حامد رضا گیلانی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
حامد رضا گیلانی

پیدائش: 1935

انتقال:24 جنوری 2004ء

پاکستان کے ممتاز سیاستدان۔ ملتان میں پیدا ہوئے۔انھوں نے لاہور کے ایچی سن کالج سے تعلیم حاصل کی۔ ان کی سیاست روایتی جاگیر دارانہ سیاست رہی اور پنجاب کے بڑے سیاسی گھرانوں سے ان کے ذاتی مراسم رہے۔حامد رضا گیلانی انیس سو باسٹھ میں پہلی بار قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوۓ اور پارلیمانی سیکرٹری بنے۔ انیس سو پینسٹھ میں وہ کنوینشن مسلم لیگ کے ٹکٹ پر دوبارہ رکن قومی اسمبلی بنے اور صدر ایوب خان نے انھیں دوبارہ پارلیمانی سیکرٹری بنایا۔

حامد رضا کو اس وقت انھیں ذوالفقار علی بھٹو کے قریبی دوستوں میں سمجھا جاتا تھا۔ انھوں نے غلام مصطفے کھر کو ذوالفقار علی بھٹو سے متعارف کرایا جو بعد میں پنجاب کے ایک اہم رہنما بن کر ابھرے۔

جب ذوالفقار علی بھٹو ایوب خان سے الگ ہوۓ تو حامد رضا گیلانی کنوینشن مسلم لیگ میں ہی شامل رہے تاکہ ملتان میں ان کا حریف قریشی گروپ حکومت سے مل کر ان کی پوزیشن کو کمزورنہ کرسکے۔ تاہم ایوب خان کے آخری دنوں میں وہ ملک سے باہر چلے گۓ تھے کیونکہ ان کے بارے میں خیال تھا کہ وہ خفیہ طو پر بھٹو کے ساتھ ہیں۔

گیلانی خاندان کے سربراہ اور اپنے بڑے بھائی سید علمدار گیلانی، جن کے بیٹے یوسف رضا گیلانی پیپلز پارٹی کے نائب صدر ہیں، کی مخالفت کی وجہ سے حامد رضا گیلانی پیپلز پارٹی میں شامل نہیں ہوۓ۔ انیس سو ستر کے انتخاب میں انھیں مسلم لیگ (قیوم گروپ) کے ٹکٹ پر شکست ہوئی۔

جب ذوالفقار علی بھٹو نے اقتدار سنبھالا تو حامد رضا گیلانی کچھ عرصہ پس منظر میں رہنے کے بعد انہیں کینیا میں پاکستان کا سفیر مقرر کردیا گیا جہاں وہ انیس سو چھہتر تک رہے۔ قومی اسمبلی کے لیے انیس سو ستتر کا انتخاب انھوں نے پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر جیتا اور چند ماہ وفاقی وزیر رہے۔

انیس سو پچاسی کے غیرجماعتی انتخاب میں بھی وہ کامیاب ہوۓ لیکن بعد میں انیس سو اسی کے انتخابات میں کامیابی حاصل نہ کرسکے۔ تاہم انیس سو نوے میں انھیں مسلم لیگ کی ٹکٹ پر سینیٹر منتخب کرلیا گیا۔لاہور میں ان کا انتقال ہوا اور اپنے آبائی شہر ملتان میں سپرد خاک ہوئے۔