حخمانیشی سلطنت

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
حخمانیشی سلطنت
Achaemenid Empire
Pārsa

 

 

 

550–330 قبل مسیح

کورش اعظم کا پرچم

حخمانیشی سلطنت
دارالحکومت بابل[1] (اہم دارالحکومت), پاسارگاد, ہگمتانہ, سوسن, تخت جمشید
زبانیں فارسی[a]
قدیم آرامی زبان[b]
اکدی[2]
مادی
عیلامی
سومری[c]
مذہب زرتشتیت, بابلی[3]
حکومت جاگیردار بادشاہت
شہنشاہ
 - 559–529 قبل مسیح کورش اعظم
 - 336–330 قبل مسیح دارا سوم
تاریخی دور کلاسک دور
 - فارسی بغاوت 550 قبل مسیح
 - لیڈیا کی فتح 547 قبل مسیح
 - بابل کی فتح 539 قبل مسیح
 - مصر کی فتح 525 قبل مسیح
 - یونانی فارسی جنگ 499–449 قبل مسیح
 - سقوط مقدونیہ 330 قبل مسیح
رقبہ
 - 500 قبل مسیح 8,000,000 مربع کلومیٹر (3,088,817 مربع میل)
آبادی
 - 500 قبل مسیح تخمینہ[4] 50,000,000 
     کثافت 6.3 /مربع کلومیٹر  (16.2 /مربع میل)
سکہ دریک, حخمانیشی سکہ
موجودہ ممالک
a. ^ Native language.
b. ^ Official language and lingua franca.[8]
c. ^ Literary language in Babylonia.
Warning: Value specified for "continent" does not comply
تاریخ ایران

حخمانیشی سلطنت (قدیم فارسی: حخمانیشیہ) 559 قبل مسیح سے 338 قبل مسیح تک قائم ایک فارسی سلطنت تھی جو عظیم ایرانی سلطنتوں کے سلسلے کی پہلی کڑی تھی۔

حخمانیشی مملکت میں موجودہ ایران کے علاوہ مشرق میں موجودہ افغانستان، پاکستان کے چند حصے، شمال اور مغرب میں مکمل اناطولیہ یعنی موجودہ ترکی، بالائی جزیرہ نما بلقان (تھریس) اور بحیرہ اسود کا بیشتر ساحلی علاقہ شامل تھا۔ مغرب میں اس میں موجودہ عراق، شمالی سعودی عرب، فلسطین (اردن، اسرائیل اور لبنان) اور قدیم مصر کے تمام اہم مراکز شامل تھے۔ مغرب میں اس کی سرحدیں لیبیا تک پھیلی ہوئیں تھیں۔ 7.5 ملین مربع کلومیٹر پر پھیلی حخمانیشی سلطنت تاریخ کی وسیع ترین سلطنت تھی اور آبادی کے لحاظ سے رومی سلطنت کے بعد دوسری سب سے بڑی سلطنت تھی۔ یہ سلطنت 330 قبل مسیح میں سکندر اعظم کے ہاتھوں ختم ہوگئی۔

سلطنت کا پہلا حکمران کورش اعظم یا سائرس اعظم تھا جبکہ دارا سوم اس کا آخری حکمران تھا۔ حخمانیشی سلطنت کا دارالحکومت پرسیپولس یعنی تخت جمشید تھا جبکہ آتش پرستی ریاستی مذہب تھا۔

حخمانیشی سلطنت اپنے عروج پر

ایران کی قدیم تاریخ دراصل دو آریائی قبائل، میدی یا ماد اور پارس کے سیاسی عروج سے ہوتی ہے۔ 1500 ق م میں آریا قبائل کی ایک جماعت کوہ البرز اور کرد ستان کی پہاڑیوں کے درمیان اس سطح مرتفع میں بسی جو ان سے منسوب ہوکر ایرانہ Airyana یا ایرانIran کہلایا۔ آریوں کے ورد سے صدیوں پہلے جنوبی ایران میں سوسیانہ یا خوزستان میں علامی Elamic آباد ہوچکے تھے اور شمال مغربی حصہ پر آشوری Asurianes اپنی حکومت قائم ہو چکی تھی۔ اس سرزمین پر آریوں کو قدرتی طور پر ان دونوں سے جنگ کرنی پڑی تھیں۔ ہمیں پارس کے حالات خود ان کی تحریروں میں کچھ مل جاتے ہیں۔ شلما نصر سو مShamaneser 3ed (857۔ 823 ق م) کی روایات میں ان پارس کا ذکر ملتا ہے کہ اس نے پارسو Parsuکے بادشاہ سے خراج وصول کیا۔ شمش عداد پنجم Shamesh Adadd 5th(723۔811 ق م) اور تغلد بلاسر سوم Tiglath Plaser 3ed (745 تا 727 ق م) کے کتبوں میں بھی ان کا ذکر محکوم قوموں کی حثیت سے ان کا ذکر آیا ہے۔ ان تذکروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ850 ق م تک انہوں نے سیاسی اہمیت حاصل کرلی تھی۔ آریاؤں کی جو جماعت جنوبی ایران میں آباد ہوئی اس کے نام سے یہ خطہ پارس Pars کہلایا۔ پارس نے پرسومش Parsumash اور پرساگرد Parsagarda آباد کیا۔ یہ لوگ اوائل میں میدیا کی طرح آشوریوں کے محکوم رہے اور کم بیش قبائلی زندگی بسر کرتے رہے۔ تقریباً سات سو قبل مسیح میں جب میدیا میں دیاکو نے قبائل کو منظم کرکے حکومت ڈالی اسی وقت پارس کی سرزمین پر ایک شخص ہخامنش نے ایک حکومت کی بنیاد ڈالی۔ یہ دوسرا ایرانی خاندان اپنے بانی کے نام سے ہخامنشی کہلایا۔ اس خاندان کے اوائل کے بادشاہوں نام اور عہد حکومت میں سخت اختلافات ہیں۔ ہیروڈوٹس نے اس خاندان کا جو شجرہ نسب دیا ہے۔ اس کو دارا اول کے ان الفاظ کی روشنی میں جو بہستون کندہ ہیں۔ ”میری نسل کے آٹھ بادشاہوں نے مجھ سے پہلے حکومت کی اور میں نواں ہوں“ غور کرنے سے یہ سلسلہ اس طرح قائم ہوتا ہے۔

  1. ہخامنش
  2. چاش پش
  3. خورس اول
  4. کموجیہ اول
  5. خورس دوم
  6. کموجیہ دوم
  7. اریامن
  8. ارشام
  9. دارا اول

اس سلسلے کی تصدیق تاریخی واقعات سے بھی ہوتی ہے۔

ابتدائی دور[ترمیم]

681 ق م میں آشوری بادشاہ سناخریب کے خلاف بغاوت ہوئی تھی، خیال کیا جاتا ہے ہلو لینا Halulina کے مقام پر جن دستوں نے اس کا مقابلہ کیا تھا ان میں سے پرسومش کا ایک دستہ ہوگا۔ اس کا سپہ سالار ہخامنش ہوگا۔ چائش پش یا تس پس نے اپنی سلطنت اپنے دو بیٹوں خورس اور اریارامن میں تقسیم کردی تھی۔ خورس کو پرموش ملا، وہ باپ کی موت کے بعد خورس اول کے لقب سے جانشین ہوا۔ خورس سائرس نے علامیوں کے ساتھ مل کر آشور بنی پال کے خلاف اس کے بھائی شمش شمو کین Shamsh Shumukin کی مدد کی تھی۔ مگر شمش شمو کین کی شکست کے بعد خورس نے آشور بنی پال کی اطاعت قبول کر لی۔قبیزیاکموجا کے دور میں علامیوں اور آشوریوں کا ذوال شروع ہوگیا تھا۔ چنانچہ کمبوجا نے علام کے دارلحکومت انشان، قدیم سوسہ یا سوشن پر قبضہ کرلیا، یہی وجہ ہے تحریروں میں کمبوجا شاہ پرموش و انشان کا لقب ملتا ہے۔ مگر پھر بھی یہ ریاست آزاد نہیں ہوسکی۔ آشوریوں کے بعد میدی بادشاہ ہو خشترنے اس کو محکوم بنالیا اور استاغیس کے زمانے تک یہی صورت رہی۔

کورش یاسائرس دوم (559۔ 529 ق م) کا شمار دنیا کے بڑے فاتحین میں ہوتا ہے۔ اس نے تین بڑی سلطنتیں میدیا، لیڈیا اور بابل کو زیر و زبر کردیا اور فارس کی چھوٹی سی ریاست کو ایک عظیم انشان سلطنت میں تبدیل کردیا۔ اس نے پہلے پرساگرد کی متوازی حکومت کو ختم کیا اور اس کے بعد بابل کے بادشاہ بنو نید یا نیو نیدس Nabu Naibs or Nebu Nidus کے ساتھ ساز باز کرکے میدیا کے خلاف بغاوت کردی اور استاغیس کے سالاروں کو ساتھ ملا لیا۔ چنانچہ استاغیس کی فوج نے اسے گرفتار کرکے خورس کے حوالے کردیا۔ اس فتح کے بعد اس نے ایک متحدہ ایرانی سلطنت کی بنیاد رکھ دی۔ جس کی سرحد مغرب میں لیڈیا اور بابل تک وسیع ہوگئیں تھیں۔ لیڈیا، بابل اور مصر نے ساز باز کرکے خورس کی بڑھتی ہوئی طاقت کو ٹورنے کی کوشش کی۔ اس سے پہلے یہ اتحاد مستحکم ہوتا خورس نے لیڈیا پر حملہ کردیا۔ جنگ میں لیڈیاکی فوج کو شکست ہوئی اور خورس نے دارلحکومت سارڈیس Sardis پر قبضہ کرکے اس کے حکمران کروئس Crocsusگرفتار کر لیا۔ اس طرح لیڈیاکی سلطنت کے ساتھ ایشائے کوچک اور یونانی مقبوضات خورس کے قبضہ میں آگئے۔ اس کے بعد اس نے ہرایو Harava موجودہ ہرات اور دریائے سیحوں Oxus اور جیہوں Jaxartes کے وسط علاقے سغدیہ Sagdiaکو فتح کر کے اپنی سلطنت ماورالنہر اور کوہ ہندو کش تک پھیلا دیا۔ (539 ق م) بابل کو فتح کرکے نبو یندس کو گرفتار کرلیا اور مغرب میں اس کی سرحدیں کو مصر سے مل گیئں۔

خورس کا دوسرا بڑا کارنامہ مذہبی رواداری ہے۔ فتح بابل کے بعد اس نے اسرائیلیوں کو جو بخت نصر کے عہدسے اسیری کی زندگی بسر کررہے تھے۔ فلسطین جانے کی اجازت دے دی اور بیت المقدس کی تعمیر ثانی کا حکم صادر کیا اور بابل کے دیوتا مردوخ کی قدر منزلت کی اور تمام بتوں کو جو دوسرے مقامات سے اٹھا کر لائے گئے تھے ان کی جگہ پہنچایا۔ یہ اس کے کارنامے ہیں جن کی بدولت اس کو ’نجات دہندہ‘ اور قوم کا باپ کا خطاب دیا۔ نیز تاریخ میں اس کو اعظم کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔ خورس اعظم نے پرساگرکو اپنا دارلحکومت بنایا۔ 529 ق م میں ماورالنہر میں سک سے لڑتا ہوا مارا گیا .

خورس کی موت کے بعد اس کی وصیت کے مطابق اس کا بیٹا کمبوجا بادشاہ بنا۔ اس نے 525 ق م میں ایک بڑی فوج لے کر مصر پر حملہ کیا۔ پلوسم Pelusium کی جنگ میں فرعون مصر سامتیق سوم کو شکست دی اور مصر کو اپنی سلطنت میں شامل کر لیا۔اس دوران اس نے سوڈان اور قرطاجنہ فتح کرنے کے لئے فوجیں بھیجیں مگر وہ تباہ ہوگئیں، اس سے اس کا ذہنی توازن بگر گیا۔ اس نے بارہ پارسی امراء کو zndoزندہ دفن کرادیا، مزید اس نے مصر کے مقدس بیل Apis مار دیا۔ تقریباََ تین سال مصر میں قیام کے بعد اس نے مصر کا حاکم ایک شخص اریاندس Aryabdesکو مقرر کیا اور ایران واپس ہوا تھا کہ شام میں ایک عظیم بغاوت کی اطلاع ملی۔ جس کا قائد ایک شخص گؤمات Goumata نامی تھی۔ اس نے اپنے کو بردیا Bardiya ظاہر کر کے ایران کے تخت پر قبضہ کرلیا تھا۔ اس وحشت ناک خبر نے کمبوجاکے دماغ کو مختل کیا کہ راستے ہی میں اس نے خود کشی کرلی۔ اس کی موت کے بعد دارا اول نے گؤمات کو قتل کرکے اپنی بادشاہت کا اعلان کردیا۔

دارا یا داریوش اول (522۔ 426 ق م) اس کا تعلق ہخامنشی خاندان کی دوسری شاخ سے تھا۔ اس لئے وہ تخت کا جائز حقدار نہیں تھا اور اس نے ایک ایسے شخص کو قتل کر کے تخت حاصل کیا تھا جس کو لوگ بردیا سمجھتے تھے۔ اس لیے اس کے تخت نشین ہوتے ہی ملک میں بغاوت کی آگ بھرک اٹھی۔ مگر اس نے ایک ایک کر کے تمام بغاوتوں سرد کیا۔

باوجود شورشوں اور بغاوت کے دارانے فتوحات کی طرف توجہ دی۔ 514۔ 512 ق م کے درمیان اس نے بحیرہ اسود Black Sea کے علاقوں پر حملہ کیا اور سھتیوں کو مغلوب کرکے وادی ڈینوب Danube کے ایک وسیع علاقے پر تسلط قائم کیا۔ واپسی پر اس نے دریائے ڈینوب غبور کرکے ایشائے کوچک کو مسخر کیا، پھر اس نے تھریس یا تراکیہ Thrace اور یونانی جزائر کو اپنی مملکت میں شامل کرنے کے علاوہ مقدونیہ Macdoniaکی ریاست کو بھی اطاعت پر مجبور کیا۔ اس کے بعد افغانستان اور مکران کو زیر نگیں کرکے سندھ اور پنجاب کے ایک بڑے حصے کو اپنی سلطنت میں شامل کرلیا۔ ہیروڈوٹس کے بیان کے مطابق وہ سندھ سے بحری بیڑے کے ذریعے مکران اور عرب ہوتا ہوا اپنے دارلحکومت واپس آیا۔ الغرض 500 ق م کے اختتام تک مغرب سے لے کر مشرق کی سرزمین دارکے زیر نگیں ہوگئی تھی۔ 486 ق م میں اس کی موت واقع ہوگئی۔

دارانے چھتیس سال حکومت کی اور اس عرصہ میں معتدد جنگیں لڑیں۔ انیس جنگوں میں خود بھی شریک ہوا اور نہ حوادث نے اس کے قدم ڈگمگائے اور نہ شورشیں اس کے عزم کو متزل کرسکیں۔ اس نے چٹان کی ماند ہر ایک کا دیوانہ وار مقابلہ کیا۔ اس عہد میں ایرانی سلطنت ماورالنہر و سندھ سے لے کر وادی ڈینوب و مصر تک وسیع ہوگئی۔ اس کے یہ کارنامے اس کو دنیا کے فاتحین کی جگہ دینے کے لئے کافی ہیں۔ دارانے اپنی موت سے کچھ عرصہ پہلے خشیارشا کو جو آتوسہ دختر خورس اعظم کے بطن سے تھا ولی عہد بنایا۔ اس نے یونان پر حملے سے پہلے مصر کی بغاوت فرد کرنے کے لئے 484 ق م میں فوج کشی کی اور باغیوں کو سزا دے کر وہاں اپنے بھائی ہخامنش Hakhamaniess کو وہاں کا حاکم مقرر کیا۔ اس اثناء میں بابل میں شورش برپا ہوئی۔ خشیارشا نے بابل پر قبضہ کرکے بابل کو بے دردی سے لوٹا۔

ان کاروائیوں سے فارغ ہو کر اس نے یونانی جزائر پر حملے کا انتظام کیا اور 481 ق م میں ایک عظیم فوج لے کر ایشیائے کوچک پر حملہ کیا اور تھرما پلی Thermopylas کے مقام پر یونانیوں کو شکست دی۔ پھر ایتھنز کے مقام پر یونانیوں کو شکست دے کر ایتھنزپر قبضہ کرلیا اور وہاں معبدوں کو جلا دیا۔ مگر سلا مس Salamisکی جنگ میں ایرانی بیڑے نے سخت ہذمیت اٹھائی اور اس کا بڑا حصہ تباہ ہوگیا۔ خشیارشانے یہ مہم مردونیہ کے سپرد کی اور خود سارڈس آگیا۔ مردونیہ نے یونانی جزائر فتح کرنے کی کوشش کی اور پلاتہ Plataea مارا گیا اور ایرانیوں کو شکست ہوئی۔ اس کے بعد یونانی بیڑے نے ایرانی بیڑے کو راس میکال Cap of mycal کے نزدیک شکست دی۔ اس کے ساتھ ہی یونانی مقبوضات ایرانی حکومت کی گرفت سے نکل گئے اور درہ دانیال پر بھی یونانیوں کا قبضہ ہوگیا۔ اس شکست سے ایرانی حکومت کے وقار کو سخت نقصان پہنچا اور حرم میں شازش ہوئی اور خشیارشا اور اس کے بیٹے دارا کو قتل کر دیا گیا۔

خشیارشاکے قتل کے بعد ارتخشتر اول یا اردشیر دراز دست تخت نشین ہوا۔ یہ ایک سال تک آزادنہ حکومت نہ کرسکا۔ کیوں کے باپ کا قاتل اس پر حاوی تھا۔ آخر بادشاہ کے معتمد مغابیز ی بالغابش Megabyrus نے اسے قتل کرکے رہائی ڈلائی۔ اس واقع کے بعد کے اردشیرکے بھائی ھستاسب Hystaspes نے باخترمیں بغاوت کردی۔ اردشیرخود گیا اور دو جنگوں میں اسے مغلوب کر کے ملک کے اندر امن قائم کیا۔

خشیارشاکے دور میں مصر پر ایرانی گرفت ڈھیلی ہوگئی تھی۔ 461 ق م میں لیبیا کے سابق شاہی خاندان کے ایک فرد ایناروس Inarus بن سامتق دوم نے یونانیوں کی مدد سے بغاوت کردی۔ اردشیرنے بغابیش Bagabish کو تین ہزار فوج دے مصر بھیجا۔ اس نے آتے ہی باغیوں کو شکست فاش دی اور ایناروس کو گرفتار کرکے سوسہ بھجوادیا۔ پھر اس نے یونانیوں کے خلاف کروائی کی۔ اس وقت یونان کی دو بڑی طاقتیں ایتھنزاور اسپارٹاایک دوسرے کے ساتھ برسر پیکار تھیں۔ اس لیے دونوں حکومتوں کے درمیان صلح ہو گئی۔ جس کے تحت اتحاد دلس کے میمبروں کی آزادی تسلیم کرلی گئی۔ نیز قبرض پر ایران کا قبضہ تسلیم کرلیا گیا۔

اردشیرنے 424 ق م میں وفات پائی، وہ بہت حسین، باوقار اور رحمدل بادشاہ تھا۔ وہ یہودیوں پر بہت مہربان تھا اور انہیں ہر طرح کی مذہبی آزادی دے رکھی تھی۔

اردشیر کی موت کے بعد اس کا بیٹا خشیارشا تخت پر بیٹھا، مگر کل پنتالیس دن ہی حکومت کرنے پایا کہ اس کے سوتیلے بھائی سغدیان Secudianus نے قتل کرکے تخت پر قبضہ کرلیا۔ مگر وہ بھی چھ ماہ سے زیادہ حکومت نہیں کرسکا، خشیارشاکا دوسرا سوتیلا بھائی اوخوس جو باخترکا حکمران تھا، اس کے خلاف اٹھ کھڑا ہوا اور امیروں کی حمایت حاصل کرکے اس کو گرفتار کر لینے میں کامیاب ہو گیا۔ اس نے دارا دوم کے لقب سے اپنی بادشاہت کا اعلان کردیا۔ اس حکومت پر خواجہ سراؤں اور عورتوں کا قبضہ ہوگیا۔ اس کی بیوی پریزاد Perysats اور تین خواجہ سرا اس کے مشیر خاص تھے۔ اس لئے اس کے بھائی آرشیت Arsites نے بغاوت کی، دارانے اس کے حمایتوں کو ٹوڑ لیا، آرشیت نے اطاعت قبول کرلی۔ مگر دارا نے اس کو قتل کروادیا۔ اس کے بعد لیڈیا کے حاکم پس سسنہ Pissuthnes نے بغاوت کی مگر اس کا حشر آرشیت کی طرح ہوا۔ اس کے بعد دارانے لیڈیاکا حاکم ایک چالاک اور مدبر امیر تسیافرن Tissaphernes کو مقرر کیا۔ اس نے ایتھنز اور اسپارٹاکی باہمی عدادتوں سے فائدہ اٹھایا اور ایسی حکمت عملی اختیار کی کہ دونوں ریاستیں لڑتی رہیں۔ اسپارتی تسیافرن کی اس حکمت عملی کو سمجھ گئے۔ چنانچہ انہوں نے تسیافرن کے خلاف جوڑ توڑ کر کے اس کے اختیارات صوبہ کاریہ Caria تک محدود کردیئے گئے اور ایشائے کوچک کے بقیہ علاقوں کے لئے دارا کے بیٹے خورس صغیر کی سٹراپی میں دے دیئے گئے۔ اس اثناء میں حرم کے اندر خورس کے خلاف سازش ہوئی، اس کے علاوہ تسیافرن نے بھی بادشاہ سے اس کی حکمت عملی کے خلاف شکایت کی۔ آخر اس کو وضاحت کے لیے سوسہ طلب کرلیا گیا۔ مگر اس کے پہنچنے کے بعد داراکا انتقال ہوگیا۔

اردشیرسوم بہت ہی باہمت، دلیر، تند خو اور سنگدل بادشاہ تھا، اس نے تخت نشینی کے بعد تمام شہزادوں کو قتل کرا دیا تھا کہ کوئی دعوے دار باقی نہ رہے۔ مگر ایک سال کے اندر شام، ایشائے کوچک، قبرض و فنیقہ میں بغاوتیں پھوٹ پڑھیں۔ ان بغاوتوں کی سب سے بڑی وجہ مصر میں ایرانی حکومت کی شکست تھی۔ اردشیر نے پہلے شام کی شورشوں کو فرد کرنا ضروری سمجھا، اس نے سب سے پہلے فنیقی علاقے صیدا یا سدروم Sidon کا محاصرہ کرلیا۔ شہریوں نے مایوس ہوکر خود شہر کو آگ لگادی یا خود کشی کرلی، صیداکا بادشاہ طینس Tennes قتل ہوا۔ اس کے بعد اردشیرنے مصر کی طرف پیس قدمی کی اور مصر کے تیسویں خاندان کا آخری بادشاہ نخت نیب Nachtta Nep شکست کھا کر حبشہ کی طرف بھاگ گیا اور مصر دوسری بار 342 ق م میں ایرانی سلطنت میں شامل ہوگیا۔ ایرانی فوجوں نے اس موقع پر بری بیدردی سے مصر کو غارت کیا۔ شہروں کو لوٹا اور ہزاروں مصریوں کو موٹ کے گھاٹ اتارا۔ ارشیر نے مصر کے مقدس بیل آپسAips ذبیح کو کرا دیا۔ اردشیرنے فرندات Pharendates کو مصر کا حاکم بنا کر واپس ہوا۔ اس کامیابی اور تشدد سے مغربی صوبوں کی شورشیں خود بخود فرد ہوگئیں۔ مگر اس اثنا میں وسط ایشاء اور سندھ میں بغاوتیں پھوٹ پڑھیں اور سندھ کا علاقہ ایرانی حکومت کے قبضہ سے نکل گیا۔ 338 ق م میں اس کے ایک خواجہ سرا باگوس Bagoas نے اسے زہر دے کر ہلاک کردیا اور اس کے بیٹوں میں سے چھوتے بیٹے ارشک Arsacesکو تخت پر بیٹھا کر باقی سب کو قتل کردیا۔

ارشک نے تخت نشینی کے بعد باگواس سے رہائی کی کوشش کی مگر کامیاب نہ ہو سکا۔ باگواس نے اس خطرے کو محسوس کرتے ہوئے اس کو اس کے بیٹوں سمیت قتل کرا دیا۔ اس کے بعد ہخامنشی خاندان کے ایک شہزادے کو جو غالباََ دارا دوم کا پوتا تھا دارا سوم کے لقب سے تخت پر بیٹھا دیا۔

حکومت کی باگ دوڑ سمھالنے کے بعد دارا چہارم نے سب سے پہلے مگر ابھی سانس لینے ہی نہیں پایا تھا کہ ایرانی مملکت پر سکندر اعظم کا طوفانی خیز حملہ ہوا، اس نے ہخامنشی حکومت کا شیرازہ بکھیر دیا۔

یونانی بغاوتیں[ترمیم]

خورس نے لیڈیاکی سلطنت کے ساتھ ایشائے کوچک اور یونانی مقبوضات خورس کے قبضہ میں آگئے اور چند یونانی جزائر اور شہروں نے خورس Cyrus کے دور میں اطاعت کرلی تھی۔ دارا نے۔ 514۔ 512 ق م کے درمیان اس نے بحیرہ اسود Caspian Sea کے علاقوں پر بری اور بحری دونوں راستوں سے حملہ کیا اور سھتیوں کو مغلوب کرکے وادی ڈینوب Danube کے ایک وسیع علاقے پر تسلط قائم کیا۔ سھتیوں کی حمایت میں یونانیوں نے شورشیں برپا کردیں۔ چنانچہ واپسی پر اس نے دریائے ڈینوب غبور کرکے ایشائے کوچک کو مسخر کیا، پھر اس نے سارڈیس Sardisمیں ایک سال تک قیام کرکے اس نے یہاں سے تھریس یا تراکیہ Thrace اور یونانی جزائر کو اپنی مملکت میں شامل کرنے کے علاوہ مقدونیہ Macdoniaکی ریاست کو بھی اطاعت پر مجبور کیا۔ پھر داراکے عہد میں تھریس اور مقدونیہ نے اطاعت قبول کرلی تھی، مگر وہ اس غلامی سے مطمعین نہ تھے۔ چنانچہ 499 ق م میں ایشائے کوچک کے یونانی باشندوں نے اہل اتھنزکے ایما پر بغاوت کر دی اور لیڈیاکے پائے تخت سارڈس پر قبضہ کرلیا۔ ایرانی فوج نے باغیوں کو شکست دے کر دوبارہ تسلط قائم کیا۔ لیکن 494 ق م میں لیڈیاکی جنگ میں ایشائے کوچک کے ایونیانی یونانیوں Ionian Greekکو دوسری شکست فاش دی اور انتقام میں میلتس Milltus کو برباد کردیا، مگر ان سختیوں کے باوجود شورشوں کا سلسلہ جاری رہا۔ ایرانی فوج کے ہٹے ہی مقدونیہ، تھریس اور اریٹیریا Eretria نے آزادی کا اعلان کردیا۔ دارانے اس دفعہ اپنے بھتیجے مرودنیہ Mardunius کو مقرر کیا، جس نے تھریس کو فتح کیا اور مقدونیہ کے حاکم سکندر Alexanderکو اطاعت پر مجبورکیا۔ اس کا ارادہ دوسرے یونانی جزائر کی طرف پیش قدمی کا تھا۔ مگر طوفان میں اس کا بیڑا تباہ ہوجانے کے سبب دارانے اسے واپس بلا کر یہ مہم اپنے ایک سالار داتیہ Datis اور ارتافرنیہ Artaphernesکے سپرد کی۔ ان سالاروں نے اریٹیریا Eretria کو کلیۃََ تباہ کردیا، مگر ایتھنزپر حملہ ناکام رہا۔ اہل ایتھنزنے مراتھن Marathan کے مقام پر جو جزیرہ اٹیکا Attica میں ایتھنزسے چوبیس میل شمال مشرق میں واقع ہے، ایرانی فوج کو عبرت ناک شکست دی۔ پھر مصر نے بھی ایرانی جوا اتار پھینکا۔ دارا یونانیوں اور مصریوں کو قرار واقعی دینے کی فکرمیں تھا، کہ موت نے اسے اٹھا لیا۔

دارا کی موت کے بعد خشیارشا ایران کے تخت پر بیٹھا۔ اس کے تخت نشین ہوتے ہی درباریوں میں اختلاف پیدا ہوگیا۔ ایک گروہ یونان میں فوج کشی کا مخالف تھا اور دوسرا موئید۔ خشیارشانے دوسرے گروہ سے اتفاق کیا اور مصر کی بغاوت فرد کرنے کے بعد اس نے یونانی جزائر پر حملے کا انتظام کیا اور 481 ق م میں ایک عظیم فوج کر ایشیائے کوچک کی طرف بڑھا۔ اس موقع پر سلطنت کی مختلف گوشوں سے فوجیں طلب کی گئیں، جو کاپاڈوشیہ میں اکھٹا ہوئیں، پھر وہاں سے لیڈیاآئیں۔ ہیروڈوٹس کے مطابق چھیالیس قوموں کے سپاہی اس فوج میں شامل تھے۔ جو سلطنت کے مختلف گوشوں سے طلب کئے گئے تھے۔ یونانیوں نے اس فوج کی تعداد اٹھارہ لاکھ بری افواج کے علاوہ بارہ سو جنگی اور تین ہزار برداری کشتیوں اور پانچ لاکھ دس ہزار فوج بحری بتائی ہے۔ اس طرح تیئس لاکھ دس ہزار فوج ہوئی، جو مبالغہ آمیز ہے۔ بہر کیف اس عظیم انشان فوج کا سالار مردونیہ Mardonia تھا، دوسری طرف یونانی بحری فوج کا سالار لیونداس Leonidas اور بحری فوج کا سالار یوری بیاد Euribyades تھا۔

بہر کیف اس عظیم انشان فوج نے ہیلی پونت Hellespont یعنی درہ دانیال غبور کرتے ہوئے تھرما پلی Thermopylas کے مقام پر یونانیوں کو شکست دی۔ پھر ایتھنز کے مقام پر یونانیوں کو شکست دے کر ایتھنزپر قبضہ کرلیا اور وہاں معبدوں کو جلا دیا۔ اس اثناء میں ایرانی بحری بیڑاہ بھی آگیا، جس نے آرٹی منیریم Artomisium کے مقام پر یونانیوں کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کردیا۔ مگر سلا مس Salamisکی جنگ میں ایرانی بیڑے نے سخت ہذمیت اٹھائی اور اس کا بڑا حصہ تباہ ہوگیا۔ اس واقع کے بعد خشیارشانے یہ مہم مردونیہ کے سپرد کی اور خود سارڈس لا گیا۔ مردونیہ نے یونانی جزائر فتح کرنے کی کوشش کی، مگر آپس کے اختلافات کی بدولت کامیاب نہ ہوسکا اور پلاتہ Plataea کے مقام پر زبردست شکست کھائی خود سالار فوج مردونیہ بھی قتل ہوگیا۔ اس کے مرتے ہی انتہائی ابتری کی حالت میں فوج بھاگ کھڑی ہوئی۔ یونانیوں نے دور تک ایرانیوں کا تعاقب کیا اور بڑی بے دردی سے انہیں قتل کیا۔ بقول ہیروڈوٹس کے صرف تین ہزار ایرانی جانیں بچاسکے۔ اس فتح کے بعد یونانی بیڑے نے ایرانی بیڑے کو راس میکال Cap of mycal کے نزدیک شکست دی۔ اس کے ساتھ ہی یونانی مقبوضات ایرانی حکومت کی گرفت سے نکل گئے اور درہ دانیال پر بھی یونانیوں کا قبضہ ہوگیا۔ اس شرمناک شکست سے ایرانی حکومت کے وقار کو سخت نقصان پہنچا اور خشیارشانے تلافی کی کوئی کوشش نہیں کی اور اس کو قتل کردیا گیا۔

خشیارشا نے مصر کی بغاوت دبانے کے بعد ایرانیوں نے یونانیوں کے خلاف کروائی شروع کی، اس وقت یونانیوں کے اتحاد کا شیرازہ بکھر رہا تھا۔ یونان کی دو بڑی طاقتیں ایتھنزاور اسپارٹاایک دوسرے کے ساتھ برسر پیکار تھیں۔ایسی حالت میں یونانیوں نے مصالحت کرنی بہتر سمجھی۔ چنانچہ ایک شخص کالیاس Callias کو ایرانی دربار بھیجا۔ بحث وتمحیض کے بعد بلاآخر دونوں حکومتوں کے درمیان صلح ہو گئی۔ جس کے تحت اتحاد دلس کے میمبروں کی آزادی تسلیم کرلی گئی۔ نیز قبرض پر ایران کا قبضہ تسلیم کرلیا گیا۔

دارا دوم کے عہد میں لیڈیا کے حاکم پس سسنہ Pissuthnes نے بغاوت کی مگر ناکام رہا۔ اس مرتبہ دارانے لیڈیاکا حاکم ایک چالاک اور مدبر امیر تسیافرن Tissaphernes کو مقرر کیا۔ اس نے ایتھنز اور اسپارٹاکی باہمی عدادتوں سے فائدہ اٹھایا، 413 ق م میں ایتھنز کے بیڑے نے صقیلہ Sicily میں شکست فاش کھائی۔ تسیافرن نے اسپارٹاسے ایک محاہدہ کرلیا، جس کے تحت دونوں نے ایتھنزسے جنگ کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ مگر تسیافرن نے اس پر سختی سے عمل نہیں کیا، بلکہ ایسی حکمت عملی اختیار کی کہ دونوں ریاستیں لڑتی رہیں اور ان کو ایرانیوں کے خلاف جنگ کے بجائے ان سے مدد لینی پڑے۔ اس طرح تسیافرن نے یونان کی سیاست میں بہت کامیاب کردارادا کیا۔ یونانی طاقت کے توازن کو اس نے برہم کرکے اس نے ایرانی مفاد محفوظ کرلیا اور رفتہ رفتہ ایشائے کوچک پر قبضہ کرکے ایران کی سلطنت میں شامل کرلیا۔

اسپارتی تسیافرن کی اس حکمت عملی کو سمجھ گئے۔ بدقسمتی سے بادشاہ کا دربار سازشوں کا اکھاڑا بنا ہوا تھا اور کم فہم لوگوں کا اثر و رسوخ بادشاہ پر تھا۔ چنانچہ انہوں نے تسیافرن کے خلاف جوڑ توڑ کر کے اس کے اختیارات صوبہ کاریہ Caria تک محدود کردیئے گئے اور ایشائے کوچک کے بقیہ علاقوں کے لئے دارا کے بیٹے خورس صغیر کی سٹراپی میں دے دیئے گئے۔ خورس نے اختیارات ہاتھ میں لیتے ہی یونانی اجیروں کی ایک فوج بھرتی کی اور راست پالیسی اختیار کرتے ہوئے اسپارٹاسے دوستانہ تعلقات استوار کئے۔ مزید اسپارٹاکے سردار لیزنڈر Lynsander کی مالی مدد کی۔ ایرانی معاونت حاصل کرنے کے بعد اسپارٹا نے ایتھنز کو اگس پوتامس Acgos Potmos کی بحری جنگ میں فیصلہ کن شکست دی اور ایتھنز پر قبضہ کرلیا۔ اس اثناء میں حرم کے اندر خورس کے خلاف سازش ہوئی، اس کے علاوہ تسیافرن نے بھی بادشاہ سے اس کی حکمت عملی کے خلاف شکایت کی۔ آخر اس کو وضاحت کے لیے سوسہ طلب کرلیا گیا۔ مگر اس کے پہنچنے کے بعد داراکا انتقال ہوگیا۔

درا دوم کے بعد اس کا بڑا بیٹا ارشک اردشیر دوم کے لقب سے بادشاہ بنا۔ خورس بھائی کو قتل کرنے کی فکر میں تھا کہ تسیافرن نے یہ راز افشا کردیا۔ ارد شیرنے اس کو قتل کرنے کا حکم دے دیا، مگر اس کی ماں نے بیٹے کو راضی کر لیا کہ وہ چھوٹے بھائی کو معاف کردے اور اس کو اسے اپنے عہدے پر برقرار رکھتے ہوئے ایشائے کوچک بھیج دے۔ خورس نے ایشائے کوچک پہنچتے ہی یونانی اجیروں کی ایک فوج بھرتی کرنی شروع کی جس کا سالار کلارخ Clarchus تھا۔ ان تیاریوں کے ساتھ وہ تقریباََ دو لاکھ فوج لے کر بابل بھائی کے خلاف جنگ کے لئے بڑھا۔ کوناکسا Cunaxa جو بابل کے قریب تھا جنگ ہوئی، یونانی فوج نے شاہی فوج کو گویا شکست دے دی تھی کہ پانسہ پلٹ گیا خورس اردشیر کو سامنے دیکھ کر اس پر ٹوٹ پڑا اور اسے زخمی کردیا، مگر اس کے ساتھ ہی شاہی دستے نے اس کا کام تمام کردیا۔ خورس کی موت کے بعد یونانی فوج کو اسلحہ رکھ دینے کا حکم دیا گیا مگر اس نے انکار کردیا۔ شاہی فوج ان سے مقابلے کی ہمت نہیں کرسکی، بادشاہ کو انہیں واپس جانے کی اجازت دینی پڑی۔ راستے میں تسیافرن نے کلارخ اور دوسرے سالاروں کو دھوکہ دے کر گرفتار بھی کرلیا، مگر پھر بھی انہوں نے ہتھیار نہیں ڈالے اور زنوفن Xenophon اور دوسرے سرداروں کی قیادت میں واپس لوٹ گئے۔ اس جنگ نے یونانیوں کو دلیر بنا دیا، انہوں نے ایرانی فوج کی کمزوریوں اور داخلی ضعف کا پوری طرح اندازہ کرلیا اور آئندہ سکندر اعظم نے اس تجربہ سے پوری طرح فائدہ اٹھایا۔

اس واقعہ کے بعد قدرتاََ ایران اور اسپارٹا کے حلیفانہ تعلقات ختم ہوگئے۔ اہل اسپارٹانے ایشائے کوچک کے ایرانی مقبوضات ختم کرانے کی کوشش کی، مگر وہ ایتھنز کی کشمکش کی وجہ سے کامیاب نہیں ہوسکے۔ دوسری طرف ایتھنزنے ایران سے دوستانہ تعلقات قائم کرلئے۔ ایرانی حکومت نے بھی ایتھنزکی حمایت شروع کردی، اس طرح اس نے اپنے وقار کو گرنے سے بچالیا۔ اردشیرنے ایک فرمان کے ذریعے اعلان کردیا کہ ایشائے کوچک اور قبرص ایرانی سلطنت میں شامل ہے۔ اس طرح کالیاس کے صلح کو ختم کردیا۔

قبرص میں اواگورس Evagoras نے یونانیوں اور مصر کی حمایت حاصل کرکے بغاوت کردی اور ایرانی حکومت کے لیے مستقل خطرہ بن گیا۔ ایرانی حکومت نے ایسی حالت میں ایک طرف ایتھنزسے تعلقات استوار کیا اور دوسری طرف اوارگوس کو رعایت دے کر مصحالت پر راضی کولیا۔ سلامس Slamasa پر اور گورس کا قبضہ شاہ کے لقب کے ساتھ تسلیم کرلیا گیا۔

سکندر کا حملہ[ترمیم]

334 ق م میں سکندرنے درہ دانیال کو غبور کیا اور دریائے گرانیک Granicusکے کنارے ایرانی فوج کو پہلی شکست دی۔ اس ہزمیت نے ایرنی طاقت کو مفلوج کردیا۔ ایک سال کے اندر سارڈیس کاریہ فریجیا اور ایشیاء کوچک کے دوسرے علاقوں پر اس نے قبضہ کرلیا۔ اس کے بعد اس نے سوریا یا شام کی طرف پیش قدمی کی۔ ایسس Issus کے مقام پردوسری بڑی جنگ ہوئی۔ جس ایرانی فوج کا بڑا حصہ تباہ ہوگیا اور دارا کو شکست فاش ہوئی اور داراکی ماں، بیوی اور دو بیٹیاں گرفتار ہوئیں اور ایرانی فوج کا بڑا حصہ تباہ ہوگیا۔ دارا نے مصالحت کی کوشش کی مگر سکندر نے بڑی حقارت سے یہ پیش کش ٹھکرادی۔ مجبوراََ دارانے آخری جنگ کی تیاری کی۔ دوسری طرف سکندر فنیقی علاقے چڑھائی کی۔ سدوم کو تسخیر کرنے کے بعد وہ ٹائر Tyre آیا اور اس کو سات ماہ کے محاصرے کے بعد فتح کرنے میں کامیاب ہوا۔ اس موقع پر سکندر نے بڑی سفاکی مظاہرہ کیا اور ٹائر کو آگ لگا دی اور لوگوں کو غلام بنالیا۔ ٹائر کی تباہی کے بعد فلسطین کے بقیہ حصے سکندر کے زیر نگیں آگئے۔ یہاں سے اس نے مصر کی طرف اقدام کیا اور اور اسے بآسانی فتح کرلیا۔

تسخیر مصر کے بعد وہ پھر ٹائر آیا۔ یہاں ایک لشکر جرار کے ساتھ سرزمین ایران کی طرف بڑھا۔ نینوا کے قریب اربیلا Arbela سے تیس میل مغرب کو گوگامیل Gaugamela کے مقام پر دارا اور سکندرکے درمیان فیصلہ کن جنگ ہوئی، جس میں داراکو شکست ہوئی۔ اس شکست کے ساتھ ہی ایران داراکے قبضے سے نکل گیا اور دارا ہکتمان (ہمدان) سے رے اور رے سے شمال مشرق کی سمت بھاگ گیا۔ سکندر نے سوسہ کو فتح کرنے کے بعد اصطخر کو مسخر کیا اور اس انتقام میں کہ خشیارشا نے شہر ایتھنز کو جلا دیا تھا۔ اس نے بھی ایرانی دارالحکومت کو نذر آتش کردیا۔ مذہبی کتابیں، شاہی محلات اور یاد گار عمارتیں کل کی کل کی خاک ہوگئیں۔ اس کام سے فراغت پانے کے بعد اس نے دار کا تعاقب شروع کیا۔ راستے میں اس کے دو امرا بس سوس اور بربسانت نے اس کا کام تمام کردیا۔ دارا سوم کی موت کے ساتھ ہی ہخامنشی خاندان کی حکومت 330 ق م میں ہمیشہ کے لئے ختم ہو گئی۔

بادشاہ اور اس کا دربار[ترمیم]

اس عہد کی تمام حکومتوں کی طرح ہخامنشی حکومت شخصی، مورثی اور مطلق العنان تھی۔ بادشاہ اور اس کا دربار تمام طاقتوں کا سرچشمہ تھا۔ وہی واضع قانون بھی تھا اور قانون کو نافذ کرنے والا بھی۔ عدالت ہو یا فوج ہر صیغے میں اسے اعلیٰ اختیارات اسے حاصل تھے۔ وہ تمام دستوری اور قانونی بندشوں سے آذاد تھا۔ اس کی ذات رائے زنی اور تنقید سے بالا تھی۔ وہ اپنے عمال میں خود مختار تھا اور کسی دینوی طاقت کے آگے جواب دہ نہ تھا۔ ملکی مصالح کے پیش نظر وہ بوقت ضرورت اپنے امراء سے مشورے طلب کیا کرتا تھا اور یہ محض اس کی دور بینی اور خیر اندیشی پر موقوف تھا ورنہ کوئی فرد یا مجلس اس کی حاکمانہ حثیت پر اثر انداز نہیں ہوسکتی تھی۔ چونکہ وہ مذہب پر ایمان رکھتا تھا نیز اپنی رعایا کا ہم نسل تھا اس لیے مذہبی قوانین اور ملکی رسم و رواج لحاظ کرتا تھا۔ پھر کوئی طاقت ور مذہبی طبقہ موجود نہیں تھا اور مذہب کی پیشوائی بھی بادشاہ کرتا تھا۔ ایرانی سلطنت بہت سی ساتراپیوں اور چھوٹی چھوٹی ریاستوں پر مشتمل ہوتی تھی جن کے حکمران شاہ ہوا کرتے تھے۔ چونکہ بادشاہ ان کا حاکم اعلیٰ تھا اس لیے اس نے پنے لیے شاہنشاہ کا لقب اختیار کرتا تھا۔ یہ لقب دارا اول کے کتبے میں واضح طور پر ملتا اور یہ لقب ایران کے حکمرانوں کو اس قدر پسند آیا کہ ساسانی عہد تک تمام فرمانروا شہنشاہ (بادشاہوں کے بادشاہ) کہلاتے تھے۔ بادشاہ خود ہی فوج کا سپہ سالار ہوا کرتا تھا۔ میدان جنگ میں خود جاتا تھا اور قتال میں حصہ لیتا تھا

ایران کا بادشاہ اپنی سطوت و ہیبت اور شاہانہ کرد فر کے لیے مشہور ہیں ان کا لباس زرق برق ریشمی و زریں ہوا کرتا تھا۔ اس کے سر پر سونے ایک تاج ہوتا تھا۔ جس پر بیش قیمت جواہرات ٹکے ہوا کرتے تھے۔ ہخامنشی فرمانروا بالعموم ارغونی رنگ کی قبا پہنا کرتا تھا۔

بادشاہ مظلوموں کی فریاد سنے کے لیے دربار عام کرتا تھا دربار میں آنے کے آداب ملحوظ رکھے جاتے تھے۔ خلاف ورزی کی صورت میں موت کی سزا دی جاسکتی تھی۔ بادشاہ عموماً ایک تخت پر پردے کے پیچھے بیٹھا تھا۔ اس کا تخت سونے اور چاندی کا ہوتا تھا اور نہایت قیمتی پتھر و جوہرات جڑے ہوتے تھے۔ بادشاہ کے پیچھے مور چھل اور حفاظتی دستے کا سالار ’خرم باش‘ مؤدب کھڑا ہوتا تھا۔ تخت سے دس بالش ہت کر اراکین سلطنتیں لگی ہوتی تھیں۔ جشن و دعوت کے موقع پر بھی شاہانہ آداب پوری طرح ملحوظ رکھے جاتے تھے۔

بادشاہ شکار سے خاص رغبت رکھتے تھے۔ شکار کے لیے وسیع مرغزار اور جنگلات تھے۔ جہاں بادشاہ اپنے درباریوں اور شاہزادوں کے ساتھ شکار کے لیے جاتا تھا۔ گور خر اور شیر کا شکار اس کا پسندیدہ مشغلہ تھا۔ شکار میں اکثر کتے بھی ساتھ ہوتے تھے۔

محل کے اندر ملکہ خاص سب سے بااختیار تھی۔ اس کا لباس بادشاہ کی طرح قیمتی اور زرین ہوتا تھا۔ اسے تاج پہنے کا حق حاصل تھا۔ بادشاہ کی دوسری بیویاں اور کنیزیں اس کے زیر اثر تھیں۔ اس کی خدمت میں ہزاروں کنیزیں اور خواجہ سرا متعین تھے۔ بادشاہ کو اپنا ولی عہد نامز کرنے کا حق حاصل تھا۔ عموماً اس کا بڑا بیٹا اس کا جانشین ہوتا تھا۔ پھر بھی یہ طہ شدہ مسلہ نہیں تھا اور اکثر تلواریں اس مسلے کو حل کرتی تھیں۔ بادشاہ کے ذاتی تحفظ کے لیے فوج کا ایک دستہ متعین ہوتا تھا، جس کی سالاری بہت ہی متعد اور اکثر شاہی خاندان کے کسی فرد کے سپر کی جاتی تھی۔ جب بادشاہ باہر نکلتا تو یہ دستہ اس کے ساتھ ہوا کرتا تھا۔ محافظوں کے چمکدار اسلحہ، وردیاں اور زرہیں نیز بادشاہ کا تاج اور زریں لباس لوگوں کے دل پر ہیبت ڈالتا تھا۔

بادشاہ کے بعد امرا کی جماعت تھی، جو شاہزادوں، جاگیر داروں اور بااثر سرداروں پر مشتمل تھی۔ ملک کے اندر سب سے طاقتور طبقہ انہی امراء کا تھا۔ انہی کی آسودگی پر بادشاہ کا سکون منحصر تھا۔ ورنہ ان کا باہمی اتحاد بادشاہ کے لیے کس وقت بھی خطرہ بن سکتا تھا۔ بڑے بڑے عہدے اس طبقہ کے افراد سے پُر کئے جاتے تھے۔

نظام حکومت[ترمیم]

سٹراپی جو ہخامنشی دور میں خشتران پوان Khshtr Pawan کہلاتا تھا۔ اس کی تقریری براہ راست بادشاہ کے ہاتھ میں تھی۔ وہ اپنے حلقہ میں آزادنہ حکومت کرتا تھا اور صرف بادشاہ کو جواب دہ تھا۔ دارا اول کے کتبے میں اٹھائیس سٹراپیوں میں بٹی تھی۔ خشیار شا اول کے کتبے سے تیس سٹراپیوں کے حالات کا پتہ چلتا ہے۔

ہر سٹراپی میں فوجیں بھی رہتی تھیں جن کا تعق سٹراپ سے ہوتا تھا۔ بوقت ضرورت بادشاہ ہر صوبے سے طلب کرسکتا تھا۔ صوبے کی مالیات کا تعلق بھی سٹراپ سے تھا، وہ مقرر رقم بادشاہ کو دیا کرتا تھا۔ خشتران پوران کے علاوہ ہر سٹراپی میں دبیر یا میر منشی ہوا کرتا تھا۔ جو سٹراپی کے حالات سے براہ راست بادشاہ کو مطلع کرتا رہتا تھا۔ اس تمام شاہی احکامات و مضامین سے واقفیت ہوتی تھی اور بادشاہ کو آگاہ کرتا رہتا تھا کہ اس کی ہدایات پر کس قدر عمل و درآمد ہورہا ہے۔ اس علاوہ ہر سٹراپی میں ایسے لوگ متعین تھے جو بادشاہ کو براہ راست پوشیدہ طور پر خبریں بھیجا کرتے تھے۔ مرکزی انتظامات کے لیے اعلیٰ احکام مقرر تھے جو براہ راست بادشاہ کی ہدایات کے مطابق کام کرتے تھے۔ ایسے احکام کو بادشاہ کے درباریوں میں شمار کیا جاتا تھا۔

مالیات[ترمیم]

محکمہ مالیات کو سب سے پہلے دارا نے منظم کیا۔ محاصل کا تعین اور ان کی وصولی کا طریقہ مقرر کیا۔ ہر سٹراپی کو ایک سالانہ ایک مقرر رقم شاہی خزانے میں داخل کرنی پڑتی تھی۔ محاصل نقد اور جنس دونوں شکلوں میں وصول کئے جاتے تھے۔ دارا کے عہد میں سلطنت کی کل نقد آمدنی 14560 ٹیلنٹ Talants یعنی تقریباً دو کڑور ساٹھ پونڈ تھی۔ چند سٹراپیؤں کے خراج حسب ذیل تھے۔ ہندوستان 4680 ٹیلنٹ، بابل اور آشوریہ1000 ٹیلنٹ، مصر 700 ٹینٹ، ایشیا کوچک 1760 ٹیلنٹ اور بلوچستان 170 ٹیلنٹ۔ نقد رقم کے علاوہ ہر صوبے کو جنس کی شکل میں کچھ ادا کرنا پڑتا تھا۔ مثلاً بابل پانچ سو خواجہ سرا حکومت کو مہیا کرتا تھا۔ اس طرح ہندوستان سے کتے، حبشہ سے ہاتھی دانت اور آبنوس، آرمینا سے ایک لاکھ بھیڑیں، چار ہزار خچر، تین ہزار گھوڑے وصول کئے جاتے تھے اور ان کی نوعیت صوبائی خراج کے علاوہ ہدیے، مال غنیمت اور سرکاری اراضی کی پیداوار شاہی خزانے کی آمدنی کے زرائع میں شامل تھے۔

فوج[ترمیم]

قدیم ایرانیوں کا فوجی نظام آشوریوں کے عسکری نظام سے ماخوذ تھا۔ فوج کے دو حصے سوار اور پیادہ ہوتے تھے۔ سوار فوج کا اہم حصہ تھے اور اسی طاقت پر مملکت قائم تھی۔ پیادہ اور سواروں کے علاوہ جنگی رتھ بھی ہوتے تھے جن کو گھوڑے کھنچتے تھے۔ ہخامنشیوں نے فوجی طاقت کو جدید طور پر منظم کیا۔ ملک کے اندر نے فوجی خدمات لازمی قرار دے دی گئی تھی۔ جنگ کے وقت پندرہ سے پچاس سال تک کی عمر کے تمام لوگ فوجی خدمت پر مجبور تھے، نیز اس پر سختی سے عمل کیا جاتا تھا، جب ایک باپ کے تین بیٹے فوج میں بھرتی کئے جارہے تھے، دارا سے ایک کو بری کرانے کی درخواست کی گئی تو محض اس درخواست کے جرم میں تینوں بیٹوں قتل کردیا گیا۔ جنگ کے موقع پر ہر سٹراپی سے فوجیں طلب کرلی جاتی تھیں، جو مختلف نسلوں اور مذاہب کے سپاہیوں پر مشتمل ہوتی تھی۔ یونانی جزائر پر حملے کے وقت ہیروڈوٹس کے بیان کے مطابق تیس لاکھ فوج جمع کی تھی۔ گو یہ تعداد مبالغے سے خالی نہیں ہے۔ پھر بھی اس سے اتنا ضرور معلوم ہوتا ہے کہ ہر سٹراپی میں کافی فوجیں ضرور رہتی تھیں، جو ضرورت کے وقت طلب کی جاسکتی تھیں۔

ہخامنشیوں کے ہتیار تیر کمان، خنجر، بھالے، برچھے، چھرے تلواریں نیزے کمند ڈھالیں، پوستین، زرہیں اور خود شامل ہیں۔ جنگ کے موقع پر بادشاہ عموماً فوج کی قیادت کرتا تھا یا کوئی بااثر امیر۔ فوج کے ساتھ نقارے بجتے تھے اور بادشاہ اپنی کنیزوں کے جھرمٹ میں میدان جنگ میں جاتا تھا۔ ہخامنشی عہد مٰیں بحری بیڑے میں بھی ترقی ہوئی تھی۔ مگر ان کے بیڑے بھدے اور بھاری تھے۔ اس لیے یونانیوں کے مقابلے میں کامیاب نہیں رہے۔

عدالتیں اور قانون[ترمیم]

قدیم ایرانیوں کو فخر تھا کہ ان کے قوانین اٹل ہیں اور ان میں ترمیم و تنسیخ کی گنجائش نہیں ہے۔ مگر حیقیقت میں بادشاہ کا حکم تمام قوانین سے بالا تھا پھر بھی جرائم اور دیوانی معاملات میں کچھ قوانین ضرور تھے، جن کی حثیت مذہبی اور روایتی احکام کی تھی۔ بادشاہ بھی ان کا احترام کرتا تھا اور عدالتیں ان کے مطابق فیصلے دیا کرتی تھیں۔ دارا نے ملکی قوانین کی بھی اصلاح کی اور نئے قانون و ضع کر کے نافذ کئے۔ مگر افسوس ہے کہ اس کے ضابطہ قانوں کا کوئی حصہ دستیاب ہوسکا ہے۔ تمہید اور تتمہ کے جو چند ٹکرے ملے ہیں یا جو حوالے پائے جاتے ہیں وہ حمورابی کے ضابطہ قانون سے ماخوذ نظر آتے ہیں۔ ایسی حالت میں کوئی رائے قائم کرنا سخت دشوار ہے۔ بادشاہ کی عدالت سب سے بڑی عدالت ہوا کرتی تھی، جہاں مقدمات آخری فیصلے کے لیے پیش کئے جاتے تھے۔ بادشاہ اپنی رائے کے مطابق فیصلے کیا کرتا تھا اور اس خدائی منشا کا مظہر سمجھا جاتا تھا۔ چونکہ وہ تنہا مقدمات کا فیصلہ نہیں کرسکتا تھا اس لیے اس نے اپنی سلطنت میں عدالتوں کا وسیع نظام قائم کر رکھا ہوا تھا۔ اس عدالت کے بعد ایک دوسری عدالت عالیہ بھی تھی جو کہ سات قاضیوں پر مشتمل تھی اور تمام اہم مقدمات کی سماعت کرتی تھی۔ اس کے ماتحت صوبائی اور مقامی عدالتیں تھیں۔ بالعموم مذہبی طبقہ کے لوگ یعنی پروہت اس عہدے پر فائز تھے۔ کموجیہ دوم کے متعلق ایک روایت ہے کہ ایک قاضی نے رشوت لی۔ بادشاہ نے اس جرم میں اس کی کھال کھنچوا کر عدالت کی کرسی پر منڈ کر اس پر اس کے لڑکے کو اسی عہدے پر فائز کر کے اسی کرسی پربیٹھنے کا حکم دیا۔ حالانکہ اس کی یہ حرکت خود عدل کے خلاف تھی اور اس سے اس کی مطلق العنانی اور قانون کی زبرستی کا پتہ چلتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ ان شعور عدل ابھی ابتدائی حالت میں تھا اور وہ صرف مروجہ اصول اور شاہی احکام کی پابندی چاہتے تھے۔ ان کے فیصلوں میں قانون کے علاوہ مذہبی عقیدے کا دخل ہوتا تھا۔ پھر بھی ان کا اس عہد کے لحٓاظ سے ان کا بہت ترقی یافتہ تھا۔ غیر سنگین مقدمات میں ضمانت ہوجاتی تھی۔ دارا کہ بارے میں کہا جاتا ہے کہ ایک قاضی جسے صلیب کی سزا دی گئی تھی اسے یہ کہہ کر معاف کردی کہ اس نے بہت خذمات دیں ہیں۔

مذہب[ترمیم]

یہ یقین سے تو نہیں کہا جاسکتا ہے کہ ہخامنشی دین زرتشت کو مانتے تھے۔ پھر بھی ایسے شواہد موجود ہیں کہ اس طرح کی رائے قائم کی جاسکتی ہے۔ مثلاً اریامن کے ایک نوشتہ اور دارا اول کے ایک کتبہ میں اہورا مزدہ کا نام آیا ہے، اس لیے خیال کیا جاتا ہے کہ ہخامنشیوں کے اوئل میں ہی اس مذہب نے سرکاری مذہب کی حثیت اختیار کرلی تھی۔

اخلاق و آداب[ترمیم]

ایرانی آداب میں شائستگی پائی جاتی ہے۔ ملتے وقت ایک دوسرے کو بوسہ دیتے اور خیر عافیت پوچھتے تھے۔ ایرانیوں میں سالانہ جشن منانے کا رواج رہا ہے، خصوصاً موسم بہار میں نوروز کا اور اور خزاں میں قہرگان کا جشن بڑے زور شور سے منایا جاتا تھا اور ایک دوسرے کو تحفہ تحائف بھیجتے تھے اور پر تکلف دعوتیں کرتے تھے۔ بیٹیوں کی پیدائش نامبارک خیال کی جاتی تھی۔ پانج سال تک کا بچہ ماں کی نگرانی میں رہتا تھا اس کی تعلیم و تربیت کا بار باپ ذمہ ہوتا تھا۔

زبان و رسم الخط[ترمیم]

ہخامنشی عہد میں جو کتبہ دستیاب ہوئے ہیں وہ بالعموم تین زبانوں میں یعنی قدیم فارسی یا فرنس قدیم، علامی اور بابلی ہیں، ان میں صرف چند کتبہ قدیم فارسی کے ہیں۔ یہی زبان شاہی زبان کی حثیت رکھتی تھی، اس کا رسم الخط میخی ہے جو آرامی رسم الخط سے ماخوذ ہے۔ مگر ایرانیوں نے اس میں ہجا کے بجائے حروف تہجی استعمال کر کے اس کی پیچیدگیاں دور کردی تھی۔

مواصلات[ترمیم]

موصلات کی ترقی دارا نے مرکزی حکومت کے اثر و نفوذ کو دور دراز صوبوں میں قائم رکھنے نیز تجارت کو ترقی دینے کی عرض سے نظام موصلات کی طرف توجہ دی اور مختلف سڑکوں کے ذریعہ اہم مقامت کو ایک دوسرے سے ملادیا۔ ان تمام سڑکوں اور شاہرہ ؤں میں سب سے بڑی اور شاندار وہ سڑک تھی جو سارڈس کو سوسہ سے ملاتی تھی اور شہاہی سڑک Royl Rood کہلاتی تھی۔ سڑک پر رہاگیروں کی حفاظت کا معقول انتظام تھا۔ ہر تھوڑے فاصلے پر مہمان خانے اور فوجی چوکیاں تھیں۔ دارا نے فرعون مصر نیخو دوم کی کھداوئی ہوئی نہر کو دریائے نیل سے ملادیا اس کے ذریعے ایشیاء اور افریقہ کی تجارت کو ترقی دینے کی کوشش کی۔

کتبے[ترمیم]

بابل کے ایک مینار پر خورس کی ایک تحریر ملی ہے جو تاریخی حثیت سے بہت اہم ہے۔ اس تحریر میں یہ الفاظ ملتے ہیں ”میں ہوں خورس دنیا کا بڑا بادشاہ، ایک عظیم بادشاہ بابل کا بادشاہ، سومر اور اکاد کا بادشاہ، ربع مسکون کا بادشاہ، انشان کا بادشاہ خورس اول کا پوتا، چائش پش کا پر پوتا۔“ دوسرے مقام پر ہے ۔ وہ دیوتا جن کو میں نے ان کے شہروں میں پہنچایا بعل، نبو کے آگے میری درازی عمر کی دعائیں کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ اور کتبے ملے ہہیں ان سب سے اہم کتبہ بہستون Behistum ہے۔ یہ ہگتمان (ہمدان) کے قریب ہگتمان اور بابل کی قدیم شاہرہ پر کرمان شاہ کے مشرق میں پہاڑیاں واقع ہیں۔ ان پہاڑیوں کے دامن میں ایک چھوٹا سا گاؤں باستون یا بہستون واقع ہے۔ اس گاؤں کی قربت کی وجہ سے یہ کتبہ بہستون مشہور ہوگیا ہے۔ متعدد الوح کے اوپر تین زبانوں عیلامی، بابلی اور قدیم فرنس یا قدیم فارسی میں لکھا ہوا ہے۔ اس کی ایک نقل مصر کے العطین کے کاغذات سے ملی ہے۔ یہ نقل آرانی رسم الخط میں ہے۔ اس کتبہ میں تحریر کے علاوہ مختلف مناظر ہیں جو پھتروں پر نقوش میں پیش کئے گئے ہیں۔ ان میں دارا کی شاندار کامیابیوں اور دشمنوں کے عجر و عزمیتوں کو دیکھایا گیا ہے۔

کتبہ بہستون کے بعد دوسرے اہم کتبہ ’نقش رستم‘ میں ملے ہیں۔ یہ مقام پرساگر سے تیس میل جنوب و مغرب میں دارا اول کے آباد کئے ہوئے شہر اصظخر Istakhr پر گیا جس کو یونانی زبان میں پرسی پولس Persepois اور پارسی تخت جمشید کہتے ہیں۔ تخت جمشید کے قریب ہی شاہی قبرستان ہے۔ جہاں دار اول، خشیارشا اول، اردشیر اول اور دارا ثانی کی قبریں ہیں، جو چٹانوں کو کاٹ کر بنائی گئی ہیں۔ چند اور قبریں ہیں جن پر کوئی تحریر نہیں ہے۔

طب[ترمیم]

ہخامنشی عہد میں جراہوں اور طبیبوں کا ایک منعظم طبقہ موجود تھا۔ جن کی فیس حکومت کی طرف سے مقرر تھی۔ پھر بھی ان کے طب پر توہمات کا اثر موجود تھا۔ وہ زیادہ تر امراض کو روح خبیثہ یا دیوؤں کے تسلط کا نتیجہ سمجھتے تھے اور ان کو دور کرنے کے لیے زیادہ تر جھاڑ پھونک اور جادو ٹونکے کی ضرورت محسوس کرتے تھے۔ ان کا عقیدہ تھا ایک ہزار میں ۹۹۹ مرض دیوؤں کے پیدا کئے ہوئے ہیں اور ان اطبا کے بجائے مذہبی طبقہ کے لوگ نجات دلاسکتے ہیں۔

شہر اور عمارتیں[ترمیم]

پارسیوں نے دو شہر پرسومش Parsumash اور پرساگرد Parsagarda آباد کیئے تھے۔ جن میں پرساگر یا پسر گدایہ کو زیادہ شہرت ہوئی۔ یہیں خورس اول نے ہخامنشی سلطنت کی بنیاد رکھی تھی۔ آج کل اس کا نام مشہد مرغاب کے نام سے موسوم ہے۔ یہاں خورس اعظم نے معتدد بڑی بڑی عمارتیں بنوائیں تھیں، جن میں ایک چھ منزلہ سنگین عمارت تھی۔ جس کے ستون اب بھی موجود ہیں۔ اس کو آج کل مادر سلیمان کی قبر کہتے ہیں۔ محققین کا خیال ہے یہ خورس اول کی قبر ہے۔ وہاں پر ایک کتبہ بھی ہے، جس پر لکھا ہوا ہے ’میں خورس ہخامنش بادشاہ ہوں‘ ان عمارتوں کے درمیان پتھروں پر برجستہ کاری کے چند نمونے ملتے ہیں۔ دارا نے دارلحکومت پرساگر یا پسر گدائی کے جنوب و مغرب میں تقریباً پچیس میل کے فاصلے پر ایک نیا شہر آباد کیا اور وہاں ایک محل تعمیر کرایا جو ظخر Tachara کے نام سے مشہور تھا۔ اسی طخر کی طرف منسوب ہوکر پورے شہر کا نام اصظخر Istakhr پر گیا جس کو یونانی زبان میں پرسی پولس Persepois اور پارسی تخت جمشید کہتے ہیں۔ دارا نے اسی نو آباد شہر کو اپنا دارلحکومت بنایا اور اس کو ہر لحاظ ترقی دینے کی کوشش کی۔ یہ شہر تین مظبوط فصیلوں سے گھرا ہوا تھا، جن میں ایک فصیل مینارو اور ستونوں کی قطاروں پر مشتمل تھی اور پہاڑوں کی چوٹیوں پر سے گزرتی تھی۔ خاص عمارتیں ایک مستطیل نما نا ہموار قطہ پر واقع تھیں۔ ان کے بیچ میں وہ شاہی قیصر تھا جو طخر کے نام سے مشہور تھا۔ اس محل کے درمیان پچاس فٹ مربع کا ایک وسیع کمرہ تھا، جس کی دیواروں پر برجستہ کاری کے نمونے تھے اور تواتر کے ساتھ یہ الفاظ لکھے ہیں جو آج بھی موجود ہیں۔ ’میں دارا بڑا بادشاہ، بادشاہوں کا بادشاہ، ملکوں کا بادشاہ، ہستاسب کا بیٹا جس نے یہ محل تعمیر کرایا ہے‘۔ اس کے علاوہ ایک دوسرا بہت بڑا کمرہ تھا جس معتدد دروازے تھے اور عمارت کے مختلف حصوں کی طرف کھلتے ہیں۔ اس قیصر سے متصل ایک دوسری عمارت ہے جس کو آج کل ٹرپی لون Trrpylon کہتے ہیں۔ شاید یہ شاہی ایوان تھا۔ اس کے زینہ دار راستوں کی رویف پر امراء کی شکلیں کھدی ہوئی ہیں جن کو اوپر جاتے ہوئے دیکھایا گیا ہے۔ مشرقی پھاٹک کے سامنے دارا کا مجسمہ کندہ ہے جو تخت پر بیٹھا ہوا ہے اس کے پیچھے ایک شخص کھڑا ہوا ہے جو شاید اس کا ولی عہد خشیار شاہ ہے۔ اس عمارت میں برجستہ کاری کے نمونوں میں اٹھائیس شکلیں ملتی ہیں جو اس کی اٹھائیس سٹراپیوں کی نمائندگی کرتی ہیں۔

اس عمارت کے بعد ایک عمارت ہے جس کی تعمیر کا دارا کے عہد شروع ہوا اور تکمیل خشیارشا کے عہد میں ہوئی تھی۔ یہ عمارت اپادان Apadan یا تالار خشیارشا Hall of xerxs کے نام سے مشہور ہے اور تقریباً 195 فٹ لمبا اور اتنا ہی چوڑا ہے۔ اس کی چھت لکڑی کی تھی جو امتداد زمانہ سے ختم ہوگئی۔ یہ بہتر 72 ستونوں پر قائم تھی۔ جن میں سے تیرہ ستون اب بھی کھڑے ہیں۔ ستونوں کی کی بلندی تقریباً چونسٹھ 62 فٹ ہے۔ اس کے زینوں کے ردیف پر بھی معتدد شکلیں کھدی ہوئی ہیں۔ ان میں تیس محکوم قوموں کے سفراء ہیں جو بادشاہ کو نوروز کا تحفہ پیش کرنے آئے ہیں۔

اس تالار کے پیچھے دوسرا تالار ہے جو سو ستونوں پر قائم تھا اور تالار صد ستونی Hill of on Handred Columnes کے نام سے موسوم تھا۔ اس کی تعمیر خشیارشا کے زمانے میں شروع ہوئی اور تکمیل اردشیر اول کے عہد میں ہوئی۔ یہ تالار بہت طویل اور عریض 329 مربع فٹ کا تھا۔ مگر اب یہ کلیتہً برباد ہوچکا ہے۔ صرف ستون اور بنیادوں کے نشانات باقی ہیں۔ اصطخر کی دوسری تعمیرات میں دارا اول، خشیارشا اول اور ادر شیر اول کی تعمیرات کے آثار ملتے ہیں۔ جن میں حرم سرائیں اور شاہی خزانے کی عمارتیں شامل ہیں ان کے کھنڈرات ملتے ہیں۔ ان کے علاوہ خشیارشا کا تعمیر کردہ ایک دروازہ جو بہت بھاری اور شاندار تھا۔ اس کے دونوں جانب آشوری طرز پر، قوی ہیکل سانڈوں کے مجسمے نصب تھے۔

مذکورہ شہروں کے علاوہ دوسرے مقامات پر ہخامنشی حکمرانوں کی تعمیرات کے آثار ملتے ہیں۔ شیراز اور داراب گرد کے درمیان سروستان و فیروز آباد کے نذدیک ایک گنبد اور دو محرابیں ہیں جو خورس اعظم کے تعمیر کردہ بتائے جاتے ہیں۔ اس طرح شوشہ یا شوشShushan بھی کہتے ہیں یہ عیلامیوں کا نے اس کو اپنا مستقرر بنا لیا تھا۔ اس کے بعد ہخامنشی اس ہر قابض ہوگئے اور اس کا نام ہخامنشی کتبوں میں انشان آیا ہے۔ وہاں ایک عمارت ہے جس کی بنیادیں دار نے رکھی تھی مگر تکمیل خشیارشا کے دور میں ہوئی۔ اس جگہ دارا کا ایک کتبہ ملا ہے جو بتاتا ہے اس کی تعمیر و تزئین کے لیے دور دراز سے سامان مگائے گئے تھے۔ مثلاً سنگین ستون افروڈیسیا Aphrodisiasسے، سدار Cedar لبنان سے، چاندی مصر سے، سونا مصر سے اور ہاتھی دانت ہندوستان سے درآمد ہوئے تھے۔ اس دیوریں خام انیٹوں اور چونے سے تعمیر ہوئی تھیں، جن کے اوپر رنگین اور چمکدار ٹائلیں لگائی گئی تھیں۔ اس عمارت کا خاص حصہ مختلف وسعتوں کے تین صحنوں پر مشتمل تھا جن کے چاروں طرف بڑے بڑے کمرے اور برآمدے تھے۔

تجارت[ترمیم]

ایرانیوں کو ان کے سیاسی عروج کے ساتھ تجارتی اہیت بھی حاصل ہوئی، مگر ایرانیوں نے تجارت کی طرف کبھی خود اپنا نے کی کوشش نہیں کی، ان کے ملک کی تجارت غیر ملکی فنیقیوں، یہودیوں، بابلیوں اور یونانیوں کے ہاتھ میں تھی۔ اگرچہ اہم اور بڑی شاہراہیں ان کے ملک سے گرتی تھیں اور مشرق اور مغرب کی تجارت ایران کے راستہ سے ہوتی تھی۔

سکے[ترمیم]

دارا پہلا ایرانی بادشاہ تھا جس نے سونے اور چاندے کے سکوں کا اجزا کیا تھا۔ یہ دریک Daric کہلاتے تھے اور اس پر دارا کی شکل نقش ہوتی تھی۔ ہخامنشی عہد کے سٹراپوں نے سکے جاری کئے تھے جن کہ چند نمونے دستیاب ہوئے ہیں۔ یہ سکے مختلف اوزان اور قیمتوں کے ہیں۔

سلطنت کی حدود[ترمیم]

ہخامنشی سلطنت جس کی ابتدا 700 ق م میں ہوئی تھی، لیکن حقیقت میں اس کی ابتدا خورس دوم 559 ق م میں ہوئی تھی۔ جس نے تین بڑی سلطنتوں میدیا، بابل اور لیڈیا کو زیر دست کرکے فارس کی ایک چھوٹی سی ریاست کو ایک عظیم بادشاہی میں تبدیل کر دیا تھا اور اس کی انتہائی وسعت دارا کے عہد میں ہوئی تھی۔ نقس رستم پر دارا خود اپنی سلطنت کی حدود کو بتایا تھا۔ اس کتبہ کے مطابق بحیرہ ایڈریاٹک و قرطاجنہ اور مشرق میں دریائے سندھ تک پھیلی ہوئی تھی۔ اس طرح شمال میں ماورالنہر و جنوب میں حبشہ اس کی حد بندی کرتا تھا۔ حقیقت میں اس پہلے اتنی بڑی سلطنت کا تاریخ میں کوئی نشان نہیں ملتا ہے۔

ہخامنشی حکمرانوں کی فہرست[ترمیم]

نام حکمرانی کا عرصہ

  • ہخامنش Hakhamaniess 700۔ 675 ق م
  • چائش پش یا تس یس Chishpish or Teispis 675۔ 655 ق م
  • خورس یا کورش یا قورش یا سائرس Khurus or Kurush or Cyrus 655۔ 600 ق م
  • قبیز یا کمیس یا کموجا Cambyses or Kambjiya 600۔ 559 ق م
  • خورس یا کورش یا قورش یا سائرس دوم Khurus or Kurush or Cyrus 3ed 559۔ 529 ق م
  • کمبوجا قنبوجا دوم Cambyses 2ed 529۔ 522 ق م
  • دارا یا داریوش اول Daruess 1th 522۔ 486 ق م
  • خشیارشا یا کیخسرو یا کزرک رس اول Khshayasha or Xeraces 486۔ 465 ق م
  • ارتاکزرسس یا ارتخشتر یا ارد شیر اول (دراز دست) Artaxerxes or Ardsher11th (Longimanus) 465۔ 424 ق م
  • دارا دومDaruess 2d 424۔ 404 ق م
  • ارتخشتر یا اردشیر دوم 2ed Artaxerxes or Ardsher 404۔ 350 ق م
  • ارتخشتر یا ارد شیر سوم 3ed Artaxerxes or Ardsher 359۔ 338 ق م
  • ارشک یا اورسی Arsaces or Orses 338۔ 336 ق م
  • دارا سوم Daruess 3ed 336۔ 330 ق م

ماخذ[ترمیم]

ڈاکٹر معین الدین، قدیم مشرق جلد دؤم

تصاویر[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ Yarshater, Ehsan (1993). The Cambridge History of Iran, Volume 3. Cambridge University Press. p. 482. ISBN 978-0-521-20092-9. "Of the four residences of the Achaemenids named by هيرودوتEcbatana, تخت سلیمان or تخت جمشید, سوسن (شہر) and بابل — the last [situated in Iraq] was maintained as their most important capital, the fixed winter quarters, the central office of bureaucracy, exchanged only in the heat of summer for some cool spot in the highlands. Under the Seleucids and the Parthians the site of the Mesopotamian capital moved a little to the north on the دریائے دجلہ — to Seleucia and Ctesiphon. It is indeed symbolic that these new foundations were built from the bricks of ancient بابل, just as later بغداد, a little further upstream, was built out of the ruins of the Sassanian double city of Seleucia-Ctesiphon."
  2. ^ Harald Kittel, Juliane House, Brigitte Schultze; Juliane House; Brigitte Schultze (2007). Traduction: encyclopédie internationale de la recherche sur la traduction. Walter de Gruyter. pp. 1194–5. ISBN 978-3-11-017145-7. http://books.google.com/?id=oD0dBqGDNscC.
  3. ^ Boiy, T. (2004). Late Achaemenid and Hellenistic Babylon. Peeters Publishers. p. 101. ISBN 978-90-429-1449-0.
  4. ^ Yarshater (1996, p. 47)
  5. ^ Security and Territoriality in the Persian Gulf: A Maritime Political Geography by Pirouz Mojtahed-Zadeh, page 119
  6. ^ 6.0 6.1 http://www.livius.org/maa-mam/maka/maka.html
  7. ^ 7.0 7.1 Behistun Inscription
  8. ^ Josef Wiesehöfer, Ancient Persia, (I.B. Tauris Ltd, 2007), 119.