حضرت خدیجہ
وکیپیڈیا سے
| بسلسلۂ مضامینِ اسلام ازواج مطہرات |
|---|
حضرت خدیجہ ، مکہ کی ایک معزز، مالدار، عالی نسب خاتون جن کا تعلق عرب کے قبیلے قریش سے تھا۔ جو حسن صورت و سیرت کے لحاظ سے "طاہرہ" کے لقب سے مشہور تھیں۔ انھوں نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو تجارتی کاروبار میں شریک کیا اور کئی مرتبہ اپنا سامانِ تجارت دے کر بیرون ملک بھیجا۔ وہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی تاجرانہ حکمت، دیانت، صداقت، محنت اور اعلی اخلاق سے اتنی متاثر ہوئیں کہ آپ نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو شادی کا پیغام بھجوایا۔ جس کو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنے بڑوں کے مشورے سے قبول فرمایا۔ اس وقت ان کی عمر چاليس سال تھی جبکہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم صرف پچیس سال کے تھے۔ حضرت خدیجہ نے سب سے پہلے اسلام قبول کیا اور پہلی ام المومنین ہونے کی سعادت حاصل کی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ساری کی ساری اولاد خدیجہ رضي اللہ تعالی عنہا سے پیدا ہوئ اورصرف ابراھیم جوکہ ماریہ قبطیہ رضي اللہ تعالی عنہا سے تھے جوکہ اسکندریہ کے بادشاہ اورقبطیوں کےبڑے کی طرف سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوبطورھدیہ پیش کی گئ تھیں ۔
فہرست |
[ترمیم] حدیث میں ذکر
حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم حضرت خدیجہ کو بہت یاد کرتے تھے۔ حافظ ابن کثیر نے مختلف لوگوں سے روایت لکھی ہے[1] کہ حضرت عائشہ نے فرمایا کہ ایک دن حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ان کے سامنے حضرت خدیجہ کو یاد کر کے ان کی بہت زیادہ تعریف و توصیف فرمائی تو حضرت عائشہ کے بیان کے مطابق ان پر وہی اثر ہوا جو کسی عورت پر اپنے شوہر کی زبانی اپنے علاوہ کسی دوسری عورت کی تعریف سن کر ہوتا ہے جس پر حضرت عائشہ نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو کہا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم آپ قریش کی اس بوڑھی عورت کا بار بار ذکر فرما کر اس کی تعریف فرماتے رہتے ہیں حالانکہ اللہ نے اس کے بعد آپ کو مجھ جیسی جوان عورت بیوی کے طور پر عطا کی ہے۔ اس کے بعد حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ میری زبان سے یہ کلمات سن کر آپ کا رنگ اس طرح متغیر ہو گیا جیسے وحی کے ذریعے کسی غم انگیز خبر سے یا بندگانِ خدا پر اللہ کے عذاب کی خبر سے ہو جاتا تھا۔ اس کے بعد حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا کہ
ان سے بہتر مجھے کوئی بیوی نہیں ملی کیونکہ انہوں نے ایمان لا کر اس وقت میرا ساتھ دیا جب کفار نے مجھ پر ظلم و ستم کی حد کر رکھی تھی، انہوں نے اس وقت میری مالی مدد کی جب دوسرے لوگوں نے مجھے اس سے محروم کر رکھا تھا۔ اس کے علاوہ ان کے بطن سے مجھے اللہ تعالیٰ نے اولاد کی نعمت سے سرفراز فرمایا جب کہ میری کسی دوسری بیوی سے میری کوئی اولاد نہیں ہوئی۔(جو زندہ رہتی)[2]
[ترمیم] وفات
حضرت خدیجہ کی وفات مدینہ کی ہجرت اور نماز فرض ہونے سے پہلے اسی سال ہوئی جب حضرت ابوطالب کی وفات ہوئی۔ اس سال کو عام الحزن کا نام ملا۔ روایات کے مطابق انہیں جنت میں موتیوں سے تیار کردہ گھر ملے گا۔ حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ جبریل علیہ السلام نے ایک دن حاضر ہو کر حضرت خدیجہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ خدیجہ ہیں ان کا ساتھ اور کھانا پینا ہمیشہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ رہے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں سلام بھیجا ہے اور میں بھی انہیں سلام کہتا ہوں۔ اس کے بعد حضرت جبریل علیہ السلام نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے کہا کہ انہیں بشارت دے دیجئے کہ اللہ نے ان کے لیے جنت میں ایک بڑا خوشنما اور پرسکون مکان تعمیر کرایا ہے۔ جس میں کوئی پتھر کا ستون نہیں ہے۔ یہی روایت امام مسلم نے حسن بن فضیل کے حوالے سے بھی بیان کی ہے۔۔۔ اسی روایت کو اسی طرح اسماعیل بن خالد کی روایت سے بخاری نے بھی بیان کیا ہے۔[3]
[ترمیم] اولاد
نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی اولاد کی تعداد سات جن میں تین بیٹے اورچار بیٹیاں ہیں جن کے نام ذيل میں دیے جاتے ہيں :
بیٹے :
1 – القاسم رضی اللہ تعالی عنہ
2 - عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ
3 - ابراھیم رضي اللہ تعالی عنہ
بیٹیاں :
1 - زینب رضي اللہ تعالی عنہا
2 - رقیہ رضي اللہ تعالی عنہا
3 - ام کلثوم رضي اللہ تعالی عنہا
4 - فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا
حضرت فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا کے علاوہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی تمام اولاد ان کی زندگی ہی میں فوت ہو گئی۔