حافظ ابن حجر عسقلانی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

تعارف[ترمیم]

اگرقرون وسطیٰ میں محدثین کا ذِکر کیا جائے تو علامہ ابن حجرالعسقلانی کا نام علماء کی فہرست میں ضرور شامل کیا جائے گا، آپ کا عہد چودھویں صدی عیسوی کے نصفِ اول کے آخرسے لے کر پندرھویں صدی عیسوی کے نصفِ اول تک کا ہے۔ آپ شافعی المذہب فقیہہ تھے۔ آپ کو شیخ الاسلام اور حافظِ عصر کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ مصر میں پیدا ہوئے۔ علوم حدیث میں سند شمار ہوتے ہیں۔ نامور مورخ اور شافعی فقیہہ تھے۔ طلب علم کے سلسلے میں متعدد بار مصر ، شام ، حجاز اور یمن کا سفر کیا اور اس شوق کے باعث حافظ عصر کے لقب سے مشہور ہوئے۔نام:احمد. كنيت:ابوالفضل. لقب:شهاب الدين سلسله نسب:احمد بن على بن محمد بن علي بن احمد. ابن حجر مشهور هونی کی وجه یه هئ که اپ مشهور علمی خاندان آل حجر مین سئ تهئ .اس عظیم خاندان مین محدثین وفقهاکثیر تعداد مین پیدا هوئین.

ولادت اور نسب[ترمیم]

علامہ ابن حجر عسقلانی کی ولادت قاہرہ میں بدھ 12 شعبان 773ھ بمطابق 18 فروری 1372ء کو ہوئی، اُس وقت مصر میں مملوک سلطان الاشرف زین الدین ابو المعالی ابن شعبان کی حکومت کا دسواں سال تھا۔ آپ کے والدنور الدین علی شافعی المذہب کے عالم اور شاعر تھے۔ آپ مصر کئ قصبه 'عتیقه، مین پیدا هوئئ.اپ کی عمرچارسال تهی که اپ کئ والدشیخ نورالدین علی وفات هوگئئ.آپ کی کفالت شیخ زکی خرنوبی نئ فرمائی.آپ کئ والد کی اولاد بچپن مین وفات هوتی تهی.چنانچه اپ کئ والد شیخ صناقبری کی خدمت مین گئئ. اس نئ دعا دی که تیری پشت سئ ایسا بچه پیدا کرئ گا جو پوری دنیا کو علم ومعرفت سئ مالامال کرئ گا.شاه عبدالعزیز محدث دهلوی رحمته الله فرماتئ هین که ابن حجر کی تصانیف کی اتنی شهرت ومقبولیت شیخ صناقبری کی دعا کا نتیجه هئ.

تعلیم اور سفر[ترمیم]

بچپن میں ہی آپ کے والدین انتقال کر گئے تھے۔ آپ اور آپ کی بہن ست الرکب والدین کے انتقال کے بعد زکی الدین الخاروبی کی سرپرستی میں چلے گئے۔ 778ھ میں 5 سال کی عمر میں آپ کو زکی الدین الخاروبی نے قرآنی علوم کے واسطے مدرسہ میں داخل کروایا۔ کم عمری میں ہی آپ کا حافظہ اِس قدر قوی تھا کہ ایک ہی روز میں تمام سورہ مریم حفظ کرلی تھی۔اس دوران آپ نے ابن حاجب کا فقہ بھی پڑھا۔ 785ھ میں 12 سال کی عمر میں زکی الدین الخاروبی کے ساتھ عازمِ مکہ ہوئے اور رمضان 785ھ میں حرمِ کعبہ میں نمازِتراویح پڑھائی۔ 788ھ یعنی1386ء میں سرپرست زکی الدین الخاروبی کی وفات کے بعد آپ دوبارہ مصر لوٹ آئے۔ حدیث کے واسطے مصری محدث شمس الدین ابن القطان کے سامنے زانوئے تلمذ ہوئے، جہاں آپ نے علامہ بلقینی (متوفی806ھ)، ابن الملاقین (متوفی804ھ) کا فقہ پڑھا اور حدیث میں علامہ حافظُ العراقی عبد الرحیم بن حسين بن عبد الرحمن العراقي المصري (متوفی805ھ) سے استفادہ حاصل کیا۔ بعد ازاں آپ نے مکہ المکرمہ، مدینۃ المنورۃ، یمن،دمشق اور یروشلم کا سفر اختیار کیا ۔

ازدواجی زندگی[ترمیم]

799 ھ یعنی 1397ء میں آپ نے 26 سال کی عمر میں انس خاتون سے نکاح کرلیا۔ انس خاتون بھی حدیث کی عالمہ تھیں اور اُنہیں علامہ حافظُ العراقی عبد الرحیم بن حسين بن عبد الرحمن العراقي المصري سے حدیث روایت کرنے کی اجازت تھی۔ انس خاتون عوامی طور پر بھی حدیث کا درس دیا کرتی تھیں جن میں کئی علماء شریک ہوا کرتے تھے، امام شمس الدين محمد بن عبدالرحمن السخاوي (متوفی 902ھ)بھی انس خاتون سے حدیث کا درس لینے والوں میں سے ایک تھے۔

قاضی مصر[ترمیم]

آپ کا زمانہ برجی مملوک سلاطین کا زمانہ تھا۔علامہ ابن حجر العسقلانی کو کئی بار سلاطین مصر کی جانب سے قاضی مصر کے عہدہ پر فائز کیا گیا۔

وفات[ترمیم]

آپ نے79 سال 3 ماہ 26 یوم کی عمر میں اتوار 8 ذوالحجہ 852ھ بمطابق 2 فروری 1449ء کو بعد نمازِ عشاء انتقال کیا۔ اُس وقت مصر پر سلاطین برجی مملوک کی حکومت تھی۔نمازِ جنازہ قاہرہ میں ادا کیا گیا جِس میں پچاس ہزار افراد شریک ہوئے۔ نمازِ جنازہ میںبرجی مملوک سلطانِ مصر الظاہر سیف الدین جقمق بھی موجود تھے۔علامه سخاوی کا بیان هئ که مین نئ اتنا برا جنازه کسی کا نهین دیکها .نماز جنازه علامه بلقینی رحمته الله علیه نئ پرهائی.

تدفین[ترمیم]

مصر کئ مشهور قبرستان الصغری مین علامه ویلی کی قبر کئ سامنئ اور امام شافعی وشیخ مسلم رحمته الله علیه اجمعین کی قبرون کئ درمیان عمل مین آئی.

تصانیف[ترمیم]

ان کی کتابوں کی تعداد 150 سے اوپر بتائی جاتی ہے۔ مشہور کتابیں درج ذیل ہیں۔

  • الاصابہ فی تمييز الصحابہ : اصحاب رسول کے متعلق ایک جامع انسائیکلوپیڈیا ہے جو اب اُردو میں بھی شائع ہوچکا ہے۔
  • فتح الباری شرح صحیح البخاری  : علامہ ابن حجر عسقلانی یہ عظیم تصنیف ایک شاہکار سمجھی جاتی ہے، یہ تصنیف رجب842ھ مطابق دسمبر1428ء میں مکمل ہوئی۔ فتح الباری کے مکمل ہونے پر قاہرہ کے نزدیک ایک مقام پر ایک تقریب منعقد ہوئی تھی جِس کے متعلق مورخ ابن عیاص(متوفی930ھ) کا کہنا ہے کہ مصر کی تاریخ میں یہ عظیم تر تقریب تھی۔ یہ کتاب عقائد، فقہ، اور حدیث کا شاہکار ہے۔
  • تهذيب التهذيب : یہ کتاب عربی میں دائرۃ المعارف حیدرآباد دَکن ہندوستان سے 1335ھ میں شائع ہوئی تھی۔ اکمال فی اسماءُ الرِجال کے نام سے مشہور ہے۔ جس میں احادیث بیان کرنے والے تقریبا تمام راویوں کے حالات مروی ہیں جس سے کسی حدیث پیش کرنے والے کے حال کا پتہ چلتا ہےکہ آیا وہ ضعیف راوی ہے یا معروف الحال ۔ یہ احادیث نبوی کا انسائیکلوپیڈیا ہے جِسےيوسف بن عبدالرحمن المزی (متوفی742ھ) نے علامہ ابن حجر عسقلانی سے روایت کیا ہے۔
  • الدُر الکامنہ : یہ تصنیف آٹھویں صدی ہجری کی نامور شخصیات کی سوانحی لغت ہے۔
  • التقر يب التهذيب  : یہ تصنیف تھذیب التھذیب کا خلاصہ ہے۔
  • المطالب العالیہ بزوائد المسانید الثمانیہ
  • بلوغ المرام من ادلۃ الاحكام : بلوغ المرام اصل میں 1358 احادیثِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مجموعہ ہے، یہ اھادیث صحاح ستہ اور مُسند احمد بن حنبل سے روایت کی گئی ہیں۔ 1996ء میں دارالسلام پبلیکیشنز نے اِس کتاب کا انگریزی ترجمہ شائع کیاتھا۔ الحسین ابن محمد المغربی نے اِس کی شرح اَلبدر التمام کے نام سے لکھی اور محمد ابن اسمٰعیل الامیر السنائی نے سُبل السلام کے نام سے شرح لکھی۔