حسینہ معین

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

حسینہ معین پاکستان کی مشہور لکھاری اور ڈرامہ نویس ہیں۔ اُنہوں نے ریڈیو اور ٹیلی وژن کے لیے پاکسستان اور ملک سے باہر بہت سے ڈرامے لکھے۔ اُنہیں حکومتِ پاکستان کی طرف سے تمغا حسن کارکردگی بھی دیا گیا ہے۔

حسینہ معین
پیدائش 20 نومبر 1941 (1941-11-20) ‏(72)
کانپور, (انڈیا)
وفات
قلمی نام حسینہ معین
پیشہ مکالمہ نگاری و افسانہ نویسی
قومیت پاکستانی
نژادیت ہندوستانی
شہریت پاکستانی
تعلیم ایم اے ۔ تاریخ
مادر علمی جامعہ کراچی
لکھائی دور 1960 سے تاحال
صِنف خاتون
موضوعات خواتین، گھریلو معاملات ، محبت
نمایاں کام شہزوری ، تنہائیاں ، دھوپ کنارے
نمایاں اعزاز(ات) تمغۂ حسن کارکردگی ، پی ٹی وی ایوارڈ


ابتدائی زندگی[ترمیم]

وہ 20 نومبر 1941ء کو بھارت کے شہر کانپور میں پیدا ہوئیں ۔ حسینہ معین نے ابتدائی تعلیم کانپور سے حاصل کی۔ تقسیم ہند کے بعد وہ ہجرت کر کے پاکستان اگیں۔ وہ کافی سالوں تک راولپنڈی میں رہیں، پھر لاہور چلی گیں اور 1950ء میں کراچی میں مقیم ہو گیں۔ اُنہوں نے جامعہ کراچی سے 1963ء میں تاریخ میں ماسڑ کیا۔

ڈرامے[ترمیم]

اُنہوں نے پاکستان ٹیلی وژن کے لیے بہت سے یادگار ڈرامے لکھے، جیسے، شہزوری، زیر زبر پیش، انکل عرفی، ان کہی، تنہایاں، دھوپ کنارے،دھند، آہٹ، کہر، پڑوسی، آنسو، بندش، آئینہ جیسے مشہور ڈرامے شامل ہیں۔

فلم[ترمیم]

اُنہوں نے فلم کے لیے بھی کام کیا ہے۔ اُنہوں نے راج کپور کی درخواست پر ہندی فلم حنا کے مکالمات لکھے تھے۔ پھر اُنہوں نے ایک پاکستانی فلم کہیں پیار نہ ہو جائے لکھی تھی۔ اس سے پہلے وہ پاکستانی فلم نزدیکیاں اور وحید مراد کی فلم یہاں سے وہاں تک کے مکالمات بھی لکھ چکی ہیں۔