جی ایم سید

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
غلام مرتضی سید
جی۔ ایم۔ سید
تاریخ پیدائش: 17 جنوری 1904
جائےپیدائش: سن ، ضلعہ دادو
تاریخ وفات: 25 اپریل 1995
جا‎ئےوفات: کراچی
مدفن: سن


سائیں جی ایم سید قیام پاکستان کے ہیروز میں سے ایک ہیں ان کا تحریک آزادی میں ایک اہم قردار ہے انہی کی بدولت آج صوبہ سندھ پاکستان کا ایک حصہ ہے. وہ سائیں جی ایم سید ہی تھے جنہوں نے سندھ میں قرارداد پاکستان پیش کی اور اسے بھاری اکثریت سے پاس کروایا جس کی بدولت سندھ پاکستان کا ایک حصہ بنی.

جی۔ ایم سید (اصل نام: غلام مرتضی سید) آمد: 17 جنوری 1904 ، "سن" ضلع دادؤ، سندھ، پاکستان رخصت: 25 اپریل 1995 ، کراچی پاکستان سائیں جی ایم سید سندہ کے قوم پرست رھنما تو تھے مگر ان کی دلچسپیان صوفی ازم ، شاعری، تاریخ، اسلامی فلسفہ، نسلیات اور ثقافت میں بھی تھی۔ 1930 میں سندھ ہاری کمیٹی کی بنیاد دکھی۔ جس کی عنان بعد میں حیدر بخش جتوئی ہاتھوں میں آئی۔ ان کا تعلق سندہ کےصوفی بزرگ سید حیدر شاہ کاظمی کے خانوادوں میں تھا اور وہ ان کی درگاہ کے سجادہ نشین بھی رھے۔ سید صاحب ‘سند عوامی محاز‘ کے بانی بھی تھے۔ سائیں جی ایم سید قیام پاکستان کے ہیروز میں سے ایک ہیں ان کا تحریک آزادی میں ایک اہم قردار ہے انہی کی بدولت آج صوبہ سندھ پاکستان کا ایک حصہ ہے. وہ سائیں جی ایم سید ہی تھے جنہوں نے سندھ میں قرارداد پاکستان پیش کی اور اسے بھاری اکثریت سے پاس کروایا جس کی بدولت سندھ پاکستان کا ایک حصہ بنی۔ 1955 میں انھوں نے نیشنل عوامی پارٹی میں شمولیت اختیار کی پھر سندھی ادیب، استاد محمد ابرہیم جویو ( پیدائش 2 اگست 1915) کی مشاورت میں سندھی قوم پرستی کا نعرہ بلند کیا جو مارکسزم ، کبیر،گرونانک اور گاندھیائی فلسفہ حیات کا ملغوبہ تھا۔ 1966 میں بزم صوفی سندھ، 1969 میں سندھ یونائیڈڈ فرنٹ، اور 1972 میں جے سندھ محاز کی تشکیل اور انصرام میں اہم کردار ادا کیا۔ سائیں جی ایم سید نے ساٹھ (60) کتابیں لکھیں۔ "مذھب اور حقیقت" ان کی معرکتہ آرا کتاب ہے۔ ان کی زیادہ تر تصانیف سیاست، مذھب، صوفی ازم،سندھی قومیت اور ثقافت اور سندھی قوم پرستی کے موضوعات پر لکھی گی ہیں۔ 1971 میں سقوط مشرقی پاکستان کے بعد سید صاحب نے اس وقت کے وزیر اعظم زولفقار علی بھٹو سے " سندھو دیش" کا مطالبہ کیا تھا۔ سائیں جی ایک سید کی سیاست ان نکات کے گرد گھومتی تھی:

  • عدم تشدد
  • جمہوریت
  • سیکولرازم
  • قومی خود انحصاری اورخود مختاری
  • جنوبی ایشاہ کی قوموں کے ساتھ اشتراک اور یگانگت
  • معاشرتی اور اقتصادی مساوات
وہ " اسلامی جمہوریہ پاکستان" کے سخت مخالف تھے۔ تیس (30) سال پابند سلاسل رھے۔ 19 جنوری 1992 کو ان کو گرفتار کیا گیا اور ان کی موت تک ان کا گھر "زیلی جیل" قرار دے کر نظر بند کردیا گیا تھا۔

91 سال کی عمر میں جناح ہسپتال کراچی میں دنیا فانی سے رخصت ھوئے