حنیف رامے

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

پیدائش: 1930ء

وفات:جنوری 2006ء


حنیف رامے

پنجاب کے سابق گورنر، وزیر اعلی، دانشور، خطاط اور مصور ۔ حنیف رامے فیصل آباد اور ننکانہ کے قریب گاؤں پنچک بچیکی میں پیدا ہوئے۔ آرائیں کاشتکار برادری سے تعلق رکھنے والے ان کے والد کا نام چودھری غلام حسین تھا۔ دس سال کی عمر میں وہ لاہور آئے اور اسلامیہ ہائی اسکول بھاٹی گیٹ سے تعلیم حاصل کی۔

حنیف رامے نے انیس سو باون میں گورنمنٹ کالج لاہور سے معاشیات میں ایم اے کیا جہاں وہ کا لج کے رسالہ راوی کے مدیر بھی رہے۔ کچھ عرصہ لارنس کالج گھوڑا گلی میں استاد رہے۔ بعد میں اپنے بڑے بھائی چودھری نذیر کے معروف اشاعتی ادارہ مکتبہ جدید سے بطور مدیر وابستہ ہوگئے۔ انہوں نے سال معروف ادبی رسالہ سویرا کی ادارت بھی کی۔حنیف رامے نے سویرا سے الگ ہوکر اپنا رسالہ ہفت روزہ نصرت جاری کیا جو بہت علمی رسالہ تھا اور اس نے جدید علمی نظریات اردو دان طبقہ تک پہنچائے۔ انہوں نے اپنا اشاعتی ادارہ بھی البیان کے نام سے بنایا۔

وہ انیس سو پینسٹھ میں سرکاری ادبی ادارہ مرکزی اردو بورڈ سے وابستہ ہوئے اور اس کے ڈائریکٹر رہے۔کچھ عرصہ صدر فیلڈ مارشل ایوب خان کی کنوینشن لیگ سے وابستہ رہنے کے بعد وہ دسمبر انیس سو سڑسٹھ میں وہ پیپلز پارٹی کی اصولی کمیٹی کے رکن بنے۔ انہوں نے انیس سو ستر میں روزنامہ مساوات جاری کیا جو پیپلز پارٹی کا ترجمان اخبار تھا۔ اسلامی سوشلزم کی اصلاح کو فروغ دینے والوں میں حنیف رامے پیش پیش تھے جو پیپلز پارٹی کے چار بنیادی اصولوں میں سے ایک اصول تھا۔

انیس سو بہتر میں پاکستان پیپلز پارٹی کے عہد میں وہ پہلے پنجاب حکومت میں مشیر خزانہ بنے اور بعد میں مارچ انیس سو چوہتر میں وزیراعلی پنجاب منتخب ہوئے۔ چار جولائی انیس سو چوہتر کو وہ اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے۔حنیف رامے چار جولائی انیس سو پچہتر کو سنیٹر منتخب ہوئے لیکن چند ماہ بعد پارٹی کے سربراہ ذوالفقار علی بھٹو سے اختلافات کی بنا پر پارٹی سے الگ ہوگئے اور فورا پاکستان مسلم لیگ میں شامل ہوگئے جہاں انہیں چیف آرگنائزر بنایا گیا۔اس زمانے میں انہوں نے ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف اخباروں میں زوردار مضامین لکھے جن میں ایک پمفلٹ ’بھٹو جی پھٹو جی’ بہت مشہور ہوا۔

وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے اپنے دیگر دیرینہ ساتھیوں کی طرح حنیف رامے پر بھی ڈیفنس آف پاکستان رولز کے تحت مقدمہ قائم کیا جس پر انہیں دلائی کیمپ میں رکھا گیا اور ایک خصوصی عدالت نے انہیں ساڑھے چار سال قید کی سزا سنادی۔ جنرل ضیاالحق کا مارشل لگتے ہی جولائی انیس سو ستتر میں لاہور ہائی کورٹ نے حنیف رامے کو فورا رہا کرنے کا حکم دیا اور وہ امریکہ چلے گئے۔ وہاں انہوں نے برکلے یونیورسٹی میں استاد کے طور پر کام کیا۔

حنیف رامے چھ سال امریکہ میں گزارنے کے بعد وطن واپس آئے تو انہوں نے مساوات پارٹی کی بنیاد رکھی جس کا نعرہ تھا رب روٹی، لوک راج۔ تاہم یہ پارٹی عوامی مقبولیت حاصل نہیں کرسکی۔ انہوں نے سنہ انیس سو چھیاسی میں اسے غلام مصطفے جتوئی کی قیادت میں بننے والی نئی پارٹی نیشنل پیپلز پارٹی میں ضم کردیا۔ حنیف رامے بارہ سال بعد ایک بار پھر انیس سو اٹھاسی میں پیپلز پارٹی میں شامل ہوگئے اور انیس سو ترانوے میں رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے اور اسمبلی کے سپیکر منتخب ہوگئے۔رامے صاحب نے ایک مشہور کتاب پنجاب کا مقدمہ بھی لکھی۔عمر کے آخر حصے میں انہوں نے قومی اخبارات میں انہوں نے چند مضامین لکھے جن میں عالم اسلام کو جدید دنیا میں اسلام کی ترقی پسندانہ تعبیر اور جدید تعلیم پر زور دینے کا راستہ تجویز کیا۔

حنیف رامے کی پہلی بیوی شاہین رامے سولہ سال پہلے انتقال کرگئیں تھیں اور انہوں نے جائس سکینہ نامی ایک امریکی خاتون سے دوسری شادی کی ۔ ان کی بیٹی مریم رامے اپنے دور کی مہشور گلوکارہ رہیں۔