جے ایف-17 تھنڈر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
جے ایف-17 تھنڈر
JF-17!.jpg
عمومی معلومات
قسم لڑاکا جہاز
بنانے والی کمپنی پاکستان ایروناٹیکل کمپلکس / چنڈنجو
استعمال کرنے والے ممالک پاکستان / چین
حالت تیار
قیمت 15-20 ملین ڈالر

جے ایف-17 تھنڈر (JF-17 Thunder) ایک لڑاکا طیارہ ہے، جو پاکستان اور چین نے مشترکہ طور پر بنایا ہے۔

جہاز کی پہلی تجرباتی پرواز 2003ء میں چین میں کی گئی جبکہ اس میں مزید بہتریاں لا کر 2006ء میں ایک اور مرتبہ اسے آسمانوں کی وسعتوں میں چھوڑ گیا۔ 12 مارچ 2007ء کو دو جہاز پاک فضائیہ کے حوالے کیے گئے تاکہ ان کی پرواز کے مزید تجربات کیے جا سکیں۔ ان جہازوں نے 11 روز بعد اسلام آباد میں پہلا فضائی مظاہرہ بھی کیا۔

پاکستان ایروناٹیکل کمپلیکس میں پیداوار کے آغاز کے بعد پہلی بار 23 نومبر 2009ء کو یہ طیارے پاک فضائیہ کے حوالے کیے گئے۔ پاک فضائیہ 2010ء کے اوائل میں جے ایف-17 جہازوں کے مکمل اسکواڈرن کے ساتھ کام کرے گی۔

بناوٹ[ترمیم]

ابتدائ بناوٹ کے لحاظ سے یه طیاره امریکی ساخته ایف-16کی نقل تھی. جس پر امریکا نے شور برپا کردیا که میرے طیارے کی نقل نهیں اتاری جاسکتی. [حوالہ درکار]
اس وجه سے طیارے کی دوسری شکل ایف-16 اور میراج لڑاکا طیروں سے قدرے مشترک هے.
اس پورے منصوبے کی قیمت 500 ملین ڈالر کے قریب ہے جبکہ ایک جہاز کی قیمت 15 سے 20 ملین ڈالر ہے۔ اسے پاکستان نے اس وقت بنانا شروع کیا جب امریکہ کی 1990 میں پاکستان سےتیس ایف-16 طیاروں کے پیسے هڑپ کرنے کے بعد پاکستان پر اسلحه کی خریدو فروخت پر پابندی تھی۔ پاکستان نے کہا ہے کہ وہ 150 جہاز خریدے گا لین یہ شاید بڑھ کر 300 جہاز بھی ہوسکتا ہے۔ پاکستان اور چین کے علاوہ دوسرے ممالک نے بھی اسے خریدنے کی کوشش کی ہے ان میں الجزائر، مصر، بنگلہ دیش، مراکش، نائجیریا، میانمار اور زمبابوے شامل ہیں۔

اسلحہ

جنگی آلات[ترمیم]

اس میں دو عدد کمپیوٹر نصب ہیں جو کہ اسکے ریڈار یا زمین سے موصول ہونے والی معلومات کو ہواباز تک پہنچاتے ہیں۔ پاک فضائیہ اطالوی ریڈار استعمال کرنا چاہتی تھی لیکن چین نے چند اہم وجوہات کی بنا پر اس کی جگہ چین کا بنایا گیا ریڈار نصب کرنے کا سوچا ہے کیونکہ وہ ریڈار چینی اسلحے کے ساتھ موزوں ہے۔ اس میں دو عدد میزائل سے خبردار کرنے والے یونٹ آگے کی طرف لگے ہیں اور ایک پیچھے کی طرف یہ 60 کلومیٹر دور تک کسی بھی آنے والے میزائل کا پتہ لگا سکتے ہیں۔

اسلحہ[ترمیم]

جے ایف-17 23 مارچ 2007ء کی پریڈ کے موقع پر اسلام آباد کی فضاؤں ميں

اس میں ایک 23 ملی میٹر کی مشین گن بھی نسب ہوتی ہے۔ یہ ہوائی جہازوں کے خلاف ایس ڈی-10 اور پی ایل-9 میزائل لے کر جا سکتا ہے۔ جے ایف-17 سمندری جہازوں کے خلاف ایکسوکٹ، سی-801 یا ہارپون میزائل بھی استعمال کر سکتا ہے۔ یہ جی پی ایس کی رہنمائی استعمال کرنے والے بم مثلا ایف ٹی، ایل ٹی اور ایل ایس بم بھی لے جاسکتا ہے۔

اگر اسے لیزر کی رہنمائی والے بم لے کر جانے ہوں تو اسے چین کا بنایا گیا ٹارگٹنگ پاڈ بھی لے جانا ہو گا۔

عام معلومات[ترمیم]

پیمائش[ترمیم]

زیر استمال[ترمیم]

Flag of Pakistan.svg پاکستان

پاک فضائیہ - 50 مجوزہ ممکنہ ضرورت 250۔ [1]

Flag of the People's Republic of China.svg چین

پیپلز لبریشن آرمی ایئر فورس

کارکردگی[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]