حضرت عبداللہ بن عباس
وکیپیڈیا سے
[ترمیم] حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے اپنی کم سنی اور نو عمری کے باوجود حصولِ علم کے ہر طریقے کو اختیار کیا اور اس راہ میں انتہائی جاں فشانی اور ان تھک محنت سے کام لیا ۔ وہ رسول اللہﷺ کے چشمہ صافی سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی بھر سیراب ہوتے رہے۔ آپ کے وصال کے بعد وہ باقی ماندہ علماء صحابہ کی طرف متوجہ ہوئے اور ان سے بھرپور استفادہ فرمایا۔ وہ اپنے شوقِ علم کا حال بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ "جب کسی صحابی کے متعلق مجھے معلوم ہوتا کہ ان کے پاس رسول اللہﷺ کی کوئی حدیث ہے تو میں قیلولہ کے وقت دوپہر میں ان کے دروازے پرپہنچ جاتا اور اپنی چادر کو سرہانے رکھ کر ان کے گھر کی چوکھٹ پر لیٹ جاتا۔ اس وقت دوپہر کی تیز اور گرم ہوائیں بہت سا گردو غبار اڑا کر میرے اوپر ڈال دیتیں۔ حالانکہ اگر میں ان کے گھر داخل ہونے کی اجازت مانگتا تو مجھے اجازت مل جاتی۔ لیکن میں ایسا اس لیے کرتا تھا کہ ان کی طبیعت مجھ سے خوش ہوجائے۔ جب وہ صحابی گھر سے نکلتے اور مجھے اس حال میں دیکھتے تو کہتے۔ ابن عمِ رسولﷺ آپ نے کیوں یہ زحمت گوارا کی، آپ نے میرے یہاں اطلاع بھجوا دی ہوتی، میں خود حاضر ہو جاتا لیکن میں جواب دیتا، میں آپ کی خدمت میں حاضر ہونے کا زیادہ حقدار ہوں کیونکہ حصول علم کے لیے صاحب علم کے پاس جایا جاتا ہے۔ صاحب علم خود طالب علم کے پاس نہیں جایا کرتے۔ پھر میں ان سے حدیث پوچھتا۔
(زندگیاں صحابہ کی: ڈاکٹر عبدالرحمن رافت پاشا)