حبالہ محیط عالم (مقالہ ثانی)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
Gnome-devel.svg اس مضمون / موضوع / اصطلاح کا نام گفت و شنید سے ہونے والی اتفاقِ رائے کے بعد پرانے نام ---- حبالہ محیط عالم ---- سے تبدیل کردیا گیا ہے۔ اگر آپ کو دائرۃ المعارف کے کسی بھی صفحے پر اس کے لئے کوئی دیگر اصطلاح یا اس کا پرانا نام نظر آئے تو براۂ کرم اسے درست کرکے اس صفحے کے عنوان کی عبارت سے مماثل کر دیجئے۔
Robert Cailliau کا بنایا ہوا WWW کا تاریخی شارہ (لوگو)۔


جال محیطِ عالم ، ایک عالمی (مشینی یا آلاتی) جگہ یا فضاء ہے کہ جو قراء و تحریر (پڑھنے اور لکھنے) کے لیۓ استعمال کی جاتی ہے۔ اسکے انگریزی متبادل کو world wide web کہا جاتا ہے۔

  • اردو اور انگریزی نام میں موجود الفاظ کے متبادلات یوں ہیں۔
  • جال = web ، محیط = wide ، عالم = world
  • اردو اوائل کلمات = جمع
  • انگریزی اوائل کلمات = www
  • چینی نام : وان وئی وانگ = دس ہزار جہتی جال

جمع کو دستاویزات ، تصاویر و عکس ، کثیرالوسیط (multimedia) اور دیگر کئی اقسام کی معلومات کی نمائش کے لیۓ استعمال کیا جاتا ہے جنکو مجموعی طور پر زرائع (resources) کہا جاتا ہے۔ زرائع کی ان تمام اقسام کو ویب پر مقرر کردہ مخصوص اور مختصر عالمی شناختگروں کے زریعے شناخت کیا جاتا ہے ، ان شناختگروں کو یکساں وسیلی شناختگر یا Uniform Resource Identifiers (مخصراً URI) کہا جاتا ہے ۔ ان URI کے زریعے معلومات کی تلاش ، ان تک رسائی اور انکے متقاطع حوالہ جات (cross-referenced) میں آسانی ہوجاتی ہے۔

اکثر رابط کو شبکہ (انٹرنیٹ) کا مترادف سمجھ لیا جاتا ہے لیکن رابط دراصل شبکہ پر موجود معلومات کا ایک وسیلہ یا وسیط ہے جو کہ شبکہ کی فضاء میں دستیاب ہے ایسے ہی جیسے برقی برید (ای میل یا برقی مراسلہ) ۔ شبکہ اور رابط کے افتراق کے بارے میں مزید معلومات کے لیۓ شبکہ تاریک نامی صفحہ مخصوص ہے۔

بنیادی اصطلاحات[ترمیم]

رابط (ویب) کا تصور ، چار بنیادی طرزافکار کے اشتراک کا نتیجہ ہے۔

  1. وراۓ متن : یہ دراصل معلومات کی ایسی شکلبندی (formating) ہوتی ہے کہ جو شمارندہ کے زریعے کسی بھی دستاویز (ڈاکیومنٹ) کے ایک حصے سے دوسرے حصے یا ایک دستاویز سے کسی دوسری دستاویز تک رسائی کو شبکہ کے بندھن استعمال کرتے ہوۓ ممکن بنا دیتی ہے، ان بندھنوں کو ورائی ربط (hyperlinks) کہا جاتا ہے۔ [1]
  2. وسیلی شناختگر : ایسے مخصوص شناختگر (identifers) جو کسی خاص وسیلے (resource) مثلا کمپیوٹرفائل یا دستاویز وغیرہ کا شبکہ پر محل وقوع متعین کرنے کے لیۓ استعمال ہوتے ہیں۔ [2]
  3. عمیل و معیل نمونہ : ایک ایسا نظام ہے کہ جس میں عمیل مصنع لطیف (client software) یا عمیل شمارندہ (client computer) ، معلومات حاصل کرنے کے لیۓ شبکہ پر فریاد طلب کی صدا بلند کرتا ہے جسکو سنتے ہوۓ معیل مصنع لطیف (server software) یا معیل شمارندہ (server computer)، اسکو طلب کی گئی معلومات (ڈیٹا اور فائل کی صورت میں) مہیا کردیتا ہے۔ client-server کو عام اور سادہ الفاظ میں وصول کنندہ-ارسال کنندہ بھی کہ سکتے ہیں۔
  4. زبان تدوین : اصل متن کے ساتھ ساتھ مخفی نشانات اور حروف کے رمز (code) پر مشتمل ایک شمارندی زبان (کمپیوٹر لینگویج) ہے جو کہ متن کی اس حالت کا تعین کرتی ہے کہ جس میں وہ نمائش پر نظر آتا ہے۔

رابط پر ایک عمیل برنامہ (کلائینٹ پروگرام) جسکو متصفح رابط (ویب براؤزر) کہا جاتا ہے ، معلوماتی وسیلوں مثلا ویب صفحات اور کمپیوٹرفائلوں کو ویب سرور سے حاصل کرتا ہے۔ اور اس مقصد کی غرض سے رابط متصفح ان وسیلوں (جن کو وہ وصول کرنا چاہتا ہو) کے یکساں وسیلی تعینگر (URL) کی مدد لیتا ہے ، اور ان معلومات کو حاصل کرنے کے بعد وہ انکو کمپیوٹر کے مانیٹر پر پیش کردیتا ہے۔ جب ایک بار یہ معلومات شمارندہ کے مانیٹر پر آجائیں تو پھر وراۓ متن کی مدد سے اسی سے متعلق دیگر وسیلوں یا معلومات تک بھی پہنچا جا سکتا ہے جو رابط محیط عالم پر ہی موجود ہوں۔

اسکے ساتھ ساتھ یہ بھی ممکن ہے کہ ایک ورائی ربط یا ہائپر لنک کے ذریعے کسی ورقہ (form) تک رسائی حاصل کر کے اسکو کمپیوٹر پر ہی بھر کر داخل بھی کردیا جاۓ اور / یا کوئی معلومات واپس معیل کو برید (ارسال) کردی جائیں جو انکو یا تو محفوظ رکھ لے یا پھر اس پر مزید تجزیاتی عمل کرلے۔ ایک ورائی ربط یعنی ہائپرلنک کے ذریعے شبکہ کے صفحات پر یوں سفر کرنے کے عمل کو رابط کا تصفح (براؤزنگ) کرنا یا اسکی موجوں پہ سفر (سرفنگ) کرنا کہا جاتا ہے۔ رابط صفحات یا ویب پیجز کو عموما اس طرح ترتیب دیا جاتا ہے کہ مطالقہ صفحات ایک مجمع کی صورت میں پاۓ جاتے ہیں جنکو ایک وقوع رابط (ویب سائٹ) کہا جاتا ہے۔

معروف کلمہ بندی یا عبارت ، شبکہ کی موجوں پہ (surfing the internet) کی پہلی بار طباعتی مواد میں مشہوری جین آرمور نامی ایک امین کتبخانہ کی وجہ سے ہوئی، جس نے اسی نام سے مقالہ شائع کیا جو 1992 میں کتبخانہ ولسن سے جاری ہوا۔ یہ خیال ہے کہ ہوسکتا ہے کہ جین آرمور نے یہ کلمہ بندی بلا کسی پسمنظر کے بذات خود کی ہو لیکن اس سے ماضی قریب ہی میں ملتی جلتی اصطلاحات یوزنیٹ پر 1991 تا 1992 سامنے آچکی تھیں۔ یہ تذکرے بھی زباں زد عام ہوۓ ہیں کہ چند سال قبل ہی ساطور برادری اسی قسم کے ملتے جلتے الفاظ استعمال کررہی تھی۔ ہاں یہ بھی حقیقت ہے کہ جین تاریخ شبکہ میں ام الشبکہ (NetMom) کے نام سے مشہور ہے کہ اس نے اسی نام کا ایک وقوع رابط (ویب سائٹ) کا اجراء بھی کیا۔

گو کہ اردو میں ویب کا لفظی متبادل جال یا تارعنکبوت ہے لیکن لفظ جال کی عدم ہمسازی اور تارعنکبوت کی عدم سادگی کے باعث یہ دونوں الفاظ ویب کے اردو ترجمے کے لیۓ موزوں نہیں ، لہذا اردو میں ویب کے لیے لفظی متبادل کی تلاش لاحاصل رہنے کے بعد مفہومی متبادل ، رابط ، اختیار کیا گیا جو کہ اب اردو میں ویب کے اردو متبادل کے طور پر رائج ہوچکا ہے۔ جیسا کے جال یا ویب کا مفہوم ہے کہ یہ تمام اطراف پھیلا ہوا ہوتا ہے یعنی باالفاظ دیگر ہر طرف رابطے میں ہوتا ہے اسی طرح رابط کا لفظ بھی اسی مفہوم کی ترجمانی کرتا ہے۔ یہاں اس بات کی یادآوری لازم ہے کہ لفظ رابط اور لفظ ربط دونوں علم شمارندہ میں بالکل الگ الگ مفہوم رکھتے ہیں اور ان میں کسی بھی قسم کا کوئی براہ راست تعلق نہیں ، رابط برائے ویب اور ربط برائے لنک استعمال ہوتا ہے۔

رابط (ویب) کیسے کام کرتا ہے[ترمیم]

جب کوئی ناظر رابط محیط عالم پر موجود ایک صفحہ رابط (ویب پیج) یا کسی اور وسیلے (رسورس) تک رسائی چاہتا ہے تو عموما وہ اس وقوع رابط (ویب سائٹ) کا یکساں وسیلی تعینگر (URL) اپنے متصفح رابط (ویب براؤزر) میں لکھ کر ابتداء کرتا ہے، یا پھر ایسا بھی ممکن ہے کہ وہ ایک وراۓ متن (ہائپر ٹیکسٹ) کے ربط سے اس صفحہ تک رسائی حاصل کرلے۔ اس تمام کارگذاری کے پس پشت بنیادی کام جو انجام دیا جارہا ہوتا ہے وہ ہے ، یوآرایل کے اسم معیل (server-name) والے حصے کا عالمی طور پر پھیلے شبکہ کے اساس مواد (ڈاٹا بیس) کی مدد سے ایک دستور شبکی پتا (IP address) میں تعین کرنا۔ شبکہ کی اس اساس مواد کو نظام اسم میدان (DNS) کہا جاتا ہے۔

شبکی دستوری پتے کے تعین کے بعد دوسرا مرحلہ رابط معیل (ویب سرور) کو وراۓ متن انتقالی دستور کے لیۓ ایک درخواست بھیجنے کا آتا ہے، یہ درخواست مطلوب صفحہ کے لیۓ دی جاتی ہے۔ ایک مثالی رابط صفحے کی صورت میں درخواست کی جانے والی درکار معلومات میں وراۓمتن زبان تدوین کی شکل بندی (فارمیٹنگ) میں صفحہ کا متن، نگاریت (گرافکس) اور دیگر وہ تمام معلومات شامل ہوتی ہیں جو کہ اس صفحہ کو بنارہی ہوں، اس درخواست کے بعد یہ تمام مواد سرعت کے ساتھ ، عمیل (کلائینٹ) کے رابط متصفح (ویب براؤزر) کی جانب منتقل کردیا جاتا ہے اور یوں مطلوبہ صفحہ ذاتی شمارندہ پر آجاتا ہے۔

اب اس کے بعد سے رابط متصفح کا کردار اہم ہو جاتا ہے اب اسکا کام یہ ہوتا ہے کہ HTML اور شَلاّلی ورق اسلوب (CSS) اور دیگر شکلبندیوں (فارمیٹس) مثلا عکس ، روابط (لنکس) وغیرہ کی صورت میں وصول ہونے والے ملفات (فائلوں) کی اس طرح جھزیابی (rendering) کرے کہ وہ روۓ پردہ (آن اسکرین) ناظر کو صفحہ رابط کی صورت میں نظر آسکیں۔ مختلف معلوماتی وسیلوں کی اس ہ فراوانی کو ہی جن پر یکے بعد دیگرے ورائی روابط (ہائپر لنکس) کی مدد سے چھلانگیں لگائی جاسکتی ہیں ، رابط (ویب) کہا جاتا ہے۔ اور شبکہ پر اسکو قابل دسترس بنادینے کے بعد ہی وہ انقلابی اور عالمی اصطلاح وجود میں آئی جسکو ٹم بیرنیر لی سے 1990 میں سب سے پہلے ----- رابط محیط عالم (world wide web) کا نام دیا۔

ابطن گری[ترمیم]

اگر ایک صارف کس رابط صفحہ (ویب پیج) پر دوبارہ واپس آتا ہے تو زیادہ امکان اسی بات کا ہوتا ہے کہ معیل (سرور) سے اوپر بیان کردہ طریقہ کار کے مطابق ایک مرتبہ پھر نۓ سرے سے مواد وصول کرنے کی ضرورت نہیں پڑے۔ ایسا اس وجہ سے ممکن ہے کہ معینشد (ڈیفالٹ) طور پر متصفح (براؤزر) میں تمام موصول شدہ وسائل کو اپنی محلی قرص (لوکل ڈسک) میں ابطن (cache) کرلینے کی صلاحیت موجود ہوتی ہے۔ صرف یہ ہوگا کہ متصفح کی جانب سے ایک HTTP درخواست یہ پوچھنے کے لیۓ روانہ کی جاۓ گی کہ آیا اس صفحہ میں آخری بار زیراثقال (download) کرنے کے بعد سے اب تک کوئی تجدید (آپ ڈیٹنگ) ہوئی ہے کہ نہیں ؟ اگر جواب نفی میں آۓ تو پھر ابطن شدہ (cached) نسخہ ہی جھزیابی کے لیۓ دوبارہ استعمال کرلیاجاۓ گا۔ ابطنگری کا یہ طریقہ کار شبکہ کی راہوں پہ رابط کا ہجوم رفت و آمد کم سے کم کرنے میں انتہائی مفید ثابت ہوتا ہے۔

معلومات کی انقضاء (expiry) کا فیصلہ آزادانہ طور پر مختلف وسیلوں (عکس ، ورق اسلوب، جاوا کتابت، اور ومزت وغیرہ) کی شکلبندی (فارمیٹنگ) کے لیۓ مختلف ہوتا ہے۔ اور انتہائی محرک اور کثیرپہلو (dynamic) وقوع رابط بھی اکثر بنیادی وسیلے ، ایک نشست کے لیۓ ایک ہی بار مہیا یا ارسال کرتے ہیں۔ لہذا یہ ایک ذہن نشین کرلینے والی بات ہے کہ کوئی بھی وقوعی طرح کار (site designer) تمام CSS اور جاوا کو وقوعے (سائٹ) کا احاطہ کرتی ہوئی (side wide) چند ملف (فائلیں) میں مجتمع کردے تا کہ انکو صارف کے ابطن میں زیراثقال کر کے رکھ لیا جاۓ اس طرح اس وقوعے (سائٹ) کو دیکھنے کے لیۓ زیراثقال (ڈاؤن لوڈ) وقت کم ہو جاۓ گا اور معیل پر بوجھ بھی۔

رابط (ویب) کے جزیات کو ابطن کرنے کے لیۓ متصفح کے علاوہ بھی شبکہ کے کچھ حصے استعمال کیے جاسکتے ہیں ۔ اسکی ایک مثال اداروں وغیرہ کی سطح پر دیوارآتش (firewall) ہے کہ جسمیں کسی بھی ایک صارف کے استعمال کرنے کے بعد رابط کے مواد کو تمام صارفین کے لیۓ ابطن کرا جاسکتا ہے۔

معیل رابط (ویب سرور) میں ایسی سہولیات ہوتی ہیں کہ جن سے اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ کونسے صفحے کی کب تجدید (آپ ڈیٹنگ) کی گئی ۔ اسکے علاوہ کسی کثیر الجہتی وقوع رابط کے طرح کار (ڈیزائنر) کے لیۓ بھی یہ ممکن ہے کہ وہ معیل کی جانب بھیجے جانے والے HTTP کے راس یا سروں کو اپنی مرضی کے مطابق قابو کرسکے اور اس طرح جب ابطن درکار نہ ہو (مثلا اخبار اور تجارتی اتار چڑھاؤ کے صفحات) تو مواد کو ابطن ہونے سے بچایا جاسکتا ہے تاکہ ہر بار صفحے پر آنے سے تازہ ترین مواد ہی شمارندہ پر نظر آۓ۔

آغاز و بنیاد[ترمیم]

یہ وہ NeXTcube ہے جو ٹـم برنرس لی نے یورپی تنظیم برائے مرکزی تحقیق (CERN) میں استعمال کیا اور دنیا کا پہلا پہلا متصفح رابط بنا۔

ایک رابط (ویب) کے لیۓ دبی دبی خواہشوں اور خابوں کے اشارے 1980 کی دہائی سے ہی مل رہے تھے، جب ایک انگلستانی Tim Berners-Lee نے ایک ابتدائی شکل کا منصوبہ ENQUIRE کے نام سے بنایا جو کہ بعد میں رابط (ویب) کی بنیاد بنا ۔ اس نے یہ نام 1856 میں شائع ہونے والی ایک کتاب بنام Enquire Within Upon Everything (اردو: جوچاہیں سو اس میں دیکھیں) سے متاثر ہوکر رکھا گو کہ ٹـم کا یہ ابتدائی نمونہ اس رابط سے بہت مختلف تھا جو کہ آج استعمال میں ہے مگر اس کے باوجود اس میں بنیادی طور پر وہ تصورات شامل تھے جو کہ آج رابط (ویب) اور رابط کے بعد ٹـم کے ایک اور منصوبہ رابط معنائی (Semantic web) میں بھی نظر آتے ہیں۔

مارچ 1989 کو ٹـم نے انتظامیہ معلومات: کو ایک تجویزی چٹھی روانہ کی جس میں ENQUIRE کا حوالہ دیا اور اسکے زریعۓ ایک جامع اور مفصل تنظیم معلومات کے نظام کا خاکہ پیش کیا۔ اسکے بعد 12 نومبر 1990 کو اس نے Robert Cailliau کی معاونت سے ایک مرتبہ پھر رابط محیط عالم کی رسمی تجویز کو شائع کیا۔ اور NeXTcube کو دنیا کے اولین معیل رابط (web server) کے طور پر ، اور دنیا کا پہلا متصفح رابط (ویب براؤزر) تحریر کرنے کے لیۓ استعمال کیا گیا۔

1990 کے عید میلاد المسیح (Christmas) تک، ٹــم نے وہ تمام ضروری آلات تیار کرلیۓ تھے کہ جو ایک رابط کو فعال کرنے کے لیۓ درکار ہوں، [1] : دنیا کا پہلا متصفح رابط (جو کہ ساتھ ہی محرر رابط بھی تھا)، پہلا معیل رابط اور پہلا صفحہ رابط جو کہ منصوبہ کی تفصیل کے بارے میں تھا۔

6 اگست 1991 کو اس نے ایک خلاصہ رابط محیط عالم کے بارے میں ، alt.hypertext مجلس احداث کو ارسال کیا اور اسی تاریخ کو انٹرنیٹ (شبکہ) پر ویب (رابط) کی عوامی دستیابی کے آغاز کی علامتی تاریخ کا درجہ ملا۔ ویب کے پس پشت وراۓ متن کا کلیدی نظریہ ، ماضی میں 1960 کی دہائی کے Project Xanadu اور oN-Line System کی بنیادوں پر قائم ہوا۔ ان دونوں نظریات کے تخلیق کار بالترتیب ، Ted Nelson اور ڈاوگ انجلبارٹ تھے اور ان دونوں نے وین ایور بش کے مائکروفلم کی بنیاد پر قائم memex سے راہنمائی حاصل کی، memex کے بارے میں بــش نے اپنا مـقـالـہ 1945 میں As We May Think (ترجمہ: جو ہم تصور کرسکیں) کے نام سے ایک ماہنامہ میں شائع کیا۔

ٹــم کی اس شاندار کامیابی کی سب سے اہم ترین وجہ ، وراۓمتن اور شبکہ کا اشتراک یا ازدواج کو کہا جاتا ہے۔ اپنی کتاب ، Weaving The Web میں ٹــم کے مطابق ، اس نے متعدد بار اس بات کے اشارے اور مشورے دیۓ کے ان دونوں طرزیات ، (یعنی وراۓمتن اور شبکہ) کا ازدواج ممکن ہے، مگر جب کسی کے کان پر جوں نہ رینگی تو اس نے خود ہی اس کام کا بیڑا اٹھایا اور ویب یا انٹرنیٹ کی دیگر جگہوں پر موجود وسیلوں کے لیۓ ایک عالمی طور پر منفرد اور یگانہ شناختگروں (identifiers) کا نظام تخلیق کردیا؛ یعنی یکساں وسیلی شناختگر (Uniform Resource Identifier)۔


حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ Bolter, Jay David (2001). Writing Space: Computers, Hypertext, and the Remediation of Print. New Jersey: Lawrence Erlbaum Associates. ISBN 0-8058-2919-9.
  2. ^ Tim Berners-Lee, Roy T. Fielding, Larry Masinter. (January 2005). “Uniform Resource Identifier (URI): Generic Syntax”. Internet Society. RFC 3986; STD 66