حامد کرزئی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
حامد کرزئی

پیدائش: 24 دسمبر 1957ء

افغانستان کے موجودہ صدر۔


قندھار کے کرز نامی ایک گاؤں سے تعلق رکھنے والے چھیالیس سالہ حامد کرزئی کا تعلق پشتون قبیلے پوپلزئی سے ہے۔ انکے والد عبدالاحد کرزئی ظاہرشاہ کے عہد میں ایک اہم سیاسی شخصیت رہ چکے ہیں۔ وہ دو مرتبہ پارلیمنٹ کے رکن اور ایک مرتبہ اسپیکر بھی چنے گئے ۔ ان کا خاندان 1982 میں افغانستان میں حالات کی خرابی کے باعث کوئٹہ منتقل ہوگیا۔حامد کے والد کو دو سال پہلے نامعلوم مسلح افراد نے اس وقت قتل کر دیا جب وہ قریبی مسجد سے نماز پڑھ کر گھر واپس آرہے تھے۔ ان کا قتل بھی افغانستان کے اعتدال پسند سابق سیاستدانوں کی پاکستان میں ہلاکتوں کے سلسلے کی ایک کڑی سمجھا جاتا ہے۔

تحصیل علم[ترمیم]

حامد کرزئی نے ابتدائی تعلیم کابل کے ایک اسکول میں مکمل کی اور اس کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لئے بھارت چلے گئے۔ہیں۔ان کی تعلیم ہندوستان کی شمالی ریاست ہماچل پردیش میں اور اس کے بعد امریکہ میں ہوئی۔ انہیں اپنی مادری زبان پشتو کے علاوہ انگریزی اور دری زبانوں پر بھی عبور حاصل ہے۔


سیاسی زندگی[ترمیم]

حامد کرزئی نے 1982 میں افغانستان لبریشن فرنٹ کے ڈائریکٹر آپریشنز کی حیثیت سے افغان جہاد میں حصہ لیا۔ انہیں پہلا سرکاری عہدہ پروفیسر صبغت اللہ مجددی کی سربراہی میں بننے والی عبوری حکومت میں بطور ڈائریکٹر جنرل تعلقات خارجہ ملا۔ مجاہدین دور حکومت میں وہ 1992 سے 1994 تک افغانستان کے نائب وزیر خارجہ رہے۔ انہوں نے طالبان اسلامی تحریک کی ابتدا میں امن کی بحالی اور افراتفری کے خاتمے کی وجہ سے حمایت کی لیکن بعد میں اس کے سخت گیر موقف کی وجہ سے اس سے الگ ہو گئے۔ بعد انہوں نے ڈٹ کر طالبان کی مخالفت کی اور کہا کہ وہ لوگ افغان مرد اور عورتوں کو اپنی گولیاں کا نشانہ بناکر نشانہ بازی کی مشق کرتے ہیں۔ دو برس پہلے جب ان کے والد کو قتل کر دیا گیا تو شک کی انگلی طالبان کی جانب اٹھائی گئی۔

امریکہ کا حملہ[ترمیم]

امریکہ نے جب افغانستان میں فوجی کارروائی شرورع کی، اس وقت وہ پاکستان میں جلا وطنی کی زندگی گزار رہے تھے۔ انہوں نے طالبان کے خلاف مختلف دھڑوں کو متحد کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اور انہی خدمات کے صلے میں حامد کرزئی کو کابل پر امریکی قبضے کے بعد انہیں امریکی پٹھو حکومت کا سربراہ مقرر کیا گیا۔ کئ سال تک وہ یہ خدمات سرانجام دیتے رہا۔


2004 کےانتخابات[ترمیم]

اکتوبر سن 2004 میں ہونے والے انتخابات میں اپنے حریف یونس قانونی کے مقابلے میں کامیابی حاصل کی اور افغانستان کے پہلے باقاعدہ منتخب صدر کی حیثیت سے حلف اٹھایا۔ حامد کرزئی کاشمار دنیا کے کمزور ترین سربراہ مملکت میں ہوتا ہے ان کی گورنمنٹ کی رٹ صرف دارلحکومت تک محدود ہے۔


پاکستان سے تعلقات[ترمیم]

حامد کرزئی کی حکومت کے تعلقات پاکستان کے ساتھ ہمیشہ سے کشیدہ رہے ۔ وہ پاکستان کو افغانستان کی خراب صورت حال کا ذمہ دار سمجھتے ہیں۔ ان کے خیال میں پاکستان ہی طالبان کی پشت پنائی کر رہا ہے۔ لیکن پاکستان اس بات کی ہمیشہ سے تردید کرتا چلا آیا ہے۔ ان غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لیے کئی دفعہ اعلی سطح کی ملاقاتیں بھی ہوئیں لیکن اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ پاکستانی حکومت کا الزام ہے کہ جو شخص صرف دارلحکومت کو کنٹرول کر سکتا ہو اور ایک کٹھ پتلی صدر ہو وہ اپنی کمزریاں چھپانے کے لیے پاکستان پر الزام نہیں لگائے گا تو اور کس پر لگائے گا۔