یوسف علیہ السلام

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(حضرت یوسف سے رجوع مکرر)
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
مقالہ بہ سلسلۂ مضامین

اسلام
Mosque02.svg
قرآن پاک کے مطابق اسلام میں انبیاء علیہ سلام

رسول اور نبی

آدم علیہ السلام · ادریس علیہ السلام · نوح علیہ السلام · ھود علیہ السلام · صالح علیہ السلام · ابراہیم علیہ السلام · لوط علیہ السلام · اسماعیل علیہ السلام · اسحاق علیہ السلام · یعقوب علیہ السلام · یوسف علیہ السلام · ایوب علیہ السلام · شعيب علیہ السلام · موسیٰ علیہ السلام · ہارون علیہ السلام · ذو الکفل علیہ السلام · داؤد علیہ السلام · سليمان علیہ السلام · الیاس علیہ السلام · الیسع علیہ السلام · یونس علیہ السلام · زکریا علیہ السلام · یحییٰ علیہ السلام · عیسیٰ علیہ السلام · محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم

حضرت یوسف علیہ السلام اللہ تعالٰی کے نبی تھے۔ آپ کا ذکر باءیبل میں بھی ملتاہے۔ آپ حضرت یعقوب علیہ السلام کے بیٹے تھے۔ آپ کا تعلق نبیوں کے خاندان سے تھا۔ گیارہ سال کی عمر سے ہی نبی ہونے کے آثار واضح ہونے لگے۔ آپ نے خواب میں دیکھا کہ گیارہ ستارے، سورج اور چاند آپ کو سجدہ کر رہے ہیں۔ آپ کے والد حضرت یعقوب علیہ السلام نے آپ کو اپنا خواب کسی اور کو سنانے سے منع کیا۔ قرآن مجید کی ایک سورت ان کے نام پہ ہے۔قرٹان نے حضرت یوسف علیہ السلام کے قصے کو احسن القصص کہا ہے۔سورہ انعام اور سورہ غافر میں بھی ان کا ذکر آیا ہے۔ آپ نے 120 سال عمر پائی۔

مدفن [ترمیم]

آپ بیت المقدس میں دفن ہوئے۔ حضرت یوسف علیہ السلام اللہ تعالٰی کے نبی تھے انکے بهائ اس خواب کے بعد ان سے حسد کرنے لگۓ اور ایک دن ان کو اپنے ساته صحرا لےگۓ ان کو ایک کنویں میں ڈال دیا اور اپنے والد محترم حضرت یعقوب علیہ سلام کے پاس آۓ اور کہا کہ یوسف کو بھیڑیا کھا گیا اور انکا کرتا پیش کیا جس پر کسی جانور کا خون لگا کر لاۓ تھے ٠ ایک قافلے والوں کے ھاتھ وہ کنویں سے نکالے گۓ اوراسی قافلے والوں نے انھیں مصر لا کر عزیز مصر کو بطور غلام بیچ ڈالا عزیز مصر نے انھیں اچھی طرح رکھا اور کئ سالوں تک آپ انکے گھر پر رھے اور جوان ہو گۓ جوا نی اور خوبصورتی کے عالم میں عزیز مصر کی بیوی ذلیخاں حضرت یوسف علیہ وسلام کے عشق میں مبتلا ہو گئ اور چاہا کہ یوسف سے جنسی تعلق بناۓ اور انکو اپنے کمرے بلوایا خواش کا اظہار یوسف سے کیا حضرت یوسف علیہ وسلام نے ان کی یہ خواہش رد کردی عزیز مصر کی بیوی نے ذبر دستی کرنی چاہی تو حضرت یوسف علیہ وسلام دروازے کی طرف بھاگے اور خدأۓ پاک کے حکم سے ساتوں دروازے خودبخود کھلتے چلے گۓ آخری دروازے پر عزیز مصر نے ان کو کھڑا پایا
Incomplete-document-purple.svg یہ ایک نامکمل مضمون ہے۔ آپ اس میں اضافہ کرکے ویکیپیڈیا کی مدد کر سکتے ہیں۔