نئے طریقے وضع کیے اور دواؤں کے اثرات ریکارڈ کرنے کا ایک آلہ ایجاد کیا۔ کئی ضخیم سائنسی کتابوں کے مصنف ہیں۔