حسین ابن علی (شریف مکہ)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

پیدائش: 1856ء

انتقال: 1931ء

اصل نام سید حسین ابن علی ہاشمی تھا۔ یہ رسول پاک صلعم کے خاندان سے تھا اور اس وجہ سے 1908ء میں شریف مکہ کا اعزاز حاصل کیا۔ پہلی جنگ عظیم میں جب انگریزوں کو ترکوں کے خلاف کو کوئی کامیابی حاصل نہیں ہو رہی تھی ایک انگریز جاسوس لارنس آف عریبیہ کے ساتھ مل کر اسنے خلافت عثمانیہ کے خلاف بغاوت کر دی جس کے نتیجے کے طور پر ترکوں کو شکست ہوئی۔

اسکے ایک بیٹے امیر فیصل کو عراق کا بادشاہ بنا دیا گیا اور ایک کو اردن کا۔ 1924ء میں نجد کے فرمانروا ابن سعود سے شکست کھا کر تخت سے دست بردار ہوگیا۔ 1924ء سے 1931ء تک قبرص میں جلاوطن رہا۔ اردن کے درالحکومت عمان میں وفات پائی۔

اپنے مزہب اور اپنی قوم سے اسکی غداری کی سزا عرب اب بھی اسرائیل کی صورت میں بھگت رہے ہیں۔ اقبال نے اس غداری کو ایک شعر میں یوں بیان کیا ہے:

کیا خوب امیر فیصل کو سنوسی نے پیغام دیا

تو نام و نسب کا حجازی تھا پر دل کا حجازی بن نا سکا