جیمز ایبٹ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

جنرل سر جیمز ایبٹ (12 مارچ 1807ء – 6 اکتوبر 1896ء) ایک برطانوی فوجی افسر تھے جو کہ سامراجی دور میں ہندوستان میں تعینات رہے۔ جیمز ایبٹ انگلستان میں پیدا ہوئے اور ان کے والد کا نام ہینری الیکسیس ایبٹ تھا، جو کہ کلکتہ میں تعینات مرچنٹ نیوی کے بیڑے سے ریٹائر افسر تھے۔ جیمز ایبٹ نے بنگال آرٹلری میں سولہ سال کی عمر میں اپنی خدمات شروع کیں۔[1] گو کہ جیمز ایبٹ نے ہندوستان میں کئی مقامات پر اپنی خدمات پیش کیں لیکن ان کی یادگار خدمات ہندوستان کے شمال مغربی سرحدی علاقے میں ہیں جو کہ انھوں نے انیسویں صدی کے وسط میں سرانجام دیں۔ وہ ہینری لارنس کے مشیران میں سے تھے اور انھوں نے انگریزی افواج کی سکھوں کے خلاف جنگ میں انتہائی اہم منطقی مشوروں سے برطانوی افواج کو کامیابیاں دلائیں۔ [2] جیمز ایبٹ ضلع ہزارہ کے پہلے ڈپٹی کمشنر بھی تعینات رہے جس کا دورانیہ 1849ء سے 1853ء تک ہے۔ بعد میں 1894ء میں انھیں برطانوی حکومت میں کلیدی عہدے کے سی بی پر تعینات کر دیا گیا۔[1]
لاہور میں ہوئے معایدے جو کہ سکھوں کے خلاف انگریزوں کی پہلی جنگ کے بعد طے پایا تھا، ہزارہ اور کشمیر کا علاقہ گلاب سنگھ کے حوالے کیا جاتا تھا، ہزارہ بہر حال تخت لاہور کے زیر اثر رہا اور جیمز ایبٹ نے اس کی حکومت کی باگ دوڑ سنبھال لی، اور صرف ایک سال کے عرصہ میں حکومت پر مکمل قبضہ کر لیا۔[3] پاکستان میں حالیہ صوبہ سرحد کے شہر ایبٹ آباد جو کہ ہزارہ ڈویژن کا صدر مقام ہے، کا نام بھی سر جیمز ایبٹ کے نام پر رکھا گیا ہے۔[2]
سر جیمز ایبٹ آگسٹس ایبٹ اور فریڈریک ایبٹ کے بھائی تھے، یہ دونوں حضرات بھی برطانوی افواج میں خدمات سرانجام دیتے رہے۔
سر جیمز ایبٹ کی میسر تصاویر میں سے بہترین اور واحد دستیاب تصویر ایک مصور بی۔ بلدیوان نے بنائی تھی۔ یہ تصویر اب بھی برطانیہ میں قومی پورٹریٹ گیلری میں آویزاں ہے جو کہ لندن میں واقع ہے، گو کہ یہ تصویر عام زائرین کے مشاہدے کے لیے دستیاب نہیں ہے۔ [4]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ 1.0 1.1 چیمبرز بائیوگرافیکل ڈکشنری، حوالہ: 0-550-18022-2، صفحہ :2
  2. ^ 2.0 2.1 ایسوبیل شا, پاکستان ہینڈ بک, ہانگ کانگ, لوکل کلر لمیٹیڈ, (1998ء) صفحہ: 519
  3. ^ ہزارہ بھارت : بریٹانیکا میں گیارہویں ایڈیشن کا آرٹیکل
  4. ^ قومی پورٹریٹ گیلری: سر جیمز ایبٹ

بیرونی روابط[ترمیم]