حبیب جالب

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
Habib Jalib
حبیب جالب

انقلابی شاعر حبیب جالب
پیشہ اردو شاعری
قومیت پاکستانی
ادبی تحریک ترقی پسند تحریک
نمایاں اعزاز(ات) نگار ایوارڈ
نشان امتیاز (بعد از مرگ 23 مارچ 2009)

مشہور انقلابی شاعر حبیب جالب ایک شخصیت ہونے کے ساتھ ساتھ آمریت کے خلاف اور غیر جمہوری حکومتوں کے بارے ایک سنگ میل بھی ہیں جن کے بارے میں ہم سب کو پڑھنا چاہیے تاکہ معلوم ہو سکے کہ حبیب جالب نے کس طرح خلوص اور بہادری سے عوام کے جمہوری، سماجی، سیاسی حقوق کی پاسداری کی اور خلوص اور بہادری سے سامراجی قوتوں اور ان کے دلال سیاستدانوں کا مقابلہ کیا اور ہر دور میں عتاب کا نشانہ بنے ۔

سوانح[ترمیم]

ابتدائی حالات[ترمیم]

اردو شاعر حبیب جالب1928ء میں دسوہہ ضلع ہوشیار پور ’’بھارتی پنجاب‘‘ میں پیدا ہوئے۔ اینگلو عربک ہائی سکول دہلی سے دسویں جماعت کا امتحان پاس کیا۔ بعد ازاں گورنمنٹ ہائی اسکول جیکب لائن کراچی سے مزید تعلیم حاصل کی ، روزنامہ جنگ اور پھر لائلپور ٹیکسٹائل مل سے روزگار کے سلسلے میں منسلک ہوئے۔ [1]


حالات زندگی[ترمیم]

،پہلا مجموعہ کلام برگ آوارہ کے نام سے 1957میں شائع کیا،مختلیف شہروں سے ہجرت کرتے ہوئے بلآخر لاہور میں مستقل آباد ہوگئے اور ان کا یہ شعر ہمیشہ کے لئے امر ہوگیا۔

یہ اعجاز ہے حسن آوارگی کا
جہاں بھی گئے داستاں چھوڑ آئے

آزادی کے بعد کراچی آگئے اور کچھ عرصہ معروف کسان رہنما حیدر بخش جتوئی کی سندھ ہاری تحریک میں کام کیا۔ یہیں ان میں طبقاتی شعور پیدا ہوا اور انھوں نے معاشرتی ناانصافیوں کو اپنی نظموں کا موضوع بیایا۔ 1956ء میں لاہور میں رہائش اختیار کی۔

سیاسی حالات زندگی[ترمیم]

ایوب خان اور یحیی خان کے دور آمریت میں متعدد بار قید و بند کی صعوبتیں جھلیں ۔ جالب کو 1960 کے عشرے ميں جيل جانا پڑا اور وہاں انہوں نے کچھہ اشعار لکھے”سرِمقتل” کے عنوان سے جو حکومتِ وقت نے ضبط کر ليۓ ليکن انہوں نے لکھنا نہيں چھوڑا۔ جالب نے1960 اور 1970 کے عشروں بہت خوبصورت شاعری کي جس ميں انہوں نے اس وقت کے مارشل لا کے خلاف بھرپور احتجاج کيا ۔ [2]

نومبر 1997 میں جب اس وقت کے حکمراں جنرل پرویز مشرف نے ایمرجنسی لگائی تو مشرف کے سیاسی مخالفین کے جلسوں میں حبیب جالب کی شاعری دلوں کو گرمانے کے لیے پڑھی جاتی تھی۔

کارہائے نمایاں[ترمیم]

شہرت[ترمیم]

1958 میں پہلا آمریت کا دور شروع ہوا ،1962میں اسی ایوبی آمریت نےنام نہاد دستور پیش کیا جس پر جالب نے اپنی مشہور زمانہ نظم کہی جس نے عوام کے جم غفیر کے جذبات میں آگ لگا دی ،

میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا [3] 1970کے انتخابات کے بعد جنرل یحییٰ خان نے اقتدار اکژیتی پارٹی کو منتقل نہی کیا اور اس کے جواب میں ان پر گولیاں برسایئں اس وقت مغربی پاکستان اس فوج کشی کی حمایت کر رہا تھااس وقت یہ جالب صاحب ہی تھے جو کہے رہے تھے،

محبت گولیوں سے بو رہے ہو
وطن کا چہرہ خوں سے دھو رہے ہو
گماں تم کو کہ رستہ کٹ رہا ہے
یقیں مجھ کو کہ منزل کھو رہے ہو

1974 میں وزیر اعظم بھٹو جن کے کندھوں پے بیٹھ کر مسند اقتدار پر پہنچے تھے ان سب کو نام نہاد حیدرآباد سازش کیس میں بند کردیا،اسی دور میں جالب صاحب کی یہ نظم بہت مشہور ہوئی:

قصر شاہی سے یہ حکم صادر ہوا،لاڑکانے چلو، ورنہ تھانے چلو

ضیاء الحق کے مارشل لاء میں جب حیدرآباد سازش کیس ختم ہوا اور اس کے اسیروں کو رہائی ملی تو انہوں نے اوروں کی طرح بھٹو دشمنی میں نہ ہی ضیاءالحق سے ہاتھ ملایا اور نہ ہی فسطائیت کے ترانے گائے بلکہ انہوں تو کہا :

ظلمت کو ضیا ء صر صر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا

آمریت کے بعد جب پیپلز پارٹی کا پہلا دور حکومت آیا اور عوام کے حالات کچھ نہ بدلے تو جالب صاحب کو کہنا پڑا:

وہی حالات ہیں فقیروں کے
دن پھریں ہیں فقط وزیروں کے
ہر بلاول ہے دیس کا مقروض
پاؤں ننگے ہیں بے نظیروں کے

[4]

تخلیقات[ترمیم]

  • صراط مستقیم
  • ذکر بہتے خوں کا
  • گنبدِ بیدار
  • کلیات حبیب جالب
  • اس شہرِ خرابی میں
  • گوشے میں قفس کے
  • حرفِ حق
  • حرفِ سرِ دار
  • احادِ ستم

فلمی کام[ترمیم]

انہیں مشہور پاکستانی فلم زرقا میں ’رقص زنجیر پہن کر بھی کیا جاتا ہے‘ لکھنے پر شہرت حاصل ہوئی۔ [5]

شاعری[ترمیم]

نظمیں[ترمیم]


غزلیں[ترمیم]


تاثرات[ترمیم]

ابتدا میں جگر مراد آبادی سے متاثر تھے اور روایتی غزلیں کہتے تھے۔ حبیب جالب کی سیاسی شاعری آج بھی عام آدمی کو ظلم کے خلاف بے باک آواز اٹھانے کا سبق دیتی ہے۔ حبیب جالب کی پوری زندگی فقیری میں گذری ۔ [6]

اپنی زندگی میں حکومتی مخالفتوں کے ساتھ ساتھ عوامی حمایت کا بھی ایک جم غفیر ان کے ساتھ تھا ۔ جن میں ہر شعبۂ زندگی کے لوگ شامل تھے ۔ جن سے آپ کسی نہ کسی قسم کا فائدہ اٹھا سکتے تھے مگر انہوں نے ایک معمولی سا فائدہ نہ اپنی ذات کے لیے اٹھایا اور نہ اپنے اہل خانہ کو کچھ حاصل کرنے دیا ۔ ان کے بچے معمولی تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کر کے جوان ہوئے ۔

اعزازات[ترمیم]

ان کو نگار فلمی ایوارڈ سے نوازا گیا ۔ اس کے علاوہ 2006ء سے ان کے نام سے حبیب جالب امن ایوارڈ کا اجراء کیا گیا ۔

آخری ایام[ترمیم]

ان کا انتقال 13 مارچ 1993ء کو ہوا ۔

مزید برائے مطالعہ[ترمیم]

حبیب جالب امن ایوارڈ

بیرونی روابط[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]