جھانسی کی رانی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
جھانسی کی رانی
جھانسی کی رانی
Rani of jhansi.jpg
رانی لکشمی (گھوڑسوار فوجی کی شکل میں)
پیشرو رانی راما بائی
جانشین برطانوی راج
رفیق زندگی گنگادراؤ نیوالکر
شاہی گھرانہ مراٹھا سلطنت
اولاد دامودر(سگہ)انند راؤ (دائی)بیٹا

جھانسی کی رانی جن کا نام لکشمی بائی تھا ۔ جھانسی ریاست کی رانی تھی جو ۱۹ نومبر 1828ء کو پیدا ہوئی اور ۱۸ جون ۱۸۵۸ کو وفات پاگئی۔ یہ ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی میں بھرپور کردار نبھانے والے لیڈروں میں سے تھی جنہوں نے ہندوستان کو انگریزوں سے آزادی کرانے میں زبردست کردار آدا کیا۔

ابتدائی زندگی[ترمیم]

پیدائش[ترمیم]

جھانسی کی رانی غالباً 19 نومبر 1828 کو وارانسی میں پیدا ہوئی ایک ہندو براہمن کے گھر۔ ان کے والد کا نام موروپنت اور والدہ کا بھاگیرتی تھا۔ان کے والد ابتدائی طور پر بٹھور ریاست کے راجا کے لئے کام کرتا تھا،لیکن بٹھور کے راجا نے لکشمی بائی کا پرورش اس طرح کیا کہ اپنے سگی بیٹھی سے بھی زیادہ۔

شادی اور گھررہستی[ترمیم]

ان کی شادی 1842ء میں جھانسی کے راجا گنگا دراؤ نوالکر سے ہوئی۔رانی کی عمر اس وقت کم تھی یعنی صرف 13 سال کی تھی۔تب تک ان کو منیکنیکہ اور منو کہا جاتا تھا لیکن شادی کے بعد لکشمی بائی کے نام سے یاد کی جاتی تھی۔ان کا ایک بیٹھا پیدا ہوا جس کا نام دامودر رکھا لیکن انگریزوں کے چال سے اسے سانپ نے کاٹ لیا اور مرگیا اس کے بعد انہوں نے اپنے بھانجےجس کا نام انند راؤ تھا اس کو دائت کیا اور ان کی بہن نے انند کو اپنے مرگ سے پہلے رانی لکشمی کو سونپہ۔اس کے بعد رانی کو چونکہ ہر وقت اپنے بیٹے کے یاد میں ہوا کرتی اس لئے انند کا نام انند سے دامودر رکھ لیا اور اسے اپنا سگہ بیٹا قرار دیا۔ مہراج گنگا کا قتل ان کے بھتیجے جیسے شخص علی بہادر نے کیا جوکہ جھانسی کے تخت پر بیٹھنا چاہتا تھا ۔ لیکن اس کے بعد رانی نے تخت پر ایک زبردست قبضہ کیا اور جھانسی کی تخت کو نہ ہی علی بہادر اور دیگر دعویداروں کو دیا اور نہ ہی انگریزوں کی ایسٹ انڈیا کمپنی کو دیا بلکہ خود رائج ہوئی۔

جنگِ آزادی 1857ء[ترمیم]

ابتداء[ترمیم]

جیسے کہ جنگ آزادی میں بہت سے ریاستوں نے حصہ لیا جن میں دو بخوبی معلوم ہے ایک مغل سلطنت کے طرف سے بہادر شاہ ظفر اور دوسری جھانسی کی رانی لکشمی بائی۔ جھانسی کی رانی ابتدائی سے ہی ایک باہمت خاتون تھی اور انگریزوں کے سامنے انہیں چھٹما دے جاتی تھی۔ وہ کسی ہندوستانی پر ظلم نہیں سہ سکتی تھی اور اگر انگریز ہندوستانی پر ظلم کرتا تو اسے منہ توڑ جواب دیتی تھی۔
تحریک آزادی ابتدائی میں مئی اور جولائی 1857 میں میرٹھ سے شروع ہوئی۔اصل میں اس تحریک کو اس وقت اصل عرف ملا جب انگریزوں کے فوج میں بے شمار ہندوستانی موجود تھے اور انہوں نے گائے اور خنزیر کے چربی والے کاتوس استعمال کرنے سے انکار کیا۔جن میں اس وقت انگریزوں کے فوج میں چونکہ ہندوستانی ہندوں اور مسلمان شامل تھے۔تو مسلمان نے اسلئے انکار کیا کیونکہ وہ خنزیر کو ملعون سمجھتے ہیں اور ہندؤں نے اس لئے کہ وہ گائے کو بابرکت سمجھتے ہیں۔ اس لئے دونوں کے لئے یہ جائز نہ تھا کہ وہ کارتوس استعمال کریں۔

رانی کا ردِعمل[ترمیم]

وہ اونچا مقام جہاں سے جھانسی کی رانی اپنے بیٹے انند کو کمر سے باندھے گھوڑے پر جھانسی کے محل سے نیچے چلانگ لگائی۔

رانی لکشمی بائی کی جھانسی پر جب فرنگیوں نے حملہ کیا تو اس میں بہت ہی مشہور واقعات پیش آئے ۔ رانی لکشمی نے اس وقت انگریزوں کا مقابلہ کیا۔کچھ دن یہ حملہ جاری رہا۔اس کے باد راؤ دلہاجو نام کا وزیر تھا رانی لکشمی کا، اس کو رانی نے ایک دوار (قلعے کا بڑا گیٹ) پر کھڑا کیا اور اسے یہ ذمہ داری دی گئی کہ اس دوار کا حفاظت کرے،مگر وہ نمک حرامی کر بیٹھا اور انگریزوں کا ساتھ دیا۔اس دوار کے آس پاس کے تمام فوجیوں کو قلعے کے دوسرے طرف بھیجا اور دوار انگریزوں کے لئے کھولنے لگا اس وقت رانی کی ایک وفادا اور بچپن کی باندھی کاشی نے اسے دوار کھولنے سے روکا تو اسے بھی قتل کردیا۔جھانسی کی رانی کو پتہ چلا تو وہ فوراً اس دوار کے طرف بھاگ پڑی انگریزوں کو روکنے مگر تب تک انگریز داخل ہوچکے تھے، رانی کے افواج نے انگریزوں کا مقابلہ کیا مگر انگریزی فوج ،رانی کے فوج سے بیس گنا سے بھی ذیادہ تھی،اس لئے اس میں رانی کے پاس بھاگ نکلنے کے علاوہ اور کوئی راہ نہ بچ سکا اور مجبوراً رانی محل سے جانے لگی ۔اس وقت انگریزوں نے انہیں پوری طور پر گھیرلیا تھا،لیکن رانی ایک جانباز تھی وہ محل کے انتہائی بلند ترین مقام سے گھوڑے پر سوار چلانگ لگا ئی اور بھاگ نکلی۔ (اس مقام کا تصویر بائیں طرف موجود ہے)۔
اس کے بعد کچھ دنوں میں رانی نے انگریزوں پر ایک زبردست حملہ کیا اور جھانسی واپس چھین لی۔پھر رانی دربدر جا جا کہ لوگوں میں انگیزوں کے خلاف آگ پھیلانی لگی۔اور اسی طر آخر کار جنگ آزاد ہند 1857ء درپیش ہوا۔جس میں رانی اور ان کے افواج اور کہیں ریاستوں نے حصہ لیا۔

وفات[ترمیم]

جنگ جب جنگ آزادی کی تحریک جاری ہوئی۔ تو رانی نے بھی انگریزوں کا سامنا کیا،جنگ کے دوران بے شمار انگریزوں کو موت کی گھاٹ اتارا۔اس کے بعد اچھانک کسی فوجی نے میدان جنگ میں رانی پر تلوار سے وار کیا جس کے نتیجے میں وہ زخمی ہوئی اور وہ میدان سے ایک بیابان جگہ گئی۔ کہا جاتا ہے کہ وہاں رانی نے ایک بزرگ کو دیکھا اور ان سے کہا کہ وہ لکشمی بائی کو اس طرح جلائے کہ ان کا جسم موت کے بعد بھیانگریزوں کے ہاتھ نہ آئے جیسا زندگی میں کبھی انگریزوں کے ہاتھ نہ آئی۔اس فقیر نے رانی کو جلایا اور کسی کو خبر بھی نہ ہوئی کے رانی کا جسم کہا گیا۔

وہ اس کام سے انگریزوں کو یہ پیغام دینا چاہتی تھی کہ انگریز نہ تو رانی کو زندگی میں پکڑ سکے اور نہ موت کے بعد۔

اسی طرح رانی کے بدولت ہندوستان میں آزادی کا جزبہ برپا ہوگیا،جس کے نتیجے میں 90 سال بعد آزاد پاکستان اور بھارت وجود میں آیا۔ آج بھی رانی کو بھارت میں ایک ملّی خاتون کا درجہ حاصل ہے۔

مسلمانوں کے ساتھ سلوک[ترمیم]

رانی کا مسلمانوں کے ساتھ اچھے سلو کے ساتھ ساتھ بہت محبت بھی تھا۔رانی مسلمان اور ہندوں کو برابر سمجھتی تھی اور ان کو یکستاں حقوق دیتی تھی،یہی وجہ تھی کہ مسلمانوں کے دلوں میں بھی رانی نے ایک مقام پیدا کیا تھا۔ وہ مسلمانوں کو مساجد وغیرہ کے لئے زمینے بھی دیتی تھی۔