حسین احمد مدنی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

حسین احمد مدنی اتر پردیش ’’بھارت‘‘ کے ضلع اناؤ کے ایک گاؤں میں پیدا ہوئے۔آپ کا آبائی وطن موضع الہ داد پور ٹانڈہ ضلع فیض آباد (یوپی) ہے۔ ابتدائی تعلیم دیوبند میں پائی اور حضرت مولانا محمود حسن شیخ الہند سے کسب فیض کیا۔ حضرت شیخ الہند کی صحبت میں آپ کے دل میں حب الوطن کے جذبات پیدا ہوئے ۔ اور آپ سیاسیات میں حصہ لینے لگے۔ 1913ء کے اواخر میں حجاز تشریف لے گئے اور مدینہ منورہ کے دارالحدیث میں تعلیم دینے لگے۔ 1914ء میں پہلی جنگ عظیم چھڑی تو دیگرمسلمان رہنماؤں کے ساتھ آپ نے بھی ترکوں کے حق میں آواز اٹھائی ۔ ان دنوں شیخ الہند بھی مدینہ ہی میں تھے۔ شریف مکہ نے دونوں حضرات کو انگریزوں کے سپرد کردیا۔ جنھوں نے انھیں مالٹا بھیج دیا۔ جنگ کے بعد آپ کو رہائی نصیب ہوئی۔ اس کے بعد 1921ء میں تحریک خلافت اور ترک مولات کے سلسلے میں آپ پر مقدمہ چلااور تین سال کی سزا ہوئی۔ قید کاٹنے کے بعد آپ درس و تدریس میں مشغول ہوگئے۔ اور سیاسی سرگرمیوں میں بھی حصہ لیتے رہے۔ حضرت مولانا ایک بہت بڑے عالم تھے۔ مولانا محمود حسن کے بعد آپکو شیخ الہند کا خطاب دیا گیا آپ دارالعلوم دیوبند کے اعزازی صدر تھے۔ آپ کے شاگردوں اور معتقدوں کی تعداد لاکھوں تک پہنچتی ہے۔

متنازعہ[ترمیم]

آپ متحدہ ہندوستانی قومیت کے حامی تھے اور آخری دم تک قیام پاکستان کی مخالفت کرتے رہے اور علامہ اقبال اور قائد اعظم پر تنقید کرتے رہے۔ علامہ اقبال کے مطابق اسلام کا نظریہ قومیت وطن نہیں بلکہ دین کی بنیاد پر تشکیل پاتا ہے۔علامہ اقبال نے مولانا حسین احمد مدنی کے نظریہ قومیت پر تنقید کرتے ہوئے اپنی مشہور نظم حسین احمد لکھی ہے:

حسین احمد عجم ہوز نداند رموز دین ورنہ
ز دیو بند حسین احمد ایں چہ بوالعجبی است
سر برسر منبر کہ ملت از وطن است
چہ بے خبرز مقام محمد عربی است
بمصطفے برساں خویش را کہ دیں ہمہ اوست
اگر بہ او نہ رسیدی تمام بو لہبی است

  • مولانا حسین احمد مدنی کا نظریہ مکتوبات شیخ الاسلام ج 3 ص 130مطبوعہ مکتبہ دینیہ دیوبند لکھا ہے کہ( قومیں اوطان سے بنتی ہیں) اس کی نسبت میری طرف کرنی غلط ہے اسی طرح ص139 پر (میں نے مسلمانوں کو قومی طنیت قبول کرنے مشورہ نہیں دیا ۔مولانا حسین احمد مدنی)کے بیان کے بعدعلامہ اقبال کا تردیدی بیان بھی درج ہے کہ(مجھے اس اعتراف کے بعد ان پر اعتراض کرنے کا کوئی حق نہیں رہتا )علامہ اقبال کا مکتوب (بحوالہ بالا)

بیرونی روابط[ترمیم]

مدونات[ترمیم]