حسنی مبارک

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
حسنی مبارک

2009ء میں لی گئی ایک تصویر

مصر کے چوتھے صدر
در منصب
14 اکتوبر 1981ء – 11 فروری 2011ء
وزیرِ اعظم احمد فواد محی الدین
کمال حسن علی
علی محمود لطفی
عاطف صدقی
کمال غنزوری
عاطف عبید
احمد نزیف
احمد شفیق
نائب صدر عمر سلیمان
پیشرو صوفی ابو طالب (نگران)
جانشین محمد حسین طنطاوی (نگران)[b]

مصر کے پچاسویں وزیر اعظم
در منصب
7 اکتوبر 1981ء – 2 جنوری 1982ء
صدر صوفی ابو طالب (نگران)
پیشرو انور السادات
جانشین احمد فواد محی الدین

مصر کے پندرہویں نائب صدر
در منصب
16 اپریل 1975ء – 14 اکتوبر 1981ء
صدر انور السادات
پیشرو حسین الشافی
جانشین عمر سلیمان[a]

پیدائش 4 مئی 1928 (1928-05-04) ‏(85)
کفر المسیلحا, مصر
پیدائشی نام محمد حسنی سید مبارک
سیاسی جماعت نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی (مصر)
ازواج سوزان مبارک
بچے علاء مبارک
جمال مبارک
مادر علمی Egyptian Military Academy
Soviet military academies]]
مذہب اہل سنت[حوالہ درکار]
دستخط
فوجی خدمات
وفاداری مصر
نوکری/شاخ مصری فضائیہ
عہدہ امیرسالار فضائیہ(ائیر چیف مارشل)
a. ^  14 اکتوبر 1981 سے 29 جنوری 2011 تک دفتر خالی رہا
^  بطور چئیر مین

حسنی مبارک مشرق وسطی کے ملک مصر کے سابق صدر ہیں۔

ابتدائی زندگی[ترمیم]

1928ء میں قاہرہ کے نزدیک مینوفیہ کے صوبے میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے قاہرہ کی امریکی یورنیورسٹی سے فارغ التحصیل ہونے والی خاتون سوزین سے شادی کی جن سے ان کے دو بچے جمال اور علاء ہیں۔ انہوں نے ایک نہایت مشکل دور میں فوج میں شمولیت اختیار کی۔ اور اس اعلیٰ عہدے تک پہنچے ۔ انھوں نے تباہ حال مصری فضائیہ کی ازسر نو تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔

صدارت[ترمیم]

بظاہر ایک بے ضرر شخصیت ہونے کی وجہ سے اس وقت کے صدر نے انہیں اپنا نائب مقرر کیا۔ صدر سادات کو اسلامی جہاد سے تعلق رکھنے والے شدت پسندوں نے قاہرہ میں ایک فوجی پریڈ کے دوران فائرنگ کر کے ہلاک کردیا جس کے بعد اکتوبر سن انیس سو اکیاسی میں محمد حسنی سید مبارک منصب صدارت پر فائز ہوئے۔ صدر انوار السادات کے قتل کے وقت نائب صدر کے عہدے پر فائز حسنی مبارک کے بارے میں بہت کم لوگوں کو یہ توقع تھی کہ وہ اتنے لمبے تک برسرِ اقتدار رہیں گے۔ لیکن انہوں نے صدر سادات کے قتل کی وجہ بننے والے اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے کو عالمی سطح پر اپنی صلاحیتیں منوانے کے لیے استعمال کیا۔ یوں وہ مغربی طاقتوں کے منظور نظر بن کر مصر کے عنان بادشاہ بن گئے۔ انہوں نے اپنے پورے عرصۂ اقتدار میں ملک میں ہنگامی حالت کے سہارے حکومت کی جس کے تحت شہری آزادیاں سلب کرلی گئیں اور فوج اور سیکیورٹی اداروں کو وسیع اختیارات حاصل رہے۔حکومت کا اصرار تھا کہ شدت پسنداسلامی گروپوں کی دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے یہ قوانین ضروری ہے تاکہ مصر میں سیاحت کی انتہائی اہم صنعت کو بچایا جاسکے۔

زوال[ترمیم]

صدر مبارک کے دوراقتدار میں ملک میں بظاہر استحکام رہا اور معاشی خوشحالی آئی اور شاید اسی وجہ سے مصریوں نے ان کے بلاشرکت غیرے اقتدار کو قبول کیا۔مگراندرون ملک بڑھتی ہوئی بے چینی، علاقائی سیاست میں ان کی گھٹتی ہوئی اہمیت اور بگڑتی صحت کے ساتھ ساتھ ان کے بعد جانشینی کے حوالے سے پیدا ہونے والے سوالات نے مصری عوام میں مختلف شبہات کو جنم دیا۔ تیونس میں انقلاب کے بعد جنوری 2011 میں مصری عوام میں بیداری کی ایک لہر نے جنم لیا۔ اور عوام حسنی مبارک کے خلاف سڑکوں پر نکل آئی۔ قاہرہ کا تحریر سکوائر جمہوریت پسند لوگوں کا ٹھکانہ بن گیا۔ صدر کی جانب سے عوام کو خوش کرنے کے لیے بہت سے اقدامات کیے گئے ۔ لیکن ان کے ان اقدامات کا کوئی اثر نہ ہوا۔ آخر کار 10 فروری کو انہوں نے اعلان کیا کہ وہ ستمبر میں ہونے والے انتخابات میں حصہ نہیں لیں گے۔ لیکن عوام نے ان کے اس اقدام کا بھی خیر مقدم نہیں کیا۔ ان کا مطالبہ تھا کہ صدر حسنی مبارک اقتدار سے علیحدہ ہو جائیں۔


سبکدوشی[ترمیم]

بالآخر مصری عوام کے 18 روزہ احتجاج کے بعد 11 فروری 2011ء کو مصری نائب صدر عمر سلیمان نے ان کے صدارتی عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا۔


حوالہ جات[ترمیم]



بیرونی روابط[ترمیم]

فوجی دفاتر
پیشرو
علی مصطفٰی بغدادی
کمانڈر مصری فضائیہ
1972–1975
جانشین
محمود شاکر
سیاسی دفاتر
پیشرو
حسین الشافی
مصری نائب صدر
1975–1981
خالی
عہدے پر اگلی شخصیت
عمر سلیمان
پیشرو
انور السادات
مصری وزیراعظم
1981–1982
جانشین
احمد فواد محی الدین
پیشرو
صوفی ابوطالب
نگران
صدر مصر
1981–2011
جانشین
محمد حسین طنطاوی
نگران
بطور چئرمین "مصری مسلح افواج"]]
سیاسی جماعتوں کے عہدے
پیشرو
انور السادات
نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی (مصر)
1982–2011
جانشین
احمد شفیق
سفارتی عہدے
پیشرو
موسٰی تراورے
چئرمین افریقی اتحاد
1989–1990
جانشین
یووری مسوینی
پیشرو
عبدو دیوف
چئرمین تنظیم افریقی اتحاد
1993–1994
جانشین
زین العابدین بن علی
پیشرو
راول کاسٹرو
تحریک غیر متعہد
2009–2011
جانشین
محمد حسین طنطاوی