حسن ابدال

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش



حسن ابدال
Hasan Abdal
عمومی معلومات
ملک Flag of Pakistan.svg پاکستان
صوبہ پنجاب
ضلع اٹک
محل وقوع 33.822 درجے شمال، 72.686 درجے مشرق
آبادی 70000
منطقۂ وقت معیاری عالمی وقت +5
حسن ابدال is located in پاکستان
حسن ابدال

پاکستان میں حسن ابدال کا مقام


حسن ابدال، ضلع اٹک،پاکستان کے صوبہ پنجاب کی شمالی سرحد کے قریب واقع ایک تاریخی شہر ہے۔ یہ جی ٹی روڈ پر شاھراہ قراقرم کے شروع پر واقع ہے ۔ راولپنڈی سےلگ بھگ ۴۰ کلومیٹر شمال مغرب میں واقع اس قصبے کی موجودہ آبادی ۵۰،۰۰۰ سے زیادہ ہے ۔ حسن ابدال اپنے خوبصورت تاریخی مقامات اور سکھ مذہب کی ایک اہم عبادت گاہ گردوارہ پنجہ صاحب کی وجہ سے مشہور ہے۔ ہر سال دنیا کے مختلف حصوں سے ہزاروں سکھ زاٰئرین بیساکھی کے میلہ پر گردوارہ پنجہ صاحب پر حاضر ہو کر اپنی مذہبی رسومات ادا کرتے ہیں ۔ دوسرے تاریخی مقامات میں مقبرہ لالہ رخ کے نام سے مشہور مغلیہ دور کا ایک مقبرہ اور بابا حسن ابدال کا حجرہ شامل ہیں ۔ مقبرہ لالہ رخ کے نام سے مشہور تاریخی مقام چوکور احاطے میں واقع ایک قبر اور مچھلیوں والے تازہ پانی کے ایک چشمے پر مشتمل ہے ۔ شہر حسن ابدال ایک پہاڑی کے دامن میں آباد ہے ۔ مقامی لوگوں کے مطابق اس پہاڑی کی سب سے بلند چوٹی پر بابا ولی قندہاری نام کے ایک ولی اللہ کا مقام قیام ہے ۔ تاریخی حوالوں کے مطابق انہی ولی اللہ کا اصلی نام بابا حسن ابدال ہے اور قصبے کا نام بھی انہی کے نام سے ماخوذ ہے [1]۔

تاریخ[ترمیم]

مشہور چینی سیاح ھیون تسانگ جس کا اس مقام سے ساتویں صدی عیسوی میں گذر ہوا ایلاپاترا نامی ایک مقدس چشمے کا ذکر کرتا ہے جو ٹیکسلا سے ۷۰ لی شمال مغرب میں ،یعنی حسن ابدال کے موجودہ مقام پر واقع تھا [2] - اس قصبے کا ذکر آئن اکبری میں اس حوالے سے آیا ہے کہ شمس الدین نے یہاںاپنے لئے ایک مقبرہ تعمیر کروایا تھا جس میں حکیم ابو فتح دفن ہے۔ کشمیر سے واپسی پر اکبر کے یہاں سے گذرنے کا بھی ذکر ہے [2]۔ ولیٔم فنچ نے اپنے ہندوستان کے سفر کی روداد میں سنہ ۱۶۰۸ اور۱۶۲۱ عیسوی کے حسن ابدال کو ایک خوشگوار قصبہ بیان کیا ہے جس کے قریب سے ایک ندی گذرتی ہے اور جہاں کے شفاف پانی کے چشموں میں تیرتی مچھلیوں کی ناکوں میں سنہری نتھوں کا ذکر ہے ۔ پانی اس قدر شفاف تھا کہ چشمے کی تہہ میں پڑا سکہ بھی صاف نظر آتا تھا[1] ۔مغل شہنشاہ جہانگیر اس شہر کا ذکر تزکِ جہانگیری میں باباحسن ابدال کے نام سے کرتا ہے ۔ جہانگیر کے اس شہر میں تین دن قیام کا بھی ذکر ہے ۔ اس جگہ کی تعریف میں اس نے چھوٹی سی پہاڑی کے دامن سے نکلنے والے چشمے کے انتہائی شفاف اور میٹھے پانی کا ذکر کیا ہے[1]۔مختلف مغل بادشاہوں کے کشمیر کی جانب سفر پر اس جگہ سے ہو کر گذرنے کا ذکر ملتا ہے[3] ۔سکھ مذہب کے بانی گرونانک ۱۵۲۱ء میں حسن ابدال پہنچے ۔ ان کی جائے قیام پر بعد میں ان کی یاد میں ایک گوردوارہ تعمیر کیا گیا ۔ گوردوارے میں پتھرکی ایک چٹان پر ہاتھ کا ایک نشان کندہ ہے جسے باباگورونانک کی ایک کرامت کا نتیجہ بتایا جاتاہے[3] ۔

تعلیم[ترمیم]

شہر میں کئی سرکاری پرائمری اسکولوں میں لڑکوں اور لڑکیوں کے لئے ایک ہائی اسکول کے ہر لڑکے اور لڑکیوں کے لئے ایک اعلی ثانوی اسکول کی ہر اور خواتین کے لئے ایک ڈگری کالج ہے. یہاں نجی چلانے سکولوں کی ایک بڑی تعداد سرکاری کی کمی اسکولوں کے لئے قضاء ہیں.

شہر کی حدود کے علاقے میں ایک مشنری بلایا پیش کانوےنٹ سکول واہ جو لڑکیوں کے لئے ہائی اسکول کی تعلیم کی پیشکش اسکول ہے.

اوپر اسکولوں ہے کہ مقامی آبادی کے لیے ضروریات کو پورا کرنے کے علاوہ میں، ایک فوجی سٹائل لڑکوں رہائشی اسکول جس میں 8th سے 12th گریڈ کو لڑکوں اندراج ہے اور اصل میں انہیں ایک فوجی کیریئر کے لئے تیار کی بنیاد رکھی ہے. ڈائریکٹرز کے ایک بورڈ کی طرف سے کیڈٹ کالج حسن ابدال کا انتظام کیا جاتا ہے اور پنجاب کی صوبائی حکومت سے منسلک ہے.

دوسری عالمی جنگ کے دوران علاقے جہاں کیڈٹ کالج حسن ابدال واقع ہے، ایک برطانوی ہوا پٹیاں اور بھرتی اور تربیت کا مرکز تھا

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ 1.0 1.1 1.2 ھندوستان کے اولین انگریز سیاح از رام چندر پرشاد (ماخذ انگریزی زبان میں ہے)
  2. ^ 2.0 2.1 ای۔ جے۔برل کا پہلا اسلامی دائرۃ المعارف ۱۹۱۳ ۔۱۹۳۶ (ماخذ انگریزی زبان میں ہے)
  3. ^ 3.0 3.1 آرکیالوجیائی اور تاریخی مقامات(ماخذ انگریزی زبان میں ہے)
Incomplete-document-purple.svg یہ ایک نامکمل مضمون ہے۔ آپ اس میں اضافہ کرکے ویکیپیڈیا کی مدد کر سکتے ہیں۔